07:26 am
آبیل مجھے مار

آبیل مجھے مار

07:26 am

جوں جوں مولانا فضل الرحمن کے جتھے کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے حکومت کی بوکھلاہٹ بڑھتی جارہی ہے خوف کے مارے کئی دن پہلے ہی سے تادیبی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔ اندازے لگانے والوں کاکہناہے کہ شاید جتنا خرچہ حکومت مارچ روکنے پر کررہی ہے اتناتو مارچ کرنیوالوں کابھی نہیں ہوگا۔ اب اگر کسی بھی وجہ سے مارچ نہیں بھی ہوتا تب بھی حزب اختلاف جیت چکی ہے تمام قوت واقتدار کے باوجود حکمرانوں کوہلاکررکھ دیاہے،حکومت کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیاہے ابھی مارچ شروع بھی نہیں ہوئی  اور حکومت حرکت میں آگئی ۔مملکت اسلامی پاکستان کے اہل سیاست پر حیرت ہوتی ہے نہ سود نہ کپاس خوامخوا میں لٹھم لٹھا۔ نہ تیل دیکھا نہ تیل کی دھار اور لگے شور مچانے،یہ حکومت اور حکمرانوں کی کمزوری اور نااہلی ہے کہ مفت میں بلا جواز خوف کاشکار ہوکر عوام کوپریشان کرنے کے سوا اور کچھ نہیں حالانکہ حکومت کوحوصلہ بلند رکھناچاہیے تھا جیسا کہ وزیر اعظم نے کہاتھا کہ آئیں دھرنا دیں ہم کنٹینر اور کھانادیں گے۔اگر واقعی وزیر اعظم ایساکرتے تو مارچ اور دھرنے کی آدھی ہوا تو اسی وقت نکل جانی تھی اورعوام کی ہمدردی حکومت کوالگ ملتی۔غیر جانبدار لوگ یاتو بالکل الگ تھلگ رہتے یا حکومت کاساتھ دیتے اب حکومت کی موجودہ کارروائی نے مولانا کواور ان کیساتھ کھڑی سیاسی جماعتوں کو اہم بنادیا ہے۔نیب کے کئے کرائے پر بھی خود حکومت کے جلد  بازی اور خوف کے اظہارنے  پانی پھیردیاہے کل تک جوسیاست دان ملزم ومجرم تھے اب وہ معصوم وبے قصور ہوگئے ہیں۔اب عوام کی ہمدردیاں انہیں حاصل ہونے کاامکان پیدا کردیا گیا ہے۔ مار پیچھے پکار توسناتھا لیکن اب سب الٹا سنائی دے رہاہے۔
حکومت اگر دانش مندی سے کام لیتی اور خاموش تماشائی بن کردیکھتی جیسا کہ مولانا فضل الرحمٰن کاکہناتھا کہ اسلام آباد میں ایک گملا بھی نہیں ٹوٹے گا تو انہیں موقع دیکر دیکھاجاسکتا تھا۔ہاں اگر کوئی تخریب کاری ہوتی یا خلاف قانون کچھ ہوتا تو حکومت اس وقت جوکچھ کرتی اسے عوامی تائید حاصل ہوتی اور مولانا کا مشن یوں کامیاب نہ ہوتا لیکن موجودہ صورت حال میں تو خود حکومت مولانا کوبڑھاوا دے کر انہیں صف اخیر سے صف اول میں لے آئی ہے۔جب جوبھی ہوگایاہو رہا ہے  اس سے مولانا کاقد بڑھ رہا ہے اب ہار کربھی وہ نہیں ہاریں گے اب تو چت بھی ان کی اور پٹ بھی ان کی ہو گی۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ حکمرانوں نے اپنی نااہلی کا خود ثبوت دے دیا ہے اگر حکومت یوں مداخلت نہ کرتی تو انہیں اس قدر اہمیت نہ ملتی۔حکمرانوں نے تو وہی طریقہ اپنایا ہے آبیل مجھے مار، اب مولانا اور ان کے حامی جوکچھ کریں وہ کم ہی ہوگا اب جوکچھ ہوگا وہ حکومتی اقدام کے ردعمل میں ہوگا۔ اگر حکومت مولانا اوران کے ساتھیوں کو اس طرح اہمیت نہ دیتی اور خاموش رہتی توپھر جوکچھ ہوتا یاجوکچھ حکومت کرتی وہ ردعمل کے طور پر کرتی اب اگر کسی طرح تصادم ہوتا ہے تو وہ کارروائی کے جواب میں ہی ہوگا۔سوال یہ  پیدا ہوتا ہے ۔اب نہ اپوزیشن سے اگلتے بنے گی نہ ہی نگلتے بنے گی۔ بہت سوچ سمجھ کراقدام اٹھنا چاہے تھا موجودہ اٹھائے گئے اقدام سے عوام کومارچ والوں سے کہیں زیادہ پریشانی ہوگی۔راستے بند کیے جارہے ہیں کیا ہسپتال تک مریضوں کوجانے آنے دیا جائے گا؟ کیاسکول کالج جانے والے طلباء کو آسانی دی جائے گی؟کیا ضروریات زندگی کی فراہمی ممکن رہے گی کیونکہ اسلام آباد میں سبزی ترکاری اور دیگر ضروریات بیچنے والے دوسرے شہروں کی طرح گھر گھر پھیری نہیں لگاتے ضرورت مندوں کوخود اتوار بازار جمعہ بازار منگل بازار جاکر سوداسلف لاناپڑتاہے،کیاان کیلئے راستے کھلے رہیں گے یاوہ بھی بند کردیئے جائیں گے؟ دھرنا اور مارچ سیاست والوں کاہوگا لیکن نقصان تمام تر عوام کاہوگا اس کی چارہ گری کون کرے گا؟کون ان کے نقصان کاازالہ کرے گا؟ حزب اختلاف نے بہت سوچ سمجھ کراپنی بساط بچھائی ہے حکومت ان کے مہروں کوآسانی سے کیا پیٹ سکے گی یاوہ اپنی بچھائی بساط پر آسانی سے اپنی چلالیں گے؟  چلیں دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں سمجھنے والے سمجھ رہے ہیں کامیابی کسی کے نصیب میں نظر نہیں آرہی۔اس ساری کھینچا تانی میں عوام کا، ملک کاجو نقصان ہوگااور ہورہا ہے اس کی کسی کوفکر نہیں ہورہی کیونکہ حکومت خود اپنے لے مصیبت کھڑی کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ سیاست بڑی بساط کاکھیل ہے جوہرکسی کے بس کی بات نہیں کب کیا کرناہے کیسے کرناہے بڑی دماغ سوزی کاکام ہے فی الحال جو مسئلہ درپیش ہے اس سے کیسے نکلا جاتاہے بڑادشوار طلب معاملہ ہے۔ 
 اہل سیاست چاہے حزب اقتدار کے ہوں یاحزب اختلاف کے دونوں ہی ملک وقوم کے لئے بہت اہم ہوتے ہیں ملک وقوم کی تقدیر بنانے بگاڑنے میں ان کابڑا حصہ وہاتھ ہوتا ہے۔ایک اچھا سیاست کار اگر محب وطن ہے تو وہ جی جان سے ملک کی تقدیر بنادیتا ہے۔ہمارے سامنے مہاتیر محمد اور طیب اردوگان کی زندہ مثالیں موجود ہیں انہیں کسی سپر پاور کاخوف  نہیں ہے اگر خوف ہے تو اللہ تبارک تعالیٰ کاخوف ہے۔ وہ جانتے ہیں انہیں اگر جوابدہی کرناہے تو اللہ کے سامنے کرناہوگی اس لئے وہ بے خوف وخطر ملک وقوم کی خدمت میں سر گرم عمل رہتے ہیں۔ بڑی طاقت اگر کچھ گرماگرمی کرتی بھی ہے تو وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں اپنے کام سے کام رکھتے ہیں کیا انہیں مخالفین کاسامنا نہیں ہے۔ اگر ہمارے بھی حکمران اپنے ذاتی اور دوستوں کے مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے ملک وقوم کے مفادات کواہمیت دیں اور پوری لگن اور دیانت سے ملک وقوم کیلئے کام کریں تو پاکستان جوایٹمی قوت والاملک ہے کسی سی پیچھے نہیں رہ سکتا سپر پاور بننے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکے گی۔ ہمارا کشکول ہمارے ہاتھ سے نہیں چھوٹتا ہم بھکاری ہی بنے رہناچاہتے ہیں۔اس میں ہی ہم ذاتی مفادات حاصل کرسکتے ہیں اللہ ہمیں بھی کوئی مہاتر محمد یا طیب اردوگان جیسا باصلاحیت لیڈر عطاکرے جس سے پاکستان کے دن پھرسکیں اور مطلبی مفاد پرست لوگوں سے جان چھوٹ سکے۔آمین۔




 

تازہ ترین خبریں