07:27 am
یتیم کسے کہتے ہیں؟

یتیم کسے کہتے ہیں؟

07:27 am

وہ نابالغ بچہ یا بچی جس کا باپ فوت ہو گیا ہو وہ یتیم ہے، بچہ یا بچی اس وقت تک یتیم رہتے ہیں جب تک بالغ نہ ہوں،جونہی بالغ ہوئے یتیم نہ رہے جیسا کہ مفسر شہیر،حکیم الامت حضرت مفتی احمدیار خان علیہ رحمۃ الحنان فرماتے ہیں’’بالغ ہو کر بچہ یتیم نہیں رہتا، انسان کا وہ بچہ یتیم ہے جس کا باپ فوت ہو گیا ہو،جانور کا وہ بچہ یتیم ہے جس کی ماں مر جائے،موتی وہ یتیم ہے جو سیپ میں اکیلا ہو، اُسے درِیتیم کہتے ہیں، بڑا قیمتی ہوتا ہے‘‘۔
یتیم کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور اس کے سرپر ہاتھ پھیرنے کی حدیث پاک میں بڑی فضیلت آئی ہے چنانچہ حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ روح پرور ہے کہ ’’مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو اور مسلمانوں کے گھروں میں بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کیساتھ برا برتائو کیا جاتا ہے‘‘۔ 
ایک اور حدیث پاک میں ارشاد فرمایا ’’جو شخص یتیم کے سر پر محض اللہ عزوجل کی رضا کیلئے ہاتھ پھیرے تو جتنے بالوں پر اُس کا ہاتھ گزرا ہر بال کے بدلے میں اُس کیلئے نیکیاں ہیں اور جو شخص یتیم لڑکی یا یتیم لڑکے پر اِحسان کرے میں اور وہ جنت میں (دو اُنگلیوں کو ملا کر فرمایا کہ) اس طرح ہوں گے‘‘۔
اس حدیث پاک کے تحت مفسر شہیر،حکیم الامت حضرتِ مفتی احمدیار خان علیہ رحمۃ الحنان فرماتے ہیں’’جو شخص اپنے عزیز یا اجنبی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے محبت و شفقت کا، یہ محبت صرف اللہ عزوجل و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا کیلئے ہو تو ہر بال کے عوض اسے نیکی ملے گی۔ یہ ثواب تو خالی ہاتھ پھیرنے کا ہے جو اس پر مال خرچ کرے، اس کی خدمت کرے، اسے تعلیم و تربیت دے، سوچ لو کہ اس کا ثواب کتنا ہو گا۔ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے سے نیکیوں کے حصول کے ساتھ ساتھ دِل کی سختی دُور ہوتی اور حاجتیں بھی پوری ہوتی ہیں جیسا کہ حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ عظیم میں حاضر ہو کر اپنے دِل کی سختی کی شکایت کی،تو ارشاد فرمایا ’’کیا تو چاہتا ہے کہ تیرا دِل نرم ہو جائے اور تیری حاجتیں پوری ہوں؟ تو یتیم پر رحم کیا کر اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا کر اور اپنے کھانوں میں سے اس کو کھلایا کر، ایسا کرنے سے تیرا دِل نرم ہو گا اور حاجتیں پوری ہوں گی‘‘۔
جب بھی کسی یتیم بچے کے سر پر ہاتھ پھیرنا ہو تو سر کے پیچھے سے ہاتھ پھیرتے ہوئے آگے کی طرف لے آئیں جیسا کہ حدیث پاک میں ہے ’’لڑکا یتیم ہو تو اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے میں آگے کو آئے اور جب اس کا باپ ہو (یعنی بچہ یتیم نہ ہو تو) ہاتھ پھیرنے میں گردن کی طرف لے جائے۔‘‘
یتیم کسی کو اپنی کوئی چیز ہبہ نہیں کر سکتا کیونکہ ’’ہبہ صحیح ہونے کی شرائط سے ایک شرط ہبہ کرنے والے کا بالغ ہونا بھی ہے‘‘۔ جبکہ یتیم نابالغ ہوتا ہے،اسی طرح کوئی دوسرا بھی نابالغ کا مال ہبہ نہیں کر سکتا جیسا کہ صدرُالشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمدامجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ’’باپ کو یہ جائز نہیں کہ نابالغ لڑکے کا مال دوسرے لوگوں کو ہبہ کر دے،اگرچہ معاوضہ لیکر ہبہ کرے کہ یہ بھی ناجائز ہے اور خود بچہ بھی اپنا مال ہبہ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا یعنی اُس نے ہبہ کر دیا اور موہوب لہ کو دیدیا اُس سے واپس لیا جائیگا کہ (نابالغ کا) ہبہ جائز ہی نہیں، یہی حکم صدقہ کا ہے کہ نابالغ اپنا مال نہ خود صدقہ کر سکتا ہے نہ اُس کا باپ، یہ بات نہایت یاد رکھنے کی ہے اکثر لوگ نابالغ سے چیز لیکر استعمال کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اُس نے دیدی حالانکہ یہ دینا نہ دینے کے حکم میں ہے۔ بعض لوگ دوسرے کے بچہ سے (کنوئیں سے) پانی بھروا کر پیتے یا وضو کرتے ہیں یا دوسری طرح استعمال کرتے ہیں، یہ ناجائز ہے کہ اس پانی کا وہ بچہ مالک ہو جاتا ہے اور ہبہ نہیں کر سکتا پھر دوسرے کو اس کا استعمال کیونکر جائز ہو گا۔اگر والدین بچہ کو اسلئے چیز دیں کہ یہ لوگوں کو ہبہ کر دے یا فقیروں کو صدقہ کر دے تاکہ دینے اور صدقہ کرنے کی عادت ہو اور مال و دُنیا کی محبت کم ہو تو یہ ہبہ و صدقہ جائز ہے کہ یہاں نابالغ کے مال کا ہبہ و صدقہ نہیں ہے بلکہ باپ کا مال ہے اور بچہ دینے کیلئے وکیل ہے جس طرح عموماً دروازوں پر سائل جب سوال کرتے ہیں تو بچوں ہی سے بھیک دلواتے ہیں۔
پارہ 4 سورۃ النساء کی آیت نمبر 10 میں خدائے رحمٰن عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دام جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے میں جائینگے‘‘۔(ترجمہ کنزالایمان)
اس آیت مبارکہ کے تحت مفسر شہیر،حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان فرماتے ہیں ’’جب یتیم کا مال اپنے مال سے ملا کر کھانا (متعدد صورتوں میں) حرام ہوا تو علیحدہ طور پر کھانا بھی ضرور حرام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یتیم کو ہبہ دے سکتے ہیں مگر اس کا ہبہ لے نہیں سکتے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وارثوں میں جس کے یتیم بھی ہوں اس کے ترکہ سے نیاز، فاتحہ خیرات کرنا حرام ہے اور اس کھانے کا استعمال حرام۔ اوّلاً مال تقسیم کرو پھر بالغ وارث اپنے مال سے خیرات کرے‘‘۔مزید فرماتے ہیں کہ ’’جب میت کے یتیم یا غائب وارث ہوں تو مالِ مشترک میں سے اس کی فاتحہ وغیرہ حرام ہے کہ اس میں یتیم کا حق شامل ہے بلکہ پہلے تقسیم کرو پھر کوئی بالغ وارث اپنے حصہ سے یہ سارے کام کرے ورنہ جو بھی وہ کھائے گا دوزخ کی آگ کھائے گا، قیامت میں اس کے منہ سے دھواں نکلے گا۔حدیث شریف میں ہے کہ یتیم کا مال ظلماً کھانے والے قیامت میں اس طرح اٹھیں گے کہ ان کے منہ،کان اور ناک سے بلکہ ان کی قبروں سے دُھواں اٹھتا ہو گا جس سے وہ پہچانے جائینگے کہ یہ یتیموں کا مال ناحق کھانے والے ہیں‘‘۔
یاد رکھئے! آج کل حالات اِنتہائی ناگفتہ بہ ہیں،یتیموں کا مال کھانے سے بچنے کا ذہن ہی نہیں ہوتا۔گھر میں کسی کے فوت ہو جانے پر اگر سارے ورثاء بالغ ہوں وہاں تو ایک دوسرے سے حقوق معاف بھی کروائے جا سکتے ہیں اور اگر ایک بھی نابالغ بچہ وارثوں میں شامل ہو تو پھر جو لوگ شریعت کے پابند ہیں وہ سخت امتحان میں پڑ جاتے ہیں کیونکہ فی زمانہ خاندان والوں کا ذہن بنانا ہر ایک کے بس کا کام بھی نہیں۔اگر کہیں صراحتاً یا دلالۃً معلوم ہو کہ میت کے گھر والوں نے ابھی تک ترکہ تقسیم نہیں کیا اور میت کے ورثاء میں نابالغ بھی ہیں تو وہاں کھانے پینے سے اجتناب کیا جائے۔




 

تازہ ترین خبریں