07:28 am
یہ ہے زندگی!

یہ ہے زندگی!

07:28 am

ایساہوتاآرہاہے کہ سب فلسفے دھرے رہ جاتے ہیں،دلیلیں منہ تکتی رہ جاتی ہیں،پندونصائح بے اثر ہوجاتے ہیں،زورخطابت دم توڑدیتاہے،اہل منبرو محراب دنگ رہ جاتے ہیں، جبے عمامے اپنی شان وشوکت کھو بیٹھتے ہیں،پہاڑریزہ ریزہ ہوکرروئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگتے ہیں،زمین تھرتھرانے لگتی ہے،ساری حکمتیں ناکارہ اورسارے منصوبے نابود ہوجاتے ہیں،ذلیل دنیاکے چاہنے والے دم دباکر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں،اہل حشمت وشوکت منہ چھپانے لگتے ہیں،محلات بھوت بنگلے بن جاتے ہیں، منظربدل جاتاہے،موسم بدلنے لگتاہے،آسمان حیرانی سے تکتاہے،شجرپر بیٹھے ہوئے پرندے اورجنگل میں رہنے والے درندے راستہ چھوڑدیتے ہیں۔جب دیوانے رقص کرتے ہیں،جنوں اپنے گریباں کاعلم بن کرنکل پڑتاہے پھرعقل خودپر شرمندہ ہوتی ہے،جب عشق اپنی جولانی پرآتاہے،نعرہ مستانہ بلندسے بلندتراوررقص بسمل تیزسے تیزترہوتا چلاجاتاہے ۔ جب موت کی تلاش میں نکلتی ہے زندگی۔ سب کچھ ہماری نظروں کے سامنے ہوتاہے لیکن،لیکن ہمیں نظرنہیں آتا،آئے بھی کیسے!ان دیدوں میں بینائی کہاں ہے،روشنی کہاں ہے؟روشنی اوربینائی تواندر سے پھوٹتی ہے،جی اندرسے،دل سے اورجسے ہم دل سمجھ بیٹھے ہیں،وہ توصرف خون سپلائی کرنے کاایک پمپ بن کررہ گیاہے،دل کہاں ہے؟ نہیں یہ دل نہیں ہے بس ایک آلہ ہے۔جن کے دل دھڑکتے ہیں وہ زمانے سے آگے چلتے ہیں۔نعرہ مستانہ لگاتے، سربکف میدان میں اترتے ہیں۔موت کوللکارتے ہیں اور موت ان سے خائف ہوکرکہیں چھپ کربیٹھ جاتی ہے۔یہ دیوانے اورپاگل لوگ موت کے گھاٹ اتر نے نکلتے ہیں اورپھر زندہ جاوید ہوجاتے ہیں،زندہ جاویدلوگ!
پھرمیرارب جلال میں آتاہے اورحکم دیتاہے اورجواللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مراہوانہ کہو، لیکن وہ توزندہ ہیں لیکن تمہیں اس کاشعورنہیں۔اورہم تمہیں کچھ خوف اوربھوک اورمالوں اورجانوں اور پھلوں کے نقصان سے ضرورآزمائیں گے،اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری دے دو۔وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لو ٹ کر جانے والے ہیں۔ (البقرہ :154۔156)
یہ ہیں زندہ جاویداورامرلوگ،جنہیں رب بھی مردہ کہنے سے منع کرتاہے،وہ توکہتاہے کہ ایساخیال بھی دل میں مت لاؤ، خبردارجوایساسوچابھی!زندہ ہیں، امرہیں،رزق پاتے ہیں زندہ جاوید لوگ،امرلوگ، رب کے حضوراپنی نذرپوری کردینے والے، اپنا عہد نبھانے والے،صلہ وستائش سے بے پرواہ لوگ، پاگل ودیوانے لوگ۔کہاں نہیں برپایہ معرکہ عشق ومحبت؟کہاں نہیں برپا؟روئے ارض پرچاروں طرف سجاہواہے یہ میلہ‘اورمیلہ لوٹنے والے دیوانے،ہم صرف تماشائی،نوحہ گراورمرثیہ خواں۔اب گنواؤں تو تکرار ہوگی اورطبع نازک پرگراں گزرے گا۔یہ توسامنے برپاہے معرکہ عشق۔کیایہ کشمیرمیں نہیں دیکھ رہے آپ،مسلسل جل رہاہے،ہرجگہ اپنی کمیں گاہوں سے تیربرس رہے ہیں، لیکن یہ پھربھی پروانہ واراپنی جانوں کوسربازار لٹاتے جارہے ہیں!
انہیں کہتے ہیں انسان، بندہ رب،سب کاانکار کردینے والے پراسراربندے،موت کوسینے سے لگاکرزندہ جاویدہوجانے والے،اپنا خون اپنی جان، اپنے پیارے رب کی نذرکر دینے والے قافلہ حسینؓ کے لوگ!اہل غزہ!تم پرسلام ہو،تم نے اطاعت کی ایک مثال قائم کر دی،یہ ہے اطاعت رب میں جاں سے گزرنا،تم نے ثابت کردیا تم ہو بندگاں خدا،اہل کشمیرتم پرسلام ہو،ہم سب دیکھتے رہ گئے اورتم اپنی مرادپا گئے، اے بامرادلوگو!تم پرسلام ہو،اے خوش نصیب لوگو!تم پرسلام ہو۔اے اس دنیائے ناپائیدار کو ٹھوکرمارنے والو!تم پرسلام ہو،آنکھیں کھولو، آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والو!آنکھیں کھولو،یہ دیکھودل کش منظر،سونگھواس خوشبوکو ،جو خوشبوئے شہداء ہے۔دیکھو یہ ہے زندگی، سب کاانکار،کوئی نہیں روک سکتا اس قافلہ حق کو۔اقوام متحدہ،اوآئی سی اورانسانیت کے علمبرداروں اور سامراج کے ایجنٹ لکھاریوں کے منہ پر تھوک دینے والو!تم پرسلام ہو۔
کچھ عقل سے عاری تمہاری ان قربانیوں کوپہچان نہیں پائے کہ اللہ نے ان سے دیکھنے اورسمجھنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔اللہ نے ان کے دلوں پرمہرلگادی ہے اوران کی آنکھوں پرپردہ ہے اوران کیلئے بڑاعذاب ہے اورکچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ اور قیامت کے دن پرایمان لائے حالانکہ وہ ایمان دارنہیں ہیں۔(البقرہ:7۔8)
کیاآپ جانتے ہیں،کبھی سوچاہے،ہاتھی گھاس کاگٹھااپنی سونڈمیں پکڑکرجھٹکتاکیوں ہے؟اس لئے کہ کہیں اس گھاس میں چیونٹی نہ ہو۔وہ جانتاہے کہ اگروہ چیونٹی کونگل لے تووہ اس کے دماغ میں جاکربیٹھ جاتی ہے اوراپناننھاساپاؤں مارتی رہتی ہے اور بالآخر ہاتھی دم توڑدیتاہے۔کشمیرکے شیروں کو سفاک ہندو چیونٹی سمجھ کرمسلناچاہتاہے لیکن یہ چیونٹی ان کے ہاتھی جیسے جثے کونابودکردے گی۔ہاں!یہ بات اب ہندوکو سمجھ آگئی ہے،ہمیں اب تک سمجھ نہیں آئی۔ مزاحمت ہی میں ہے زندگی،باوقاروقابل رشک زندگی ۔  
سرینگرکا باسی محمود اپنے سات ماہ کے شیرخوار بچے کواپنے سینے سے الگ کرکے جب لحد میں اتاررہا تھاتوتکبیربلند کرتے ہوئے اپنے رب سے کہہ رہا تھا کہ یہ آخری پونجی تھی جو تیرے راستے میں قربان ہو گئی۔تیری دی ہوئی نعمت سے سات ماہ استفادہ کیااور اے میرے رب اس کومیرازادراہ بنادے۔پلوامہ کی بوڑھی اسی سالہ فاطمہ اس بات پرفخرکررہی ہے کہ میں نے اپنے خاندان کے تمام افراد راستے کے کانٹے چننے کیلئے رخصت کردیئے اورمیں بھی اب تیری ملاقات کیلئے بے تاب ہوں۔احمدیہ کہتاہے کہ میں اپنے بچوں کوہر روز رات کویہ کہانی سناتاہوں کہ ہم مرنے والے نہیں ہیں،ایک عارضی زندگی کے چنگل سے نکل کردائمی اورکامیاب زندگی ہماراانتظارکررہی ہے۔ جب بھی میرے گھرکے اردگرد کوئی گولی چلتی ہے،میں ناچنا شروع کردیتا ہوں۔ میری ایک ہی بچی جوکشمیر میں جاری تباہ کاریوں سے ابھی تک بچی ہوئی ہے وہ بھی اس کو ایک کھیل تماشہ سمجھ کرلطف اندوزہوتی ہے۔ موت کوکھیل تماشہ سمجھنے والو!تم پرسلام ہو۔تم نے اپنے عزم سے ثابت کردیا کہ تمہارے پائے اسقلال میں کوئی جنبش نہیں آئی۔تم آج بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی طرح سامنے کھڑے موت کامسکراتے ہوئے انتظارکررہے ہو۔اس گھڑی جب سب کو حاضر ہونا ہے،تم بھی اپنے خون آشفتہ لاشوں سے حاضرکئے جاؤ گے تمہاری فلاح اورکامیابی کااعلان جب فرشتے باآوازبلند کریں گے تب تمہارے قاتل کومیڈل پہنانے والے تم سے منہ چھپاتے پھریں گے۔ یقیناً میرا رب اپنے وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
اے دنیا کے اسیرو!دنیائے ذلیل کی چاہت میں خوار ہو نے والو!اے ستاون ریاستوں کے مردود حکمرانو،بے غیرتی کے مجسم پتھروں،دیکھو یہ ہے زندگی۔اہل کشمیرتم پرسلام ہو۔وہ دیکھوشہداء کے خون سے پھوٹنے والی سحر۔دیکھو،آنکھیں چرانے سے یہ انقلاب نہیں رکتا۔اپنے محلات بچانے کی آخری کوشش کرلو،نہیں بچیں گے یہ!رب کعبہ کی قسم ،کچھ بھی نہیں بچے گا۔
دنیاکی سب سے بڑی جیل میں رہنے والو!تم پر سلام ہو۔اے دنیا کے پرستارو!بچا سکتے ہوتوبچا لو۔کچھ نہیں بچے گاکوئی بھی تونہیں رہے گا،بس نام رہے گا میرے رب کا جو حی و قیوم ہے۔