07:29 am
اجتماعی توبہ کی ضرورت

اجتماعی توبہ کی ضرورت

07:29 am

زمین کی ساری طاقتیں ہم سے اس لئے ناراض ہیں کہ آسمان والے پروردگار سے ہمارا رابطہ کٹا ہوا ہے جس دن آسمان والا ہم سے راضی ہوگیا سب بیڑے پار ہو جائیں گے۔
مکہ مکرمہ سے تشریف لانے والی معروف علمی شخصیت مولانا ڈاکٹر سعید عنایت اللہ سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔اس ملاقات میں امت مسلمہ بالخصوص پاکستان کے  سیاسی، مذہبی اور سماجی حالات کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو ہوئی، ڈاکٹر سعید عنایت اللہ ہیں تو پاکستانی مگر تقریباً گزشتہ چار دہائیوں سے مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر اپنی دینی اور علمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، وہ عربی زبان میں متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں، میرا ان کے ساتھ تعلق’’کالم،، کی بنیاد پر قائم ہوا۔
وہ اس خاکسار کے کالم کے قاری تو ہیں ہی مگر ساتھ ہی اصلاح میسجز بھی بھجواتے رہتے ہیں۔گزشتہ ہفتے وہ مکہ مکرمہ سے کراچی کے دورہ پر تشریف لائے تو انہوں نے اس خاکسار کو بھی ملاقات کا بلاوا بھیجا اور  پھر ہمیں حضرت کے ملفوضات سے محظوظ ہونے کا خوب موقع میسر آیا، ڈاکٹر سعید عنایت اللہ انٹرنیشنل ختم نبوت کے مرکزی امیر بھی ہیں، یوں قادیانیت اور غامدی فتنے کے حوالے سے بھی ان کے علمی نقاط سے  روشنی حاصل کرنے کی کوشش کی۔
مولانا ڈاکٹر سعید عنایت اللہ تو منگل کے دن واپس مکہ مکرمہ اپنے گھر  پہنچ گئے مگر ان کا کہا ہوا جملہ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے، یہ میرے سمیت ہر پاکستانی کے لئے سوچنے کی بات ہے کہ کیا آسمان و زمین کا مالک پاک پروردگار ہم سے راضی ہے؟ اگر  نہیں تو کیوں؟ اور ہم سب نے اپنے مولا کریم کو راضی کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں۔ فلسطین، شام، لیبیا، برما سے لے کر کشمیر تک آج امت مسلمہ جس خوفناک صورتحال سے دوچار ہے وہ سب کے سامنے ہے، سعودی عرب اور ایران کو لڑانے کی کوششیں بھی کسی ذی شعور سے مخفی نہیں ہیں، لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر جس پاکستان کو حاصل کیا تھا آج اس پاکستان میں نہ معاشی استحکام ہے، نہ سیاسی استحکام ہے اور نہ ہی معاشرتی استحکام، کہیں لسانیت کے نام پر،کہیں صوبائیت کے نام پر، کہیں فرقہ واریت کے نام پر مسلمان کو مسلمان سے لڑانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ ہر شخص دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر مسرت محسوس کرتا ہے۔
بدزبانی، اشتعال انگیزی، چغل خوری، جھوٹ، ملاوٹ، منافقت، دھوکا دہی ہمارے معاشرے کے مزاج کا حصہ بن چکی ہیں۔ حرام اور حلال، غیرت اور بے غیرتی، حیاء اور بے حیائی میں فاصلے تقریباً مٹتے چلے جارہے ہیں، الزام تراشی، بہتان طرازی، پگڑی اچھالنا، تنقید کے ٹوکرے الٹنا یہ ہر شخص کی عادت بنتی جارہی ہے۔ کیا یہ ساری کمزوریاں اس بات کی نشاندہی  نہیں کر رہیں کہ ہمارا رابطہ آسمان والے پروردگار سے کٹا ہوا ہے۔
اپوزیشن اور حکومت، مولانا فضل الرحمن اور عمران خان کے درمیان جاری جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو آنے والے دنوں میں واضح ہو ہی جائے گا لیکن زمینی حقیقت یہی ہیں کہ نقصان پاکستان کا ہی ہوگا۔
’’ پاکستان‘‘ کہ  جو اس وقت عالم کفر کی آنکھوں  میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے، پاکستان کہ جو 22کروڑ سے زائد انسانوں کی پناہ گاہ ہے۔ ’’پاکستان‘‘ کہ جس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی تھی۔
وہ ’’پاکستان‘‘ شیطان اور اس کے پیروکاروں کے نشانے پر ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ٹوٹنے والے قیامت خیز مظالم، بار بار کنٹرول لائن کو روند کر پاکستانیوں کی  گرتی لاشیں یہ بات واضح کر رہی ہیں  کہ پاکستان نشانے پر ہے۔ ’’پاکستان‘‘ کو بچانے کے لئے ہر پاکستانی کو کردار ادا کرنا پڑے گا۔
 مولانا ڈاکٹر سعید عنایت اللہ پوچھ رہے تھے کہ جو پاکستان ہماری سانسوں میں بستا ہے، بیت اللہ میں ہوں، مسجد نبویؐ شریف میں ہوں یا مواجہہ مبارک کے سامنے جو ’’پاکستان‘‘ ہمیشہ ہماری دعائوں میں رہتا ہے، کیا وہ پاکستان مہنگائی اور لاقانونیت کے طوفان سے نکل پائے گا؟ میں نے عرض کیا کہ جب تک آئی ایم ایف اور مختلف ’’ازموں‘‘ یعنی سیکولر ازم اور لبرل ازم کے عذاب سے نجات نہیں پائے گا، سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ ذہنیت سے چھٹکارہ حاصل نہیں کرے گا، اس وقت تک ’’پاکستان‘‘ کو جھٹکے لگتے ہی رہیں گے۔
ڈاکٹر سعید عنایت اللہ نے اپنا پرانا سوال ایک دفعہ پھر دہرایا کہ آخر سیاست دان، میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے  متحد ہونے پر آمادہ کیوں نہیں ہیں؟  یہاں کب تک سیاسی چور سپاہی کا سلسلہ جاری رہے گا؟ اس خاکسار نے جواب دیا کہ آپ کا یہ سوال میں اپنے کالم کے ذریعے ارباب حل و عقد کی خدمت میں پیش کردوں گا‘ اگر کسی طرف سے کوئی جواب ملا تو  تو وہ بھی کالم کی زینت بن جائے گا‘ لیکن فی الحال تو دور دور تک سیاسی اور معاشی بحران کا کوئی حل نظر نہیں آرہا،ہر آدمی دوسرے سے سوال کرتا نظر آرہا ہے کہ آخر کل کیا ہوگا؟ میرے کالم نگار ساتھی عبدالحفیظ رحیمی نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرصاحب کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ پروردگار عالم ہم سے ناراض ہے، ہم سب کو اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے، اجتماعی توبہ کی۔