07:32 am
خوشگوار

خوشگوار

07:32 am

٭غیر ملکی سفارتکاروں نے آزاد کشمیر بھارتی فوج کی وحشیانہ گولہ باری سے شہری املاک کی ہولناک تباہی کے مناظر دیکھے۔ پانچ شہری شہید، متعدد مکانات ملبہ کے ڈھیر، مظفر آباد میں زیر علاج زخمیوں سے ملاقات بھی ہوئی۔ چین، بوسنیا اور دوسرے سفارتکاروں نے بھارتی گولہ باری کی مذمت بھی کی۔ کنٹرول لائن تقریباً سات سو کلو میٹر طویل ہے۔وادی نیلم میں دریائے نیلم سرحد بنتا ہے۔ اس کے دونوں کناروں پر پاکستان اور بھارت کی فوجوں کے مورچے ہیں۔ اس مقام پر دریا کے بالکل کنارے پر آزاد کشمیر کی ایک مسجد ہے۔۔ میںنے مسجد دیکھی۔
مولانا فضل الرحمن کے رویے میں تبدیلی
اس کے اندر نماز پڑھنے کی خواہش ظاہر کی تو بتایا گیا کہ مسجد طویل عرصے سے بند ہے۔ خاص بات یہ کہ ماضی میں اس مسجد میں باقاعدہ پانچ وقت نماز ہوا کرتی تھی۔ جمعہ کے روز مسجد کے سامنے دریا پار مقبوضہ علاقے سے کثیر تعداد میں کشمیری مسلمان آتے۔ دریا کے دونوں کناروں پر صاف پانی سے وضو کیا جاتا۔ مسجد کے امام خطبہ دیتے جو لائووڈ سپیکروں سے دوسری طرف بھی سنا جاتا۔ اسی امام کی امامت میں دونوں طرف بیک وقت نماز پڑھی جاتی۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ پھر بھارتی حکومت کو امام مسجد کے خطبے پر اعتراض ہونے لگا۔۔ مسجد میں نماز پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا اسے تسلیم نہ کیا گیا تو بھارتی فوج نے ایک جمعہ کی نماز سے پہلے مسجد پر فائرنگ کر دی۔ مسجد بند کر دی گئی۔ اس کی بیرونی دیواروں پر گولیوں کے متعدد نشانات اب بھی موجود ہیں۔ کافی عرصہ پہلے مجھے امجد اسلام امجد، عطاء الحق قاسمی، ڈاکٹر سلیم اختر اور منصور آفاق کو یہ مسجد دکھائی گئی۔ ہم دریا کنارے سڑک سے اتر کر مسجد کی طرف بڑھے تو دریا کی دوسری طرف بھارتی فوجی چوکی سے تیز سیٹیاںبجنے کی آواز آئی، ایک فوجی نے سرخ جھنڈی ہلائی جو اس بات کا اشارا تھی کہ وہاں سے واپس جائو ورنہ فائرنگ ہو جائے گی۔ ہم وہاں سے بھاگے اور سڑک کے کنارے ایک قدرتی چٹان کے پیچھے چلے گئے۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ سڑک دریا کے ساتھ ساتھ اوپر جاتی ہے۔ اس پر ٹریفک جاری رہتی ہے تاہم اس مقام پر کوئی گاڑی وہاں رک نہیںسکتی۔ اس واقعہ کو کئی برس گزر چکے ہیں۔ اب اس مقام پر بھارتی فوج نے کھلم کھلا فائرنگ کی جس سے دو شہری جاں بحق ہوئے (ایک فوجی اور تین شہری دوسرے مقامات پر شہید ہوئے) خدا تعالیٰ کشمیر پر رحم فرمائے!
٭مولانا فضل الرحمان نے کچھ عرصہ کی بلند بانگ تلخ گفتاری کے بعد بالآخر باہم رواداری اور افہام و تفہیم اوراعتدال کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ اور کہا ہے کہ آزادی مارچ پرامن ہو گا، کوئی لاک آئوٹ یا دھرنا نہیں ہو گا، کسی کارکن کے پاس کوئی ہتھیار یا ڈنڈا وغیرہ نہیں ہو گا۔ مولانا کے بیانات کی ابتدا اسلام آباد کے لاک آئوٹ اور دھرنے اور ناکامی پر پورے ملک کے لاک آئوٹ اور اسے بند کرنے سے ہوئی، ان کے کچھ وفاداروں نے مخالفین کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے اور وزیراعظم عمران خان کے بارے انتہائی غیر مہذبانہ اور شرعی شعائر کے منافی لب و لہجہ اختیار کیا۔ اس پرملک بھر میں ایک دوسرے کے خلاف شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔ دوسری طرف ناپختہ ذہنوں اور سطحی سوچ والے مشیروں نے حکومت کو مخالفین کو نیست و نابود کر دینے کے جاہلانہ مشورے دے کر ملک میں باقاعدہ جنگی فضا پیدا کر دی، جگہ جگہ کنٹینر لگا کر گرفتاریوں اور جیلیں بھرنے کے مشورے دیئے گئے۔ ملک میں کشیدگی کی ایسی فضا پیدا کر دی گئی کہ غیر ملکی سرمائے کی آمد رک گئی، بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف طوفان برپا کر دیا اس پر آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف وغیرہ کے رویے سخت ہو گئے۔ ایسے میں اچانک مولانا فضل الرحمان کا لاک آئوٹ اور دھرنے وغیرہ سے دست برداری کا اعلان خوش گوار جھونکے کی حیثیت رکھتا ہے۔ عمران خان  نے 126 روز کا آزادانہ دھرنا دیا تھا تو اب مولانا کے آزادی مارچ کو بھی نہیں روکا جا سکتا، صرف یہ کہ پرامن رہے۔
٭مقبوضہ کشمیر پر کرفیو وغیرہ کے مسئلہ پر ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جنرل اسمبلی میں اور بعد میں کھل کر دو ٹوک الفاظ میں بھارتی حکومت کی مذمت کی اور فوری طور پر کرفیو ختم کرنے کا مطالبہ کیا (ترکی کے صدر اردوان نے بھی ایسا ہی کیا) مہاتیر محمد کے اس طرز عمل پر بھارت میں سخت ردعمل ہوا اور بھارت کے متعدد تجارتی اداروں نے ملائیشیا کے ساتھ کاروبار بند کر دیا۔ بھارت ہر سال اربوں کا پام آئل ملائیشیا سے درآمد کرتا ہے۔ پام ناریل کو کہتے ہیں۔ پام کا لفظ ایسے درخت کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کی شاخیں نہیں ہوتیں اور لمبے لمبے سیدھے بلند پتے ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ لفظ کھجور کے درخت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ملائیشیا کی برآمدات میں پام آئل کی سرفہرست ہے۔ اس سال 31 مارچ تک ملائیشیا نے بھارت کو نو (9) ارب ڈالر کی برآمدات کیں جب کہ بھارت سے درآمدات کا حجم چھ ارب 40 کروڑ کا رہا۔ بھارت دنیا بھر میں سب سے زیادہ اور سستا پام آئل ملائیشیا سے خریدتا ہے۔ بھارتی کمپنیوں کی درآمد کے بائیکاٹ سے بھارت میں گھی کا سخت بحران پیدا ہو گیا ہے اور شدید قلت اور گھی مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری طرف ملائیشیا کو اربوں کی برآمدات رک جانے سے سخت جھٹکا لگ سکتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ جاننے کے باوجود وزیراعظم مہاتیر محمد نے واضح بیان دیا ہے کہ تجارت میں نقصان ہوتا ہے تو ہوتا رہے میں مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ افراد کی قید اور پابندی کی مذمت کرنے سے گریز نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف صدر اردوان کے بھارت کے خلاف سخت رویے کے باعث بھارتی وزیراعظم مودی نے ترکی کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
٭پیمرا نے مولانا فضل الرحمان کے بیانات اور آزادی مارچ کی خبروں کی نشرواشاعت پر پابندی عائد کر دی۔ ایک شہری شاہ جہاں خٹک نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائرکی کہ مولانا فضل اللہ کے فوج کے خلاف بیانات پر اور جے یو آئی (ف) پر پابندی عائد کر دی جائے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے یہ درخواست مسترد کر دی کہ کسی شخص کے اظہار رائے پر کس طرح پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے قرار دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے اس وقت پوری دنیا ایک گائوں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایسی کسی پابندی سے ہمارا تاثر خراب ہو سکتا ہے۔فاضل چیف جسٹس کے ریمارکس بالکل درست ہیں۔ پیمرا نے جے یو آئی کے جلسوں اور جلوسوں کی کوریج پر پابندی عائد کر کے بیرون ملک پاکستان میں جمہوریت کا کیا تصور پیش کیا ہے؟ پیمرا کے سامنے تحریک انصاف کا 126 دنوں کا دھرنا ہوا اس میں تحریک انصاف کے قائد عمران خان اور دوسرے رہنمائوں نے اس وقت کی حکومت کے خلاف کیا کیا اشتعال انگیز باتیں کیں، ’’وزیراعظم کو ’’اوئے…‘‘ کہہ کر پکارا گیا، بہت سی دوسری ناروا باتیں بھی کہی گئیں، اس وقت پیمرا کہاں تھا؟ (اس وقت بلاول بھی یہی زبان استعمال کر رہا ہے) میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر اظہار تحسین کرتا ہوں۔
٭23 اکتوبر: بیگم نصرت بھٹو کی آٹھویں برسی! بلاول زرداری کی طرف سے تعزیت کا رسمی اعلان اور بس! کیسی مظلوم خاتون تھی یہ شریف خاتون! کبھی پاکستان کے وزیراعظم کی خاتون اول اور 82 برس کی عمر میں ایسے عالم میں انتقال کہ دبئی کے ایک ہسپتال میں کئی برسوں سے سکتہ کے عالم میں بے ہوش پڑی رہیں! داماد آصف زرداری نے بے ہوشی کے عالم میں ہسپتال میں داخل کرا دیا پھر سب بھول گئے۔ انتقال اس عالم میں ہوا کہ نزدیک کوئی رشتہ دار، پارٹی کا کوئی رہنما موجود نہ تھا! اس خاتون کو کیا کیا صدمات جھیلنے پڑے! شوہر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہو گئی، دو بیٹے شاہ نواز اور مرتضیٰ قتل ہو گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے بعد نصرت بھٹو کو پارٹی کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔ بیٹی بے نظیر بھٹو نے انہیں (ماں کو) برطرف کر کے پارٹی پر قبضہ کر لیا۔ 1996ء میں مرتضیٰ بھٹو کو قتل کر دیا گیا۔ نصرت بھٹو صدمہ نہ سہہ سکیں، دماغی توازن بگڑ گیا۔ بے ہوش ہو کر سکتہ میں چلی گئیں اور انہیں دبئی کے ایک ہسپتال میں ڈال کر لاوارث چھوڑ دیا گیا! طویل داستان ہے۔ نصرت بھٹو! شائد دنیا کی سب سے مظلوم عورت! اس کے لئے ایک رسمی تعزیتی بیان اور بس!
 

تازہ ترین خبریں