08:06 am
 سانحہ 

 سانحہ 

08:06 am

 مقبوضہ کشمیر کے حالات ہر گذرتے دن کے ساتھ بگڑ رہے ہیں ۔ تاریخ کا بدترین کرفیو تیسرے ماہ میں داخل ہو چکا ہے۔ انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر دنیا بھر سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں لیکن یہ تاثر بے حد تکلیف دہ ہے کہ پاکستان کا رد عمل وقت کے ساتھ ساتھ کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم کی تاریخی تقریر کی گونج مدھم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سوال بجا ہے کہ کیا دفتر خارجہ وزیراعظم کی تقریر سے عالمی سطح پر بننے والے تاثر کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ 
 
خارجہ محاذ پر سست روی نے ہمیں بے حد نقصان پہنچایا ہے۔ایک ایسے وقت جبکہ بھارت مسلسل جارحیت میں اضافہ کرتا جا رہا ہے،ہمارا دفتر خارجہ معمول کی کارروائیوں سے بڑھ کر کچھ کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے تین محتلف مقامات پر فائر بندی کی خلاف ورزی کی گئی۔بھارتی فوج نے ایک مرتبہ پھر آزاد کشمیر میں فرضی کیمپوں کی تباہی کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔اس دعوے کو بنیاد بنا کر بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کا واویلا مچا رہا ہے۔اس جھوٹ کا پردہ بے نقاب کرنے کے لیے پاک فوج نے غیرملکی سفیر وں کو ایل او سی کے ساتھ ملحق اُن علاقوں کا دورہ کروا دیا ہے جو بھارتی وحشیانہ گولہ باری سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
 بھارتی جارحیت کے نتیجے میں دو فوجیوں سمیت پانچ بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے ہیں۔روایتی ڈھیلا ڈھالا احتجاج بہت ہو چکا۔پاکستان کو یہ معاملہ اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر اُٹھانا چاہیے۔ پانچ اگست کو کشمیر کا بطور ریاست خصوصی تشخص بھارتی آئین میں تبدیل کرنے کے ناجائز عمل کے بعد سے آج تک بھارت کا رویہ نہایت تیزی سے بگڑتا جا رہا ہے۔ بھارت کے وزراء اور سینا پتی بار بار پاکستان پر فوجی حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ان دھمکیوں کو حقیقت کا روپ دیتے ہوئے آزاد کشمیر پر حملہ کر کے ایک جانب پاکستان کو دبائو میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے اور دوسری جانب فرضی دہشت گرد کیمپوں کی تباہی کی جھوٹی داستان گھڑ کے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔پاک فوج کے دندان شکن جواب کے بعد بھارتی فوج کو سفید جھنڈا لہرانا پڑا۔ تاہم یہ معاملہ بے حد پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ 
مقبوضہ کشمیر سمیت ایل او سی پر بھارتی جارحیت ایک غیر معمولی اقدام ہے۔بھارت کے جھوٹے سرجیکل سٹرائیک کے دعوئوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے سے مقصد پورا نہیں ہو گا۔عین ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں بھارت حماقت پر مبنی مہم جوئی کر بیٹھے۔ بلاشبہ پاک فوج منہ توڑ جواب دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے لیکن دفتر خارجہ اس معاملے پر اس انداز میں جارحانہ سفارت کاری کرے کہ بھارت کو پاکستان کے خلاف کسی شرارت کی ہمت ہی نہ ہو ۔فی الحال بھارت مقبوضہ کشمیر کے بجائے آزاد کشمیر کو ہدف بنا کر پاکستان کو پیچھے دھکیلنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ 
بھارتی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع تکبر بھرے انداز میں آزاد کشمیر پر بھارتی دعویٰ جتا چکے ہیں۔افسوس کا مقام ہے کہ بھارت کی ننگی جارحیت اور سنگین دھمکیوں کے باوجود اندرونی محاذ پر کوئی متفقہ ردعمل یا حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی۔نئی دہلی میں براجمان ہندو شدت پسند پاکستان کاوجود مٹانے کے منصوبے بنارہے ہیں جبکہ عقل سے پیدل حزب اختلاف ان نازک حالات میں اسلام آباد پر چڑھائی کر کے داخلی انتشار میں اضافہ کرنے پر تُلی بیٹھی ہے۔کاش کہ پارلیمان سے مقبوضہ کشمیر کے لیے موثر آواز اٹھائی جائے۔ دنیا کو یہ پیغام دیا جائے کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔اقوام متحدہ میں جذباتی تقر یر پر اکتفا کرنا دانشمندی نہیں ۔اسلام آباد جیسے پر فضا مقامات پر ریلیاں نکالنے سے بھارت کی جارحیت کا جواب دینا ممکن نہیں۔کچھ فیصلے جنگ کے میدان میں ہوتے ہیں اور کچھ کام خارجہ محاذ پر ہی انجام دئیے جانے لازم ہیں۔جنگ کے میدان میں افواج پاکستان اپنا فریضہ بخوبی انجام دے رہی ہیں ۔ خارجہ محاذ پر معاملہ ٹھنڈا پڑا ہے۔ 
موجودہ حالات میں بھارتی جارحیت کو معمولی سمجھنا ایک تاریخی حماقت ہو گی۔پاکستان کے وجود کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔پاکستان مقبوضہ کشمیر کے حالات سے لاتعلق رہ کر اپنا وجود بھی گنوا بیٹھے گا۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کشمیری حریت پسند دراصل مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔بھارت کے عزائم واضح ہیں! مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی اور آبادی کا تناسب بدلنے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کو فوجی طاقت کے بل پر ہڑپ کرنے کے بعد پاکستان میں نسلی تعصبات کو بھڑکا کر چار ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی خواہش مودی سرکار کے دلوں میں مچل رہی ہے۔ایسے سنگین حالات میں دفتر خارجہ کی سست روی اور سیاسی جماعتوں کی بے وقت کی مہم جوئی ایک سانحے سے کم نہیں۔ 

 


 


 

تازہ ترین خبریں