08:07 am
سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

08:07 am

 سورۃ الضحیٰ آج ہمارے زیر مطالعہ ہے ۔ ’’نورو ظلمت ‘‘ گروپ میں شامل دیگر سورتوں کی طرح اس کا آغاز بھی باہم متضاد اشیاء کی قسموں سے ہوتا ہے۔اس تضاد میں بھی قدرت کی طرف سے ایک خاص حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح انسانی زندگی کے بعض معاملات میں تدبیر اور تقدیر میں باہمی تضاد انسان کی سمجھ میں نہیں آتا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت انسان پر واضح ہونے لگتی ہے چنانچہ اس سورت میںاضداد کی قسمیں کھا کراسی اندازمیں سیرت محمد ﷺ کے چند اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے :
 ’’قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی۔‘‘
 ضحیٰ وہ وقت ہے جب سورج کی روشنی خوب پھیل جاتی ہے یعنی چاشت کا وقت۔ رات اور دن کا فرق سب سے پہلے صبح کاذب سے شروع ہوتا ہے، پھر صبح صادق اورپھر اشراق کا وقت آتا ہے کہ سورج تھوڑا سا باہر نکل کر پورے طور پر نظر آرہا ہوتا ہے لیکن اس کی تمازت اور روشنی ابھی پورے طور پر نہیں پھیلتی لیکن جب تھوڑا سا اور اوپر بلند ہوتا ہے تو اس کی تمازت اور روشنی بھرپورطور پر پھیل جاتی ہے۔یہ وقت ضحیٰ ہے جس کی قسم کھائی گئی ہے۔
’’قسم ہے رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ چھا جائے ۔‘‘
ایک اعتبار سے رات بھی غروب آفتاب سے شروع ہو جاتی ہے لیکن اس وقت مکمل تاریکی نہیں ہوتی بلکہ یہ تاریکی آہستہ آہستہ بڑھتے بڑھتے پتا چلتا ہے کہ اب رات پوری طرح چھا گئی ہے۔دن اور رات کا یہ وقت اتنی آہستگی سے بدل رہا ہوتا ہے کہ انسان کو پتا بھی نہیں چلتا کہ وقت بدل رہا ہے۔اگلی دو آیات میں اس اہم حقیقت کو بیان کیا جا رہا ہے جس کے لیے یہ دونوں قسمیں کھائی گئیں۔
 ’’آپؐ کے رب نے آپؐ کو رخصت نہیں کیا اور نہ ہی وہ آپؐ سے ناراض ہوا ہے۔‘‘
یہ آیت بتا رہی ہے کہ پس منظر میں کوئی واقعہ ہے۔احادیث کے مطابق یہ واقعہ نزول وحی کے بالکل ابتدائی سالوں میں پیش آیاجب کچھ عرصے کے لیے وحی کا سلسلہ رک گیا۔آپؐ کو چونکہ رسالت کے لیے منتخب کیا گیا تھا لہٰذا جو بھی وحی نازل ہوتی تھی آپؐ اسے پڑھ کر لوگوں کو سنایا کرتے تھے۔ابتدا میں یہ ایک بالکل نیا تجربہ تھا جب آنحضور ﷺ پر ابتدائی وحی کا نزول ہوا تو آپؐ پر گھبراہٹ طاری ہوئی گئی تھی اور حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ نے آپ ؐ کو تسلی دی تھی کہ آپؐتو یتیموں،بیوائوں اورغربیوں کی خبر گیری کرنے والے ہیں، آپؐ محسن انسانیت ہیں اور آپؐ کا رب آپؐ کو ضائع نہیں کرے گا۔تاہم جب وحی کا تسلسل قائم ہوگیا تو آپؐ کی گھبراہٹ کم ہوگئی اور آپ ؐ اسے لوگوں تک پہنچا کر دلی مسرت محسوس کرتے۔اب ایک طرح سے وحی آپ ؐ کی روح کی غذا بن چکی تھی اورآپ ؐ کو انتظار رہتا تھا کہ زیادہ سے زیادہ وحی آئے لیکن درمیان میں جب وحی کا سلسلہ رک گیا اور اسی کے ذیل میں ایک واقعہ اور بھی احادیث میں آتا ہے کہ آنحضور ﷺ کچھ روز کے لیے علیل رہے جس کی وجہ سے آپؐ تہجد کی نماز ادا نہ کر سکے چونکہ ابو لہب اور اس کی بیوی آپؐ کے سب سے بڑے دشمن تھے اور ان کا گھر بھی آپؐ کے گھر کے بالکل ساتھ تھا۔آپ ؐ جب رات کو نماز میں قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے تھے تو ان کو پتہ چل جاتا تھا کہ قرآن پڑھا جارہاہے لیکن چند روز تک آپ ﷺ جب علالت کی وجہ سے تہجد کی نماز نہ پڑھ سکے تو ابو لہب کی بیوی نے آپ ؐ کو طعنے دینے شروع کر دئیے کہ لگتا ہے تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا(معاذ اللہ)۔مخالفین کے یہ طعنے اپنی جگہ لیکن وحی کا رک جانا آپ ﷺ پراس سے بھی کہیں زیادہ گراں گزررہا تھا۔آپؐ کو شدید پریشانی لاحق ہوگئی کہ کہیں میرے رب نے مجھے چھوڑ تو نہیں دیا یا میرا رب کہیں مجھ سے ناراض تو نہیں ہوگیا چنانچہ آپؐ کے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے ان آیات کا نزول ہوا جس میں بالکل آہستگی کے ساتھ بڑھتے اور پھیلتے ہوئے دن اور رات کی قسمیں کھا کر جہاں یہ بیان کیا گیا کہ آپؐ کے رب نے نہ تو آپؐ کو چھوڑا ہے اور نہ ہی وہ آپؐ سے ناراض ہے وہاں یہ تسلی بھی دی گئی کہ :
’’اور یقیناً بعد کا وقت آپؐ کیلئے بہتر ہوگا پہلے سے۔‘‘
جس طرح وقت اتنی آہستگی سے بدلتا ہے کہ دن غیر محسوس انداز میں رات اور رات دن میں بدل جاتی ہے اسی طرح ان مشکلات اور پریشانیوں کے بعد آپ ؐ پر بھی راحت اور آسانی کا وقت آنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور ﷺ کو یہ بشارت تھی۔
 ’’اور عنقریب آپؐ کا رب آپؐ کو اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ آپؐ راضی ہو جائیں گے۔‘‘
پچھلی سورۃ(الیل) کے آخری حصے میںہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے اوصاف حمیدہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بالآخر انہیں بشارت دی گئی کہ عنقریب اللہ انہیں وہ کچھ عطا کرے گا کہ وہ راضی ہو جائیں گے۔وہاں صیغہ غائب کا تھا۔یہاں حاضر کے صیغے میںبراہ راست حضور ﷺ سے بات کی گئی ہے کہ اگرچہ ابھی حالات ایسے ہیں کہ ہر طرف سے پریشانیاں، مشکلات اور مصائب نے آپؐ کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور اوپر سے مخالفین کے زبانی حملے بھی آپؐ کے لیے باعث پریشانی ہیں لیکن مصائب اور تاریکیوں کے یہ بادل آہستہ آہستہ چھٹتے چلے جائیں گے اور ان کی جگہ ہدایت کی روشنی پھیلتی چلی جائے گی اور بالآخر وہ وقت آئے گا کہ آپ ؐ کی پریشانی طمانیت اور خوشی میں بدل جائے گی۔یہ بشارت دنیا کے حوالے سے بھی ہے اور آخرت کے حوالے سے بھی ۔
’’کیا اُس نے نہیں پایا آپؐ کو یتیم ،پھرپناہ دی!‘‘
تسلی کے انداز میں حضور ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح یتیمی میں آپؐ کی سرپرستی فرمائی حالانکہ اس انتہائی بگڑے ہوئے معاشرے میں ایک یتیم کی حالت تو انتہائی قابل رحم ہوتی تھی،اس کا تو کوئی وارث ہی نہیں ہوتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے بہترین پرورش اور تربیت کا اہتمام کیا۔آپؐ کی ولادت سے قبل آپ ؐ کے والد ماجد کا انتقال ہو چکا تھا۔چھ سال کی عمر میں والدہ ماجدہ بھی داغ مفارقت دے گئیں۔اس کے بعد آپؐ کے دادا عبدالمطلب نے آپؐ کی پرورش کی۔جب آٹھ سال کے ہوئے تو دادا بھی انتقال کر گئے۔بعض سیرت کی کتابوں میںمذکور ہے کہ آپؐ کے دادا کے بعد آپؐ کے تایا زبیر بن عبدالمطلب نے آپؐ کی پرورش کی۔جب اُن کا بھی انتقال ہوگیا تو پھر آپ ؐ کی کفالت کا ذمہ ابو طالب نے لیا اور پھر انہوں نے اپنی موت تک ساتھ دیا۔اگرچہ ابو طالب ایمان تو نہیں لائے لیکن چونکہ وہ بنو ہاشم کے سردار تھے اس لیے آپؐ کو انہوں نے بھرپور قبائلی تحفظ فراہم کیا ۔یوں اللہ نے آپﷺ کی یتیمی کا سفر محفوظ انداز میں طے کرایا کہ یتیم ہونے کے باوجود بالآخر اسی معاشرے کی قیادت آپؐ نے سنبھالی چنانچہ اس آیت میں آپﷺ کو تسلی کے انداز میں بتایا جارہا ہے کہ یاد تو کیجئے کہ اللہ نے یتیمی کے دور میں بھی آپ ؐ پر کتنے احسانات کیے اور آپ ؐ کو لاوارث نہیں چھوڑا ۔
’’اور آپؐ کو تلاشِ حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت دی!‘‘
 نبی ؐ کے بارے میں یہ طے ہے کہ وہ معصوم عن الخطاء ہوتا ہے۔اس سے بچپن میں بھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا۔اُس کا کردار،عمل اور افکار عین فطرت کے مطابق ہوتے ہیں اور وہ فطرت اسلام ہے یعنی توحید کہ صرف ایک اللہ کو ماننا یعنی نبی نہ مشرک ہو سکتا ہے،نہ کافر ہو سکتا ہے اور نہ ہی گناہ گار ہو سکتا ہے۔اس کی فطرت سو فیصد سلامتی پر ہوتی ہے۔        ( جاری ہے )


وہ جانتا ہے کہ کائنات کا رب توایک اللہ ہی ہے لیکن نزولِ وحی سے قبل ہدایت کی تفصیلات اس کے سامنے نہیں ہوتیں،وہ جاننا چاہ رہا ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ انسانیت کا یہ قافلہ کس طرف جارہا ہے؟معاشرے میں ظلم اور ناانصافی کا سد باب کیسے ہو سکتا ہے؟تو آپﷺ بھی تلاش حقیقت میں سرگرداں تھے،اصل ہدایت تک پہنچنا چاہ رہے تھے،تمام علمی سوالات کا جواب چاہ رہے تھے۔اس کے لیے آپؐ کئی کئی دن غار حرا میں جایا کرتے تھے۔ہم تو کہیں گے کہ عبادت کے لیے جایا کرتے تھے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عبادت کی نوعیت کیا تھی ؟کیونکہ عبادت کا موجودہ طریقہ تو نازل نہیں ہوا تھا،ابھی وحی تو اُتری نہیں تھی۔اُم المومنین حضرت عائشہؓ کا قول ہے کہ آپؐ جو عبادت غار حرا میں فرمایا کرتے تھے وہ تجسس، غور وفکر پر مبنی ہوتی تھی کہ کائنات کی تخلیق اور انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟اصل حقائق کیا ہیں؟ یعنی آپؐ تلاش حقیقت میں سرگرداں تھے۔ تو اللہ نے دوسرا احسان آپؐ پر یہ کیا کہ آپ ؐ پر حقائق کے دروازے کھول دئیے۔سورۃ الشوریٰ(آیت:52) میں فرمایا :’’(اے نبیﷺ !)آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے‘‘ ’’لیکن اس (قرآن) کو ہم نے ایسا نور بنایا ہے جس کے ذریعے سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔‘‘
آگے تیسرے احسان کا ذکر آرہا ہے ۔
’’اور اس نے آپؐ کو تنگ دست پایا تو غنی کر دیا!‘‘
 یہاں بھی اللہ جتا رہا ہے کہ وہ رب آپؐ کوتنہا نہیں چھوڑے گا جس نے قدم قدم پر آپؐ کی راہنمائی کی ہے اور یہاں تیسرا احسان یہ بیان کیا جارہاہے کہ آپؐ کو تنگ دست پایا تو غنی کر دیا۔وہ عالم اسباب میں کسی کو ذریعہ بناتا ہے اور آپ ؐ کا ذریعہ آپؐ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجۃ الکبریؓ کو بنایا ۔جس طرح حضور ﷺ کو قریش نے الصادق و الامین کاخطاب دیا ہوا تھا،اسی طرح حضرت خدیجہؓ کوانہی قریش نے طاہرہ کا خطاب دیا ہوا تھاکیونکہ وہ انتہائی پاکباز خاتون تھیں۔امیر اتنی تھیں کہ ان کے تجارتی قافلے یمن سے شام تک پھیلے ہوئے تھے لیکن پورے معاشرے میں ان کا خاص وصف یہ تھا کہ وہ پاکباز تھیں۔مکہ کے بڑے بڑے سردار ان سے نکاح کے خواہش مند تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا دل آپﷺ کی طرف پھیر دیااور انہوںنے خود آپؐ کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔آپ ﷺ سیرت کے لحاظ سے سب سے اونچے مقام پر تھے لیکن مالدار نہیں تھے البتہ آپؐ کی خواہش ہوتی تھی کہ یتیموں، بیواؤں،مسافروں کی مدد کریں اور جو قافلے حج کے لیے آرہے تھے ان کی ضروریات کا خیال کریں۔ خدمت خلق کا جذبہ اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو تھا چنانچہ حضرت خدیجہؓ سے نکاح کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو آپؐ کی خواہش کے مطابق تمام اسباب فراہم کر دئیے۔سیرت کا ایک واقعہ ہے کہ حضور ﷺ ایک مرتبہ پریشانی کی حالت میں گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہؓ نے پوچھا کہ پریشان کیوں ہیں۔ فرمایا :حاجیوں کا ایک قافلہ آیا ہے لیکن ان لوگوں کے پاس نہ کھانے کو کچھ ہے اور نہ ہی موسم کی مناسبت سے کپڑے ہمراہ ہیں،انتہائی بُرے حالوں میں ہیں اور میرے پاس کچھ نہیں کہ میں ان کی مدد کر سکوںچونکہ آپؐ حضرت خدیجہؓ کے مال کو اپنا نہیں سمجھتے تھے لہٰذا حضرت خدیجہؓ کو احساس ہو ا کہ حضور ﷺ کی پریشانی کیا ہے۔انہوں نے قریش کے سرداروں کو بلایا اور ان کے سامنے اپنے سارے مال کا ڈھیر لگا دیا اورکہا کہ گواہ رہنا میں نے اپنا سارا مال محمد ﷺ کو دے دیا ہے۔اب یہ ان کی ملکیت ہے چنانچہ اب آپ ﷺ کو سہولت ہوگئی کہ خدمت خلق کا کام بھرپور طریقے سے کر سکیں۔اس آیت میں اس پس منظر کو بیان کیا گیا ہے اور آپ ﷺ کو احساس دلایا گیا ہے کہ وہ رب آپ ؐ کو اکیلا چھوڑنے والا نہیں ہے۔ 
 ’’تو آپؐ کسی یتیم پر سختی نہ کریں۔‘‘
حضور ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے تین بڑے احسانات کے ذکر کے بعد اب یہاں اسی مناسبت سے تین راہنما اُصول بتائے گئے ہیں۔یتیم چونکہ معاشرے کا سب سے کمزور اور قابل رحم طبقہ ہوتا ہے لہٰذا سب سے پہلے آنحضور ﷺ کی حیات مبارکہ کو یتیموں کے لیے ایک نمونہ بنایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے خود آپؐ کی سرپرستی فرما کر اُمت کے لیے ایک راہنما اُصول بنا دیا اور یہاں یہی اُصول بتایا جارہاہے کہ آپؐ بھی اسی طرح یتیموں کی سرپرستی کا اہتمام کریں اور معاشرے میں اُن پر سختی نہ ہونے پائے۔آپ ؐ تو خود یتیم تھے،لہٰذا آپ ؐ کو احساس تو تھا ہی لیکن آپؐ رحمتہ اللعالمین بھی بنا کر بھیجے گئے ہیں،آپ ؐ تو ہیں ہی احسان کرنے والے اور رحم دل۔یہ ممکن ہی نہیں کہ آپؐ سے کسی یتیم پر سختی کا معاملہ ہو۔لہٰذا آپؐ کے ذریعے یہ اُمت کو بتایا جارہاہے کہ یتیم معاشرے کاقابل رحم طبقہ ہے اور سب سے زیادہ بے یارو مددگار لہٰذا اس کا اکرام ہو اور اس کے حقوق سلب نہ ہونے پائیں۔
’’اور آپؐ کسی سائل کو نہ جھڑکیں۔‘‘
 سائل دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو دست سوال دراز کرتے ہیں۔اگر کسی وقت آپ کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو آپ معذرت تو کر سکتے ہیں لیکن جھڑکیں مت۔سائل کے حوالے سے ہمارے دین کی تعلیمات بہت ہی متوازن ہیں۔ ایک طرف دین میں مانگنے والوں کی انتہائی سرزنش کی گئی ہے تاکہ بے عملی و بے توقیری کا رحجان پیدا نہ ہو اور دوسری طرف یہ کہا گیا کہ اگر سائل مانگنے کے لیے آجائے تو خالی ہاتھ نہ جانے دو،تمہارے مال میں محتاجوں اور ضرورت مندوں کا بھی حق ہے چنانچہ ان میں سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں میںدیکھا جائے کہ جو ضرورت مند اور محتاج ہیں ان کی مدد کی جائے۔ اسی طرح پڑوسیوں کے حقوق معین کر دئیے گئے۔چالیس گھر تک اگر کوئی پڑوسی بھوکا سوگیا اور تمہارے پاس ڈھیروں مال پڑا ہوا ہے تو تمہاری گردن پکڑی جائے گی۔زکوٰۃ کا معاملہ اپنی جگہ ہے لیکن اس کے علاوہ یہ حقوق بھی معین ہیں۔ان کے بارے میں روز قیامت سوال کیا جائے گا۔اسی طرح سائلین کے بھی حقوق ہیں کہ ان کو بھی دے دیا کرو۔اگرچہ اس میں ایک سوال تو بنتا ہے ہمارے ہاں کے پروفیشنل بھکاری،چمٹ جانے والے بھی ہوتے ہیںلہٰذا ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ beggaryکو فروغ نہ ملے لیکن:
’’اور ان کے اموال میں مانگنے والے اور محتاج کا حق ہوتا ہے۔‘‘(ذاریات:19)
اس آیت میں بہت واضح حکم ہے کہ سائلین اور محرومین دونوں کا حق ہے۔ لہٰذا اس سے واضح ہوتا ہے کہ بہتر یہی ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دیا جائے لیکن اگر دینے کے لیے کچھ بھی نہ ہو تو بات نرم انداز سے کی جائے۔ جھڑکا نہ جائے۔ 
 ’’اور اپنے رب کی نعمت کا بیان کریں۔‘‘
آپؐ پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کے تین لیول بیان ہوئے (آیت: 6 تا8) کہ ہم نے آپؐ کو یتیم پایا تو ٹھکانہ فراہم کردیا۔ آپؐ کو تنگ دست پایا تو غنی کردیا اور آپؐ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت کے سارے دروازے کھول دئیے۔اسی حوالے سے شکر گزاری کے تین راہنما اُصول بھی بتا دیے گئے کہ یتیم پر سختی نہ ہونے پائے،سائل علم کا طالب ہو یا مال کا اُس کو جھڑکا نہ جائے اور تیسری بات یہ بیان ہوئی ہے کہ آپؐ کو قرآن کی صورت میں جو عظیم نعمت عطا ہوئی ہے اس پر شکر کا تقاضا ہے کہ آپؐ اس کی اس نعمت کاچرچا کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلائیں۔اس حکم میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ہدایت کی نعمت کو اگر انسان اپنی ذات تک محدود کر کے بیٹھ رہے تو اس کا یہ طرزِعمل بخل کے مترادف ہو گا لہٰذا جس کسی کو اللہ تعالیٰ ہدایت کی دولت سے نوازے اسے چاہیے کہ اس خیر کو عام کرے اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کا صحیح فہم اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!