08:08 am
مقبوضہ کشمیر اور 27اکتوبر1947ء

مقبوضہ کشمیر اور 27اکتوبر1947ء

08:08 am

27اکتوبر وہ منحوس دن ہے جس روز ائیر فورس کے طیارے بھارتی کمانڈوز فوج کو لیکر سری نگر ائیرپورٹ پر (موجودہ مقبوضہ کشمیر) اترے تھے کیونکہ موجودہ آزادکشمیر قبائلی مجاہدین اور دوسرے سول مسلمان آزاد کروا رہے تھے۔قبائلی مجاہدین کے خوف سے مہاراجہ سری نگر سے خاندان سمیت بھاگ کر جموں میں جا مقیم ہوئے تھے۔27اکتوبر کے دن کی نحوست کو سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ جموں کی المناک کہانی کو سمجھا جائے۔جموں میں مسلمان اور ہندو مساوی تھے یا معمولی نسبت سے ایک دوسرے سے زیادہ تھے۔ مگر یہ طے ہے کہ جموں ہندوئوں کی واضح بالادستی نہیں رکھتا تھا لہٰذا جب تقسیم ہوگئی تو حکومت نے لائوڈ اسپیکروں پر بار بار اعلانات کروائے کہ جو مسلمان ہجرت کرکے پاکستان جانا چاہتے ہیں وہ شہر سے باہر آجائیں جہاں انہیں بسوں، ٹرکوں کے ذریعے پاکستان پہنچا دیا جائے گا۔
مسلمان خوشی خوشی اس ہندوجال میں پھنس گئے اور بہت سے مسلمان ان بسوں، ٹرکوں پر آکر سوار ہوگئے۔یہ بسیں اور یہ ٹرک ان مہاجر مسلمانوں کو لیکر پاکستانی سرحد کی طرف جانے کی بجائے بیابان جگہوں پر لے گئے جہاں پہلے سے مسلح ہندو جتھے موجود تھے جنہوں نے ان ہجرت کرتے مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا۔ نہ یہ مسلمان پاکستان پہنچے نہ ہی واپس جموں، یوں جموں میں مسلمانوں کی تعداد اقلیت میں ہوگئی اور ہندو عددی طور پر زیادہ ہوگئے۔’’مکاری‘‘ ہندو حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہوا کرتی ہے۔
سری نگر سمیت پورا کشمیر فطری طور پر پاکستان کا حصہ تھا۔اسے واضح مسلمان اکثریت کی بنیاد پر لازماً پاکستان کا حصہ بننا تھا بطور خاص وادی کشمیر کو اور لداخ وغیرہ کو بھی مگر ایسا کیوں نہ ہوا؟ ریڈکلف کمشن نے بائونڈری (حدود) طے کرنا تھی۔گرداسپور اور فیروز پور دونوں تحصیلیں پاکستان کا از خود حصہ تھیں مگر بائونڈری کمشن کے اجلاس سے پہلے ہی انتظامیہ کو ہدایت ملی کہ فیروز پور وغیرہ پر خاموش رہیں مگر گرداسپور پر باضابطہ پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا گیا تھا۔دو تین دن تک پاکستانی جھنڈا لہرایا گیا تھا مگر بائونڈری کمشن اجلاس کے بعد ائیرپورٹ پر برطانوی بددیانت ریڈ کلف نے فیروز پور و گرداسپور پاکستان کی بجائے ہندوستان کو دے دیا یعنی جو بددیانتی بائونڈری کمشن اجلاس سے پہلے شروع ہوگئی تھی وہی بددیانتی ائیرپورٹ پر مکمل ہوگئی تھی اور سری نگر یعنی مقبوضہ جموں وکشمیر کو زمینی راستہ ہندوستان کو دے دیا گیا تھا۔اگر فطری طور پر گرداسپور پاکستان کے پاس رہتا، جیسا کہ ابتدائی طور پر طے شدہ تھا تو زمینی راستہ مقبوضہ کشمیر کے لئے ہرگز موجود ہی نہ تھاچونکہ پہلے گرداسپور پاکستان کو دیا گیا تھا پھر اچانک نہرو کے شدید اصرار پر مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضہ برقرار رکھنے کا اقدام سری نگر ائیرپورٹ پر بھارتی کمانڈوز فورس اتار کر کیا گیا تھا۔ایسا اقدام صرف اس لئے ہوا کہ نہرو کو توقع ہی نہ تھی کہ پاکستانی فوج یا قبائلی پختون مسلمان بزور طاقت کشمیر کو لینے کی کوشش کریں گے۔اس کے خیال میں کشمیر میں امن رہے گا۔
شیخ عبداللہ اور مہاراجہ چونکہ نہرو کے ساتھ مل گئے تھے لہٰذا آسانی سے ایک اعلان کے ذریعے الحاق ہو جائے گا جبکہ قائداعظم کو شیخ عبداللہ کی غداری کا پہلے سے علم تھا البتہ مہاراجہ کو قائداعظم ترغیب دیتے رہے کہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں چاہتا تب بھی وہ اپنی آزاد حیثیت کو لازماً برقرار رکھے اگر وہ ایسا کرے گا تو عملاً وہ پاکستان کی پناہ میں ہوگا مگر جب سری نگر پر اچانک بھارتی فوج اتری تو قائداعظم نے انگریز آرمی چیف کو حکم دیا کہ وہ سری نگر کی طرف پیش قدمی کرکے سری نگر کو آزاد کروائے مگر پاکستانی فوج کے انگریز آرمی چیف نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا مگر چھ ماہ بعد خود ہی قائداعظم کو لکھ دیا کہ ضروری ہوگیا ہے کہ فوج داخل کرکے مقبوضہ کشمیر کو حاصل کیا جائے۔27اکتوبر کو سری نگر ائیرپورٹ پر جو بھارتی کمانڈوز فوج اتری اس نے وادی کشمیر کی قسمت کو غلامی میں دھکیل دیا۔
قائداعظم تقسیم بنگال اور تقسیم آسام پر جتنے دلبرداشتہ تھے اتنے ہی کشمیر کی تقسیم کے حوالے سے بھی وہ دلبراشتہ تھے۔تقسیم سے پہلے گاندھی اور قائداعظم میں کئی ملاقاتیں صرف اس موضوع پر ہوتی رہی تھیں کہ قائداعظم مکمل بنگال،مکمل آسام،مکمل کشمیر اور مکمل پنجاب پاکستان کو دئیے جانے پر اصرار کرتے تھے جبکہ گاندھی کہتے تھے یعنی کانگرسی موقف تھا کہ مسلمان جہاں واضح طور پر اکثریت ہیں صرف انہی جگہوں کو پاکستان کا حصہ بنایا جاسکتا تھا۔قائداعظم کا موقف تھا کہ یوں تو آبادی کی تقسیم ہوگی۔ایک ہی جغرافیائی خطہ اور صوبہ کئی کئی حصوں میں بٹ جائے گا جوکہ غیر فطری تقسیم اور نئے مسائل اور جھگڑے لیکر آئیں گے مگر کانگرس یعنی نہرو نے لیڈی مائونٹ بیٹن کے ذریعے (جو نہرو کے عشق میں مبتلا تھی) لارڈ بیٹن کو خوب استعمال کیا اور جہاں پنجاب کو تقسیم کیا وہاں کشمیر کو تقسیم کیا اسی طرح بنگال اور آسام کو بھی تقسیم کرکے ہجرت اور ہندو ظالمانہ قتل عام کے راستے ہموار کئے۔