08:09 am
حکومت آزاد کشمیر کا مشن اور وژن

حکومت آزاد کشمیر کا مشن اور وژن

08:09 am

سیز فائر لائن کے آر پار بھارتی جارحیت اور نہتے شہریوں کے قتل عام کے دوران آزادکشمیر اور اقوام متحدہ کایوم تاسیس منایا گیا۔مقبوضہ کشمیر کی تقریباً ایک کروڑ آبادی 81 روز سے گھروں میں قید ہے۔ بھارت نے اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کے لئے کشمیریوں کا رابطہ دنیا سے کاٹ دیا گیا ہے۔1947ءمیں کشمیریوںنے ڈوگرہ شاہی سے بغاوت کے بعدآزاد کرائے گئے 13ہزار 297مربع کلومیٹر علاقے پرپہلی انقلابی حکومت قائم کی۔عبوری حکومت نے اپنے پہلے اعلانیہ میں کہا کہ یہ حکومت اس امر کا انتظام کرے گی کہ یہاں غیر جانبدار مبصرین آئیں جن کی نگرانی میں پورے جموں و کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے۔آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان کو مقبوضہ ریاست کو آزاد کرانے کے ایک بیس کیمپ کا کام کرنا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہاں کے حکمرانوں کی ترجیحات بدل گئیں۔وہ فروعی اور برادری ازم کے نام پر پورے مکان کے بجائے ایک کمرے کی حق ملکیت پر لڑرہے ہیں۔آج200سے زیادہ یونین کونسلوں اور تقریباً 1700دیہات پر مشتمل آزاد ریاست میں اقتدار اور مراعات کی جنگ جاری ہے۔ 
 
بجٹ کا خسارہ پہلی بار ختم ہو چکا ہے بلکہ اب 6.2ارب روپے سرپلس ہے۔ پہلے آزاد کشمیر کو کشمیر کونسل کی جانب سے ٹیکسوں کی وصول کردہ رقم کا 80فی صد ملتا تھا۔کونسل والے اپنے تمام اخراجات نکال کر اضافہ 20فی صد بھی لے جاتے تھے۔ آئینی ترمیم کے بعد سو فیصد ٹیکسوں کے مد میں آمدن ہو رہی ہے۔تاہم کشمیر کونسل کو قانون ساز کونسل نہیں بنایا جا سکا۔فاروق حیدر حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہئے۔یہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا ایوان بالا ہونا چاہئے۔حکومت پاکستان کے ذمہ اب بھی تین ارب روپے سے زیادہ رقم واجب الادا ہے جو یونیورسل فنڈز کی ہے۔ بلوچستان کی طرز پر فیڈرل ٹیکسوں کی مد میں آبادی کی بنیاد پر آزاد کشمیر کو 3.5فی صد کے حساب سے رقم دی جاتی ہے۔یہ رقم سالانہ 59ارب روپے تک پہنچ جاتی ہے جو آزاد خطے کی آمدن ہے۔پاکستان حکومت 10ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لئے دیتی تھی جو رقم اب دوگنا کی گئی ہے۔1947ء سے1950ء تک آزاد کشمیر کا بجٹ جنگلات کی آمدن کا مرہون منت تھا ۔ 
1947ء میں وادی نیلم کے جنگلات کی آمدن 49لاکھ روپے جبکہ کل بجٹ 48لاکھ روپے تھا ۔ایک لاکھ روپے سر پلس تھے۔واٹر چارجزکی مد میں واپڈا کے ذمہ بھی کروڑوں روپے واجب الادا ہیں۔واٹر یوز چارجز 15پیسے سے بڑھا کر ایک روپے 10پیسہ کی گئی مگر آج تک اس پر عمل در آمد نہ ہوا۔ آزاد حکومت کو ڈرایا گیا ہے کہ اس اضافے پر عمل در آمد کے بعد بجلی ٹیرف بڑھا کر 8روپے فی یونٹ کردی جائے گی۔اس وقت آزاد حکومت کو فی یونٹ بجلی 2روپے59پیسہ کے حساب سے فروخت کی جا رہی ہے۔حکومت اپنے صارفین کو یہی بجلی تین سو گنا اضافے کے ساتھ دیتی ہے۔ آزاد کشمیر میں موبائل ٹاورز لگانے کے سلسلے میں کشمیر کونسل نے موبائل کمپنیوں سے کروڑوں روپے سیکورٹی فیس وصول کی ہے۔یہ رقم کونسل کے اکائونٹ میں جمع ہے۔اس میں سے بھی آزاد کشمیر کو ادائیگی نہیں کی گئی۔اس کے علاوہ ایک سال کا مارک اپ6فی صد کے حساب سے 6.1ملین ہے۔کشمیر کونسل ایک آئینی ادارہ تھا جو آزاد کشمیر کے عبوری آئین کی دفعہ 21کے تحت قائم کیا گیا ۔کشمیر کے معاملات اور مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں بھی یہ ادارہ غیر معمولی کردار ادا کر سکتا تھا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ تیرہویں ترمیم کو اسلام آباد نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔وزیراعظم عمران خان نے آٹھ رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دی جس نے ابھی تک اپنی رپورٹ پیش نہیں کی۔ 
آزاد کشمیرکی زراعت،جنگلات،سیاحت، فلو ری کلچر کے حوالے سے اہمیت ہے۔بل کھاتی ندیاں، جہلم ،نیلم اور پونچھ جیسے دریا نہ صرف خطے کے حسن کو مالا مال کرتے ہیں بلکہ یہ انمول آبی وسیلہ ہیں ۔ان پر20ہزار میگا واٹ تک پن بجلی بھی پیدا کی جاسکتی ہے مگر نیلم کا رخ موڑ دیا گیا اور جہلم کا رخ موڑنے پر عوام نے اختلاف کیا۔ یہ کہا گیا کہ ماحولیات اور لاکھوں کی آبادی کا مفاد نظر انداز نہ کیا جائے۔آزاد کشمیر میںلائم سٹون کے بڑے سلسلے بھی موجود ہیں۔وادی نیلم میں روبی کے پہاڑ ہیںان قدرتی وسائل کا استعمال کیا جائے تو یہ سرزمین سونا اگل سکتی ہے۔عوام سست اور کام چورنہ ہوں تو وہ اپنی دھرتی کی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔کھیت لہلہا سکتے ہیں۔پالتو جانوروں کی افزائش،ڈیری فارمنگ،فش فارمنگ سے معیشت میں انقلاب آسکتا ہے لیکن قیمتی روبی اور دیگر خزانہ کی چوری کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔آزاد کشمیر آبادی کے لحاظ سے ضلع راولپنڈی سے بھی چھوٹا ہے۔راولپنڈی کی آبادی 44لاکھ جبکہ آزاد کشمیر کی آبادی 34لاکھ ہے۔اس میں سے بھی 10لاکھ سے زیادہ لوگ بیرون ملک ہیں۔ضلع راولپنڈی سے آزاد کشمیر کا بجٹ پانچ سو گنا زیادہ ہے۔راولپنڈی کو ایک ڈی سی او(ڈی سی) چلاتا ہے۔آزاد کشمیر میں صدر،وزیر اعظم،ایک محکمے پر کئی وزیر،مشیربیٹھے ہیں۔سیکرٹریوں،کمشنروں اور افسران کی فوج موجود ہے۔صدرر، وزیراعظم، سیکریٹریوں، سپریم کورٹ،ہائی کورٹ ججزکا استحقاق 1600سی سی تک گاڑیاں استعمال کرنا ہے۔یہی آزاد کشمیر کی ٹرانسپورٹ پالیسی ہے مگر یہاں 4200سی سی تک گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں۔ 2005ء کے زلزلہ میں بستیاں کھنڈرات میں تبدیل ہوئیں تو آزاد کشمیرکی تعمیر نو کے 55ارب روپے منتقلی کے نام پر چوری کر لئے گئے۔ زرخیز زمین دستیاب ہونے کے باوجود اناج،سبزیاں اور پھل درآمد ہوتے ہیں۔یہ خطہ آبی وسائل سے مالا مال ہے لیکن آبپاشی کے ذرائع موجود نہیں۔آزاد کشمیر کا زیر کاشت رقبہ صرف 13فی صد ہے جو ایک لاکھ 71ہزار ہیکٹر بنتا ہے۔ایک زرخیز ترین علاقہ بنجر بن چکا ہے۔ 
آزاد کشمیر کے لاکھوں لوگ سمندر پار رہائش پذیر ہیںلیکن یہاں کی برادری ازم،علاقہ اور فرقہ پرستی کی سیاست بیرون ممالک بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ کشمیر کاز کی آڑ میں پائونڈ اور ڈالر وصول کرنے،سیر و تفریح ،شاپنگ کے لئے دنیا کے چکر لگائے جاتے ہیں۔یہاں ہی ایک سال میں ایک ہی اسمبلی نے چار وزرائے اعظم تبدیل کر کے ریکارڈ قائم کیا۔آزاد کشمیرحکومت کی حیثیت مسئلہ کشمیر کے حل تک عبوری ہے۔اس کا آئین بھی عبوری ہے۔ اس کا بنیادی مشن اور وژن پورے کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔آزاد حکومت نے عبوری حکومت کا پہلا ہی اعلانیہ فراموش کر دیا کہ حکومت اس امر کا انتظام کرے گی کہ یہاں غیر جانبدار مبصرین آئیں جن کی نگرانی میں پورے جموں و کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے۔پتہ نہیں آزاد حکومت اپنے مینڈیٹ پر کب عمل کرے گی۔