09:59 am
بیرونی قوتیں کس کس کے پیچھے؟

بیرونی قوتیں کس کس کے پیچھے؟

09:59 am

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ استعفیٰ نہیں دونگا، فضل الرحمن کے پیچھے بیرونی قوتیں ہیں، مولانا کے ایجنڈے پر بھارت خوش ہے، دوسری طرف مولانا فضل الرحمن سکھر میں پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ ’’حکومت ناجائز ہے ان کے خلاف آواز اٹھانا جمہوری قوتوں کا حق ہے، ہم ہر انتہائی قدم کے مقابلے کے لئے تیار ہیں، ہمیں بھارت کے نام پر بلیک میل نہ کیا جائے، عمر ان خان خود بیرونی قوتوں کے ایجنٹ ہیں؟
عمران خان اور ’’مولانا‘‘ کے ان بیانات کو پڑھ کر میرے جیسا عام آدمی سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور انسان کس پر اعتماد کرے اور کس پر نہ کرے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ عمران خان اب کوئی کرکٹ ٹیم کے کپتان تو ہیں نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ وہ اگر میڈیا کے نمائندوں کے سامنے یہ انکشاف کر رہے ہیں کہ ’’مولانا‘‘ کے پیچھے ’’بیرونی قوتیں‘‘ ہیں تو اپنے اس الزام کا ان کے پاس کوئی ثبوت بھی ہوگا۔ میڈیا کے نمائندے ’’عدالت‘‘ تو نہیں ہیں کہ جو مولانا کو پکڑ کر کوئی سزا دے سکیں؟ اس لئے وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ’’مولانا‘‘ کے خلاف عدالت میں رٹ دائر کرکے ثبوت عدالت کے حوالے کر دیں۔ اگر عدالت میں ثابت ہوگیا کہ مولانا کے پیچھے ’’بیرونی طاقتیں‘‘ ہیں تو عدالت ’’مولانا‘‘ کو سزا سنا دے گی، مولانا کو اگر سزا ہوگئی تو آزادی مارچ کے شکنجے سے حکومتی گردن چھوٹ جائے گی، ایک ایٹمی ملک کے وزیراعظم سے یہ سوال پوچھنا میرا حق ہے کہ یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ مولانا فضل الرحمن کے پیچھے بیرونی قوتیں ہیں، ان سے مذاکرات کرنے کے لئے ٹیم مقرر کرنا، انہیں اسلام آباد میں آزادی مارچ کی مشروط اجازت دینا کیا ملکی سالمیت دائو پر لگانے کے مترادف نہیں ہے؟
یہاں بات کسی سیاست دان، جرنیل، جج یا جرنلسٹ کی نہیں ہے ، ملک سے کوئی شخص بھی طاقتور نہیں ہوا کرتا، تقریباً دو سال پہلے تک اس ملک کے تیسری بار وزیراعظم بننے والے میاں محمد نواز شریف کے حوالے سے جو تشویش ناک خبریں آرہی ہیں، وہ اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ سدا بادشاہی میرے پروردگار کی ہی ہے۔
الزامات اور بہتان تراشیوں کی بھرمار میں عقل کی کوئی بات سجھائی ہی نہیں دیتی، میں آج مولانا کی صفائی نہیں دینا چاہتا بلکہ عمران خان سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی بیرونی قوتوں کے ایجنٹوں کو پکڑنے سے قاصر ہیں تو پھر ملک میں حکومت کس کی ہے؟ ٹماٹر160 روپے فی کلو، بھنڈی 150روپے فی کلو، توری، لوکی اور بینگن120روپے فی کلو، پیاز80روپے فی کلو بک رہے ہیں۔ گوشت، دالیں، کوکنگ آئل، آٹا، چینی،مصالحہ جات غرضیکہ ہر چیز کی قیمتوں کو پر لگ چکے ہیں۔ چلیں کوئی بات نہیں، اشیاء خوردونوش ہوں یا جان بچانے والی ادویات ہم آپ سے نہیں پوچھتے کہ ان کی قیمتوں کو بڑھانے کا ذمہ دار کون ہے؟ لیکن جس مولانا کے پیچھے بیرونی قوتیں ہیں اس ’’مولانا‘‘ کو تو گرفتار کرکے قوم کو بتائیں کہ حکومت بیرونی طاقتوں کے ایجنٹ گرفتار کرنے کی سکت رکھتی ہے۔
ایک غیر جانبدار صحافی ہونے کی حیثیت سے یہ سوال اٹھانا بھی میرا حق ہے کہ مولانا پر ڈیزل سے لے کر زمینیں الاٹ کروانے تک کے الزامات لگائے گئے 15ماہ ہونے کو ہیں جناب عمران خان کو حکومت سنبھالے ہوئے ان 15 مہینوں میں ’’مولانا‘‘ کو کسی عدالت میں طلب نہیں کیا گیا جس نیب کا نام سن کر بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے اس نیب نے بھی ایک دفعہ بھی ’’مولانا‘‘ کو کسی بھی الزام میں طلب نہیں کیا تو کیوں؟ کیا وزیراعظم کی اخلاقی ذمہ داری نہ تھی کہ وہ جو الزام لگاتے ہیں۔ اس الزام میں ’’مولانا‘‘ کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے ثبوت عدالت کے حوالے کرکے ’’مولانا‘‘ کو سزا دلوائیں؟
پچھلے ایک سال سے ’’مولانا‘‘ اور ان کی جماعت کے رہنما مختلف ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں حکومت کو چیلنج کررہے ہیں کہ اگر ہمت ہے تو مولانا فضل الرحمن کو گرفتار کرکے دکھائیں۔’’مولانا‘‘ ایک سیکولر صحافی کہ جس کی اس خاکسار سے یاری بھی ہے، بدھ کی شام یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ ’’یار میں روز درجنوں بار فضل الرحمن کی گرفتاری کی دعا مانگتا ہوں، خود ان کی جماعت کے رہنمابھی حکومت کو مولانا کو گرفتار کرنے کا چیلنج دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت فضل الرحمن کو گرفتار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، کہیں فضل الرحمن نے اپنی حفاظت کے لئے ’’جنات‘‘ تو مقرر نہیں کئے ہوئے؟ اس نے بات اتنی سنجیدگی سے کی کہ میں مسکرائے بغیر نہ رہ سکا، میں نے جواب دیا کہ لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان بیرونی قوتوں کے ایجنڈے کے تحت مولانا فضل الرحمن کو گرفتار نہیں کر رہے، اس نے حیرت سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہوا، اس خاکسار نے اسے بتایا کہ جب عمران خان مولانا پر اور مولانا عمران خان کو بیرونی قوتوں کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگائیں گے تو پھر اس الزام سے بہترین نتیجہ تو یہی نکالا جاسکتا ہے۔
اس نے لٹکے ہوئے چہرے اور مایوس لہجے میں کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ پھر میں سمجھ لوں کہ ’’مولانا‘‘ کو گرفتار نہیں کیا جائے گا؟ میں نے کہا کہ تمہاری مرضی جو چاہے سمجھتے رہو۔
کاش کہ حکمران اور سیاست دان اپنے منصب کا خیال رکھتے، اے کاش کہ حکمران اور سیاستدان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی روش کو تبدیل کرنے کی جرات کرلیتے، ہم کب تک الزامات اور بہتان تراشیوں کے بل بوتے پر عوام کو گمراہ کرتے رہیں گے؟ پاکستان معاشی سطح پر ہو یا معاشرتی سطح پر دن بدن تنزلی کی طرف جارہا ہے، بے حیائی،فحاشی عریانی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ ڈپریشن، بلڈپریشر اور نفسیاتی امراض نے ہر دوسرے پاکستانی کو گھیر رکھا ہے، مہنگائی، بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
مگر حکمرانوں کو اپنے اللوں، تللوں اور اندرونی لڑائیوں سے ہی فرصت نہیں ہے، پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں اتحاد و اتفاق کی فضاء پیدا ہو، سیاسی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ سیاست دانوں اور حکومت کے درمیان افہام و تفہیم پیدا ہو؟ اب حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان افہام و تفہیم کیسے پیدا کی جائے؟ اس کے لئے عوام کو میدان میں آنا پڑے گا۔