10:00 am
نوازشریف کی بیماری، وزارت خارجہ کی چوتھی منزل

نوازشریف کی بیماری، وزارت خارجہ کی چوتھی منزل

10:00 am

٭اپوزیشن اور حکومتی مذاکرات سے اسلام آباد میں آزادی مارچ کی کشیدگی کم ہو رہی ہے مگر اس وقت نوازشریف کی بیماری کی اچانک تشویشناک صورت کی خبریں دوسری خبروں پرحاوی ہو گئی ہیں۔ نوازشریف لاہور کی جیل میں قید کاٹ رہے ہیں۔ دو روز پہلے اچانک ان کا بلڈ پریشر اتنا کم ہو گیا کہ غشی طاری ہونے لگی۔ معائنہ سے تشویش ناک انکشاف ہوا کہ ان کے خون میں سفید ذرات (پلیٹ لیٹس) انتہائی کم ہو گئے ہیں۔ عام تندرست انسان میں ان ذرات کی مقدار ڈیڑھ سے چار لاکھ تک ہوتی ہے۔ نوازشریف میں ان ذرات کی تعداد صرف سات ہزار رہ گئی۔ یہ صورت حال ڈینگی یا ہیپاٹائٹس سے پیدا ہوتی ہے۔ سفید ذرات خون میں مختلف جراثیموں کی مدافعت کرتے ہیں اور خون کو پتلا نہیں ہونے دیتے۔ یہ ذرات خطرناک حد تک کم ہو جائیں تو خون پتلا ہو جاتا ہے اور جسم کے کسی بھی حصے سے بہنے لگتا ہے۔ اسے روکا نہیں جا سکتا، یہ عمل مہلک ثابت ہوتا ہے۔ جیل میں اچانک نوازشریف کی حالت خراب ہوئی تو فوری طور پر سروسز ہسپتال میں پہنچایا گیا، وہاں پروفیسر کی سطح کے 27 سپیشلسٹ ڈاکٹروںکے تین بورڈ بنے۔ یہ بات سامنے آ گئی کہ نوازشریف کچھ عرصے سے اپنے ذاتی معالج، ڈاکٹر عدنان، کے زیر علاج تھے۔ اس نے نوازشریف کا بلڈ پریشر کم رکھنے کے لئے ضرورت سے زیادہ ’’لوپرن‘‘ دوا استعمال کرا دی، اس سے بلڈ پریشر خطرناک حد تک نیچے چلا گیا۔ سروسز ہسپتال میں مصنوعی طور پر سفید ذرات بڑھانے کی کوشش کی گئی، جو 29 ہزار تک پہنچ گئے مگر یہ علاج ہٹتے ہی پھر سات ہزار پر آ گئے۔ ہر طرح کی کوشش کے باوجود ڈاکٹروں کو اس کی وجہ سمجھ میںنہیں آ رہی تھی۔ پھر کراچی سے ہڈیوں کے کینسر کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی کو بلایا گیا۔ اس نے جو تشخیص کی اس کے مطابق علاج شروع کرایا گیا۔ اس کالم کی اشاعت تک تازہ صورتِ حال سامنے آ چکی ہو گی۔
اس صورت حال کا ایک قابل تحسین پہلو یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان  نے نوازشریف کی خراب حالت کا فوری نوٹس لیا۔ بیٹی مریم نواز کو فوری طور پر پیرول پر رہا کرکے ہسپتال لایا گیا۔ اپنے والد کی حالت دیکھ کر وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی۔ اس کی بھی حالت خراب ہو گئی۔ اسے ایک گھنٹے کے لئے لایا گیا تھا مگر رات بھر ہسپتال میں ہی رکھا گیا اورحالت نارمل ہونے پر صبح پھر جیل بھیج دیا گیا۔ دریں اثنا وزیراعظم کی ہدائت پر پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور اور وزیر صحت یاسمین ارشد بھی ہسپتال پہنچ گئے اور نوازشریف کو پاکستان کے اندر کسی بھی ہسپتال میں حتیٰ کہ عدالت کی اجازت سے بیرون ملک علاج کی بھی پیش کش کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ بزدار کا بیان بھی آ گیا کہ ان کا خصوصی طیارہ کہیں بھی لے جانے کے لئے ہر وقت تیار ہے۔ وزیراعظم عمران خان  نے بلاشبہ انسانی ہمدردی کا اچھا مظاہرہ کیا ۔ انہیں یاد ہو گا کہ جب انتخابی مہم کے دوران وہ لاہور میں سٹیج سے گر کر سخت زخمی ہو گئے تھے تو شدید مخالفت کے باوجود نوازشریف ان کی عیادت کے لئے پہنچ گئے تھے۔ اب اس کے برعکس صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ بعض حلقے مشورہ دے رہے ہیں کہ عمران خان کو بھی ایسا ہی طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ یہ بات بعض وجوہ کی بنا پر مشکل دکھائی دیتی ہے۔ سروسز ہسپتال میں ہر وقت لیگی کارکن جمع رہتے ہیں۔ عمران خان کو دیکھنے سے بدمزگی پیدا ہو سکتی ہے۔ خدا کرے نوازشریف کی حالت بہتر ہو جائے۔ ویسے ذہن میں ایک خیال آتا ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز کو بیرون ملک علاج کے لئے بھیجا جا سکتا ہے تو بھیج دیں۔ ملک کے اندر ہر وقت کا شور شرابا ختم ہو جائے گا۔ یہ ممکن نہیںتو باپ بیٹی کو ان کی رہائش گاہ ’جاتی عمرا‘ میں نظر بند کر دیا جائے۔ اس پر بھی کشیدگی خاصی کم ہو سکتی ہے۔
٭ایک عجیب واقعہ ایک عجیب شہرت والی رقاصہ لڑکی حریم شاہ، کسی طرح اسلام آباد میں وزارت خارجہ کی وسیع و عریض بلند عمارت کی چوتھی منزل پر واقع کانفرنس روم میں پہنچ کر وزیرخارجہ کی مخصوص کرسی پر بیٹھ گئی اور بھارتی گانوں پر مبنی ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کر لی۔ اس موقع پر اس کے ایک ساتھی نے پورے منظر کی ریکارڈنگ کر کے انٹرنیٹ پر چلا دی۔ اس سے ہنگامہ خیز صورت حال پیدا ہو گئی۔ اس لڑکی کی مختلف بڑی شخصیات حتیٰ کہ عمران خان  کے ساتھ بھی تصاویر وائرل ہو چکی ہیں۔ وزیراعظم ہائوس کے حکم پر اس لڑکی کی اس بے تکلفانہ دیدہ دلیری کی تحقیقات شروع ہو چکی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بعض حلقوں نے وزارت خارجہ کی اس چوتھی منزل کے کچھ پراسرار قسم کے قصے بھی چھیڑ دیئے ہیں۔ اس لڑکی نے بتایا ہے کہ وہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی بہت بڑی فین ہے، ہر وقت ان کے بارے میں سوچتی رہتی ہے۔ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر وزیرخارجہ سے ملنے کے لئے وزارت خارجہ میں آ گئی۔ وہاں ملتان سے کچھ ملاقاتی آئے ہوئے تھے ان کے ساتھ بلا روک ٹوک چوتھی منزل پر پہنچ گئی۔ وہاں ملاقاتیوں کے کمرے کا ایک پچھلا دروازہ  اندر کی طرف کھلتا تھا۔ وہ اس سے گزر کر کانفرنس ہال میں چلی گئی اور اپنی ’محبوب‘ کرسی پربیٹھ گئی۔ باقی کہانی قارئین دیکھ چکے ہیں۔ اس واقعہ پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں! ظاہر ہے !اٹھیں گے۔ عجیب اتفاق ہے کہ عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ کا نام ’ریحام‘ اور اس لڑکی کا نام ’حریم‘ کتنے ملتے جلتے ہیں!
گزشتہ کالم میں دنیا کی ایک مظلوم خاتون، ’نصرت بھٹو‘ کے حالات چھپے تھے۔ آج ایک ’مظلوم‘ مرد کے بارے میں پڑھ لیجئے: والد کے جنازہ میں شریک نہ ہو سکے، بیوی کی آخری سانسوں کے وقت موجود نہ رہ سکے…جیل میں گئے تو دونوں میں سے کوئی بیٹا پاس نہ تھا۔ اب حالت بہت تشویش ناک ہو گئی، افراتفری مچی ہوئی ہے تو بھی کوئی بیٹا پاس نہیں، بیٹی اور داماد بھی جیل میں ہیں۔ شریف خاندان کے 14 افراد کے خلاف 36 مقدمے زیر سماعت ہیں۔ نوازشریف سات سال قید اور تقریباً تین ارب روپے جرمانہ بھگت رہے ہیں۔ بیٹی کی بھی یہی صورت حال ہے! یہ اس شخص کا عالم ہے جو بڑے بڑے لشکر جہازمیں بھر کر غیر ملکی دوروں پر جاتا تھا، قلم کے ایک جُملے سے درباری قسم کے افراد 20,20 لاکھ روپے ماہوار کے عہدوں پر مقرر ہو جاتے تھے!
مگر صرف شریف خاندان ہی نہیں۔ عبرت سرائے دہر کی اور مثالیں بھی ہیں! ایک شخص کراچی کے ایک سینما گھرمیں ٹکٹیں بیچتا تھا! پھر یوں ہوا کہ وہ ملک کا ’مرد اوّل اور ملک کے اندر اور باہر بڑے بڑے 87؍اثاثوں کی وسیع سلطنت کا مالک بن گیا۔ برطانیہ میں سرے محل، فلیٹ، فرانس میں نواب محل، شارجہ میں شاہانہ قسم کا فارم ہائوس، دبئی میں 14,14 منزلہ چار پلازے (سالانہ کرایہ 13 ارب روپے)، پاکستان میں پانچ شوگر ملیں، دوسری بہت سی ملیں، ہزاروں ایکڑ اراضی، پاکستان، بلجیم، فرانس، لندن و امریکہ میںبہت سی فیکٹریاں، وسیع اراضی اور بڑے بڑے کاروبار، صرف امریکہ میں 37 صنعتی و تجارتی کاروبار، ٹیکساس میں وسیع و عریض گھوڑوں کا ’’سٹڈ فارم‘‘، نیویارک میں شاہانہ فلیٹ (بے نظیر اس میںنہیں ٹھہرتی تھیں!!) یہ صاحب منی لانڈرنگ کے الزام پر اپنے خلاف امریکی سینٹ کی قرارداد کی بنا پر امریکہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ اور…اور اب نیب کی قید میں سی کلاس کے قیدی، صرف ایک پنکھا، ایک بیڈ، ایک میز ایک کرسی اور بس! مختلف بیماریوں کے باعث جسم ضعیف اورڈھانچہ بن گیا۔ آسانی سے چلنا پھرنا مشکل ہو رہا ہے۔87 جائیدادیں اور 10 فٹ آٹھ فٹ کا ایک کمرہ، ایئرکنڈیشنر، ریفریجریٹر، ٹیلی ویژن! کچھ نہیں۔ عبرت اور کیا ہوتی ہے!
٭ایک تحقیق بلاتبصرہ، کچھ افراد کی عمریں: ڈاکٹر مبشر حسن 97سال، 8 مہینے 9 دن… نوازشریف: 69 سال 9 ماہ 25 دن…آصف زرداری: 63 سال9 مہینے 25 دن…عمران خان : 66 سال 9 ماہ26 دن…فضل الرحمان: 65 سال،10 ماہ24 دن…سراج الحق: 56 سال9 ماہ 30 دن… بلاول زرداری 30 سال 9 ماہ 21 دن…خواتین کی عمریں جان بوجھ کر نہیں دی جا رہیں، وہ کبھی 21 یا 22 برس سے اوپر نہیں جاتیں!
٭بالآخر پاکستان اور بھارت میں کرتارپور راہداری  کے سمجھوتہ پر دستخط ہو گئے۔ بھارت نے تمام شرائط تسلیم کر لیں۔ 9 نومبر کو افتتاح ہو گا۔
٭صبح سے بجلی بند ہے۔ حسب معمول شام تک لوڈ شیڈنگ!