08:40 am
سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

08:40 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

وہ جانتا ہے کہ کائنات کا رب توایک اللہ ہی ہے لیکن نزولِ وحی سے قبل ہدایت کی تفصیلات اس کے سامنے نہیں ہوتیں،وہ جاننا چاہ رہا ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ انسانیت کا یہ قافلہ کس طرف جارہا ہے؟معاشرے میں ظلم اور ناانصافی کا سد باب کیسے ہو سکتا ہے؟تو آپﷺ بھی تلاش حقیقت میں سرگرداں تھے،اصل ہدایت تک پہنچنا چاہ رہے تھے،تمام علمی سوالات کا جواب چاہ رہے تھے۔اس کے لیے آپؐ کئی کئی دن غار حرا میں جایا کرتے تھے۔ہم تو کہیں گے کہ عبادت کے لیے جایا کرتے تھے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عبادت کی نوعیت کیا تھی ؟کیونکہ عبادت کا موجودہ طریقہ تو نازل نہیں ہوا تھا،ابھی وحی تو اُتری نہیں تھی۔اُم المومنین حضرت عائشہؓ کا قول ہے کہ آپؐ جو عبادت غار حرا میں فرمایا کرتے تھے وہ تجسس، غور وفکر پر مبنی ہوتی تھی کہ کائنات کی تخلیق اور انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟اصل حقائق کیا ہیں؟ یعنی آپؐ تلاش حقیقت میں سرگرداں تھے۔ تو اللہ نے دوسرا احسان آپؐ پر یہ کیا کہ آپ ؐ پر حقائق کے دروازے کھول دئیے۔سورۃ الشوریٰ(آیت:52) میں فرمایا :’’(اے نبیﷺ !)آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے‘‘ ’’لیکن اس (قرآن) کو ہم نے ایسا نور بنایا ہے جس کے ذریعے سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔‘‘
آگے تیسرے احسان کا ذکر آرہا ہے ۔
’’اور اس نے آپؐ کو تنگ دست پایا تو غنی کر دیا!‘‘
 یہاں بھی اللہ جتا رہا ہے کہ وہ رب آپؐ کوتنہا نہیں چھوڑے گا جس نے قدم قدم پر آپؐ کی راہنمائی کی ہے اور یہاں تیسرا احسان یہ بیان کیا جارہاہے کہ آپؐ کو تنگ دست پایا تو غنی کر دیا۔وہ عالم اسباب میں کسی کو ذریعہ بناتا ہے اور آپ ؐ کا ذریعہ آپؐ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجۃ الکبریؓ کو بنایا ۔جس طرح حضور ﷺ کو قریش نے الصادق و الامین کاخطاب دیا ہوا تھا،اسی طرح حضرت خدیجہؓ کوانہی قریش نے طاہرہ کا خطاب دیا ہوا تھاکیونکہ وہ انتہائی پاکباز خاتون تھیں۔امیر اتنی تھیں کہ ان کے تجارتی قافلے یمن سے شام تک پھیلے ہوئے تھے لیکن پورے معاشرے میں ان کا خاص وصف یہ تھا کہ وہ پاکباز تھیں۔مکہ کے بڑے بڑے سردار ان سے نکاح کے خواہش مند تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا دل آپﷺ کی طرف پھیر دیااور انہوںنے خود آپؐ کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔آپ ﷺ سیرت کے لحاظ سے سب سے اونچے مقام پر تھے لیکن مالدار نہیں تھے البتہ آپؐ کی خواہش ہوتی تھی کہ یتیموں، بیواؤں،مسافروں کی مدد کریں اور جو قافلے حج کے لیے آرہے تھے ان کی ضروریات کا خیال کریں۔ خدمت خلق کا جذبہ اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو تھا چنانچہ حضرت خدیجہؓ سے نکاح کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو آپؐ کی خواہش کے مطابق تمام اسباب فراہم کر دئیے۔سیرت کا ایک واقعہ ہے کہ حضور ﷺ ایک مرتبہ پریشانی کی حالت میں گھر تشریف لائے تو حضرت خدیجہؓ نے پوچھا کہ پریشان کیوں ہیں۔ فرمایا :حاجیوں کا ایک قافلہ آیا ہے لیکن ان لوگوں کے پاس نہ کھانے کو کچھ ہے اور نہ ہی موسم کی مناسبت سے کپڑے ہمراہ ہیں،انتہائی بُرے حالوں میں ہیں اور میرے پاس کچھ نہیں کہ میں ان کی مدد کر سکوںچونکہ آپؐ حضرت خدیجہؓ کے مال کو اپنا نہیں سمجھتے تھے لہٰذا حضرت خدیجہؓ کو احساس ہو ا کہ حضور ﷺ کی پریشانی کیا ہے۔انہوں نے قریش کے سرداروں کو بلایا اور ان کے سامنے اپنے سارے مال کا ڈھیر لگا دیا اورکہا کہ گواہ رہنا میں نے اپنا سارا مال محمد ﷺ کو دے دیا ہے۔اب یہ ان کی ملکیت ہے چنانچہ اب آپ ﷺ کو سہولت ہوگئی کہ خدمت خلق کا کام بھرپور طریقے سے کر سکیں۔اس آیت میں اس پس منظر کو بیان کیا گیا ہے اور آپ ﷺ کو احساس دلایا گیا ہے کہ وہ رب آپ ؐ کو اکیلا چھوڑنے والا نہیں ہے۔ 
 ’’تو آپؐ کسی یتیم پر سختی نہ کریں۔‘‘
حضور ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے تین بڑے احسانات کے ذکر کے بعد اب یہاں اسی مناسبت سے تین راہنما اُصول بتائے گئے ہیں۔یتیم چونکہ معاشرے کا سب سے کمزور اور قابل رحم طبقہ ہوتا ہے لہٰذا سب سے پہلے آنحضور ﷺ کی حیات مبارکہ کو یتیموں کے لیے ایک نمونہ بنایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے خود آپؐ کی سرپرستی فرما کر اُمت کے لیے ایک راہنما اُصول بنا دیا اور یہاں یہی اُصول بتایا جارہاہے کہ آپؐ بھی اسی طرح یتیموں کی سرپرستی کا اہتمام کریں اور معاشرے میں اُن پر سختی نہ ہونے پائے۔آپ ؐ تو خود یتیم تھے،لہٰذا آپ ؐ کو احساس تو تھا ہی لیکن آپؐ رحمتہ اللعالمین بھی بنا کر بھیجے گئے ہیں،آپ ؐ تو ہیں ہی احسان کرنے والے اور رحم دل۔یہ ممکن ہی نہیں کہ آپؐ سے کسی یتیم پر سختی کا معاملہ ہو۔لہٰذا آپؐ کے ذریعے یہ اُمت کو بتایا جارہاہے کہ یتیم معاشرے کاقابل رحم طبقہ ہے اور سب سے زیادہ بے یارو مددگار لہٰذا اس کا اکرام ہو اور اس کے حقوق سلب نہ ہونے پائیں۔
(جاری ہے)