08:41 am
 نظر ثانی کی گذارش

 نظر ثانی کی گذارش

08:41 am

  دھرنا خبروں میں چھایا ہوا ہے! بعض احباب مُصر ہیں کہ دھرنے پر قلم اُٹھایا جائے۔ راقم کی طبیعت اس جانب مائل نہیں ہو پارہی۔ احباب سے یہ کہہ کر جان چھڑوانے کی کوشش کرتا ہوں کہ چند روز کی تو بات ہے۔ جب اکتیس اکتوبر آئے گی تو  دھرنے کا  پتا چل ہی جائے گا ۔ بیشتر معاملات میں  حکومت کی ناکامی اور عمومی نا اہلی عوام کے لیے باعثِ تشویش ضرور ہے لیکن اِس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ سابقہ حکمرانوں اور حزبِ اختلاف کے بزر جمہروں کی نااہلیوں اور بد عنوانیوں کو نظرانداز کر دیا جائے۔ ماضی کے نکھٹو اور نکمے آج پارلیمان میں بطور حزب اختلاف بھی نکمے اور نکھٹو ہی ثابت ہو رہے ہیں۔  موجودہ حکمراں جس طرح ناقص کارکردگی کی بنیاد پر آج  عوامی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہیں بالکل اسی طرح حزب اختلاف کی صفوں میں پائے جانے والے ہر برانڈ کے راہنمائوں کے ماضی کے کر توت بھی عوام سے ڈھکے چھپے نہیں ۔ دھرنے میں امامت کا فریضہ انجام دینے والی مذہبی سیاسی جماعت کا ایک مخصوص ماضی ہے۔ یہ ماضی بعض  تضادات اور ناخوشگوار حوالوں کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔  سیاسی ٹریک ریکارڈ کی بنیاد پر عوام اور میڈیا بآسانی ایک رائے قائم کر سکتے ہیں ۔ سیاسی مخالفین جب ماضی کھنگالتے ہیں تو بات طرفین کے اکابرین تک جا پہنچتی ہے۔ دھرنے کے لیے پی پی پی اور نون لیگ سے معاونت کی تمنا کی جا رہی ہے ۔ مشاورت اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کو نااہل قرار دے کر استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والی جماعت جب ماضی کے نااہل اور بد عنوان حکمرانوں سے دست تعاون طلب کرتی ہے تو عوام کی نگاہوں میں اُس کا موقف کمزور بھی ہوتا ہے اور مشکوک بھی! گذشتہ ڈیڑھ دو عشروں میں مذہبی سیاسی جماعتوں نے اپنی مبہم اور ناقص پالیسیوں کی بدولت عوام میں اپنی ساکھ مجروح کر وائی ہے ۔ اس کمزور پہلو کو بنیاد بنا کے غیر ملکی اشاروں پر ناچنے والے سیکیولر لبرل حلقے تمام دینی طبقوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں ۔ ماضی میں تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ کا حصہ رہنے والی سیاسی جماعتیں آج مذہبی کارڈ کا بے بنیاد طعنہ دے کر دینی جماعتوں کو قصوروار بنانے کی کوشش کرتی ہیں ۔ قومی اتحاد کی تحریک نظام مصطفیﷺ اور اسلامی جمہوری اتحاد کے تجربے نے واضح کیا کہ دینی جماعتوں کی افرادی قوت اور نظم و ضبط کو استعمال کرنے والی سیکیولر طرز فکر کی حامل جماعتیں اپنا سیاسی اُلو سیدھا کر کے ایک جانب ہو جاتی ہیں ۔ طعنے اور جھوٹے الزامات کا سامنا محض مذہبی جماعتوں کو کرنا پڑتا ہے۔ سیاسی مقاصد کے لیے مذہبی جنون کو بھڑکانا اور بات ہے اور مذہب کو جائز سیاسی جدوجہد کے لیے استعمال کرنا بالکل مختلف بات ہے۔ مسلمانان بر صغیر کے سیاسی و سماجی حقوق کے تحفظ کے لیے جب قائد اعظم ؒ نے پاکستا ن کا مطلب کیا ؟ لا الہ الااﷲ کا نعرہ اختیار کیا تو یہ عوام کے جذبات بھڑکا کے سیاسی کا میابی حاصل کرنے کے لیے رچایا گیا کوئی ڈرامہ نہیں تھا بلکہ اس نعرے کے پیچھے ایک پختہ نظریہ کار فرما تھا ۔ البتہ اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ کی صفوں میں بھی منافقانہ سوچ کے حامل مفاد پرست عناصر مقدس کلمے کو استعمال کر کے اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے شامل ہوگئے تھے ۔ خود قائدِ اعظم نے یہ کہا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ بدنیتی سے مذہب کارڈ استعمال کرنے والے اپنے عمل کی بنیاد پر بے نقاب ہو کے رہتے ہیں ۔ تحریک نظام مصطفیٰﷺ کا حصہ رہنے والی جماعتیں بالآخر ضیائی مارشل لاء کی کابینہ میں جا بیٹھیں ۔ صرف ایئر مارشل اصغرخان کی تحریک استقلال اور علامہ شاہ احمد نورانی کی زیر قیادت جے یو پی اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے مارشل لاء اور آمر کے خلاف سیاسی جدوجہد کرتے رہے۔ آج مورخ  فیصلہ کر سکتا ہے کہ نورانی میاں جیسے مذہبی راہنماء  اور اصغر خان جیسے سیکیولر سوچ کے حامل سیاستدان نے مذہبی کارڈ استعمال نہیں کیا بلکہ اصولوں پر مبنی سیاست کی۔ جبکہ قومی اتحاد کی دیگر مذہبی جماعتوں کا سیاسی کردار اس حوالے سے داغدار ہو گیا ۔
 آئی جے آئی کی  تاریخ سے بھی یہی سبق ملتا ہے کہ جماعتوں کی قیادت کی نیت اور طرز عمل سے یہ نتیجہ نکالنا چاہیے کہ وہ مذہبی کارڈ ذاتی اغراض کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے جد وجہد کر رہے ہیں ۔ ممکنہ  دھرنے کی امامت کرنے والی جماعت اور اُس کی اقتدا میں یہ فریضہ انجام دینے کے لیے راضی ہونے والی سیکیولر اور لبرل شخصیات یا جماعتیں ماضی میں بھی تحریک نظام مصطفیٰﷺ اور آئی جے آئی کا حصہ رہ چکی ہیں ۔ اچکزئی  کی پی کے میپ ، اسفند یارولی خان صاحب کی اے این پی اور جے یو آئی جیسی نظریاتی و فکری تضادات کی حامل جماعتیں سیاسی اتحادوں میں ادا کئے جانے والے  کردار کی بدولت ایک خاص ماضی کی حامل ہیں جو زیادہ مثبت اور خوشگوار نہیں ۔ دھرنے کی میزبانی و امامت پر مائل جماعت کی سیاسی حکمت عملی کی بدولت  عہد مشرفی میں ایم ایم اے  جیسا عظیم مذہبی  اتحاد پارہ پارہ ہو چکا ہے۔ یہ امر غور طلب ہے کہ ناموس رسالت اور ختم نبوت جیسے حساس ترین معاملات پر مذہبی حلقے نون لیگی دور حکومت میں حکومت یعنی نون لیگ کے خلاف احتجاج بھی کرتے رہے اور تشویش کا شکار بھی رہے ۔ خود جے یو آئی کے سربراہ نے یہ فرمایا کہ ختم نبوت کے معاملے پر پارلیمان میں ہماری جیب کٹ گئی ۔
 جس نون لیگ پر کل شک تھا آج اُس سے اتحاد عوام کو کیا پیغام دے گا ؟ کیا حکومت گرنے یا وزیر اعظم کے مستعفی ہونے سے ملک مستحکم ہو گا ؟ کیا دھرنے کی امامت فرمانے والوں کے پاس معیشت و خارجہ پالیسی درست کرنے کا موثر متبادل منصوبہ مو جود ہے؟ کیا حالات دھرنے کے لیے سازگار ہیں ؟ افغانستان میں ننگر ہار صوبے کے علاقے ہسکا مینہ میں نماز جمعہ کے دوران مسجد میں دھماکوں سے باسٹھ افراد شہید اور سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں ۔ خون کے آنسو رلا نے والی اس خبر کے ساتھ یہ بھی شائع ہو رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں دو ماہ سے مسلمانوں کو نماز جمعہ بھی ادا نہیں کرنے دی جا رہی۔ ہمارے مشرق و مغرب میں آگ کے الائو دھکانے والا ازلی دشمن بھارت تمام حالات پر نگاہ رکھے بیٹھا ہے۔ پاکستان کا عدم استحکام بھارت کی دلی خواہش ہے۔ احتجاج اور دھرنے پر مائل جماعتیں اور قائدین حکومت کی اصلاح کا فریضہ گلیوں بازاروں کے بجائے پارلیمان میں انجام دیں تو زیادہ بہتر ہو گا ۔ آپس کی بات ہے دو دو عشرے پارلیمان ،  سرکاری کمیٹیوں اور کابینائوں میں بیٹھ کر جو کام انجام نہ دیا جا سکا وہ ایک دھرنے سے کیسے انجام پا جائے گا ؟ یہ بات طے ہے کہ دھرنے سے کوئی بہتری متوقع نہیں ۔ خدشہ ہے کہ ملک بھی انتشار کا شکار ہو گا اور مذہبی جماعتوں کا تاثر بھی مزید مجروح ہوگا ۔ گذارش ہے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف اپنے اپنے موقف پر نظرثانی فرمائیں!