08:41 am
تباہی کاراستہ

تباہی کاراستہ

08:41 am

اوباماایک اہم میٹنگ میں مصروف تھے کہ ان کویہ اہم حادثے کی اطلاع پہنچائی گئی کہ"ساؤتھ ایشیااوراس کے گردونواح کے درجن سے زائدملکوں میں ڈرون حملوں کوکنٹرول کرنے والا خوست افغانستان میں سی آئی اے کاسب سے بڑاغیرملکی اڈہ اوروہاں پرکام کرنے والے انتہائی مہارت کے حامل تمام افرادسمیت ایک خودکش حملے میں تباہ کردیاگیاہے۔اب تک اس اڈے پر اڑتی ہوئی راکھ اس سپرطاقت کامذاق اڑانے کیلئے عبرت کے طور پرموجودہے۔چند لمحوں کے بعد اوبامانے میڈیا کے سامنے آج کے ٹرمپ کی طرح ہی غیض و غضب کا اظہارکیا جس سے صاف پتہ چلتاتھاکہ اب سرخ آندھی کی شدت اور اس کا رخ ہرکسی کوبہالے جائے گا۔
امریکاکوآج بھی افغانستان میں ایسی ہی مزاحمت کاسامناہے جیسااس کی دوگماشتہ ریاستوں اسرائیل اوربھارت کو فلسطین اور کشمیرمیں ہے۔تینوں ممالک ظلم، وحشت اورتشددکے ذریعے عوام کو دبانے اوران کی سرزمین پراپنا ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہیں مگرتحریکِ مزاحمت میں کمی آنے کی بجائے تیزی آرہی ہے تاہم ٹرمپ نے ایک عوامی اجتماع میں اپنی باقی ماندہ فوج کی واپسی کاعندیہ دیاہے مگراسرائیل و بھارت نے سبق حاصل کرنے کی بجائے ریاستی دہشتگردی میں اضافہ کردیاہے جس کانتیجہ یقیناخوفناک اورشرمناک ہوگا۔
افغانستان اورعراق پرامریکی حملے کسی اخلاقی و قانونی جوازسے محروم اورطاقت کی فرمانروائی کانتیجہ تھے۔آج تک امریکا11ستمبر کے واقعات میں افغانستان کی طالبان حکومت اورالقاعدہ تنظیم کے ملوث ہونے کاکوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ عراق پر حملے کا جوازمہلک کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کو قراردیا گیااورصدام کے القاعدہ سے رابطوں کی کہانی گھڑی گئی مگرآج تک نہ توکیمیائی ہتھیاربرآمدکئے جاسکے اورنہ ہی القاعدہ سے رابطوںکاکوئی ثبوت ملا بلکہ خود امریکی اہلکاروں وعہدیداروں نے اپنی ناکامی اورغلطی کا اعتراف کیااورٹونی بلیئرنے عالمی میڈیاکے ساامنے معافی بھی مانگی۔
جہاں تک کشمیرکاتعلق ہے تواقوام متحدہ کی دونوں قراردادوں کوبھارت نے نہ صرف تسلیم کیابلکہ نہرواور دوسرے عالمی لیڈروں نے بطورضامن اس قرارداد پردستخط کئے کہ بھارت ریاست جموں و کشمیر میں رائے شماری کاپابندہے جس کوبنیا قیادت پچھلی سات دہائیوں سے زائد اپنی کہنہ مکرنیوں سے لیت و لعل سے کام لیتے رہے اوراب اس نے جہاں ان قرار دادوں بلکہ اپنے ملک کے آئین کے بھی پرخچے اڑادیئے ہیں۔
کشمیری عوام بھارت کی ریاستی دہشتگردی سے تنگ آکراپنے وطن کو آزاد کرانے کیلئے برسرپیکار ہیں جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ان علاقوں میں اپنے حقِ خودارادیت کیلئے جدوجہد کرنے والوں کشمیریوں کے خلاف بھارتی سفاکانہ اقدام پرمکمل خاموشی یہ ثابت کررہی ہے کہ ان کی اصل جنگ مسلمانوں کے خلاف ہے اوروہ ہراس طاقت کے معاون اور سرپرست ہیں جومسلمانوں کوصفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے ریاستی دہشتگردی میں مصروف ہے بلکہ برسوں ہردو کالونیسٹ ذہنیت کے ممالک نے بعض مسلم حکمرانوں اوردانشوروں کی یہ غلط فہمی دورکردی اوراپنے ان دعوؤں کی بھی نفی کردی تھی کہ دہشتگردی کے خلاف حالیہ جنگ مسلمانوں کے خلاف نہیں اورامریکی قیادت دہشتگردی اورحقِ خودارادیت کی جنگ میں فرق کرتی ہے۔
اب پاکستان کے حکمرانوں کے سوچنے کی بات ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اوردہشتگردی کے خلاف تعاون کرکے وہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں بلکہ کشمیر میں تحریکِ مزاحمت کچلنے کے لئے ایف اے ٹی ایف کی تلوارسے کیوں کانپ رہے ہیں۔کمانڈو مشرف کے زمانے میں توہرقسم کی جہادی تنظیموں پرپابندی لگانے کامقصد دراصل کشمیر کی حمائت سے ہاتھ اٹھانے کا واضح اشارہ تھالیکن اس کے باوجودسفاک ہندوپاکستان کوبربادکرنے پرتلاہواہے اورموجودہ حکومت نے توبھارت کے ساتھ دوستی اوربات چیت کیلئے اپنے ہراصولی مؤقف کو بھول کرکئی اقدامات بھی کئے جس سے کشمیرکے بارے میں ان کی کوششوں کی حقیقت کا بھی صاف پتہ چل رہا ہے۔ہمارے حکمران اپنے عوام کو غلط فہمی میں مبتلا رکھنے کیلئے امریکا کی اب بھی صفائیاں دے رہے ہیں۔
امریکااوراس کے مغربی اتحادی اس انتہاپسندانہ یکطرفہ مسلم کش پالیسی کے نتیجہ میں افغانستان امریکی اوربرطانوی مفادات پرخودکش حملوں کی صورت میں اس جنگ کواپنی مکارانہ سیاسی چالوں سے پاکستان کی طرف موڑ دیا ہے۔ امریکا اور برطانیہ نے اپنے ایجنٹوں کو یہ ٹاسک دیاہے جو ان معصوم لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کررہے ہیںکہ ایف اے ٹی ایف کی تلوار پاکستانی افواج اور پاکستان میں مددگارثابت ہورہی ہے۔اس لئے تمہاراہدف اب پاکستان کی وہ تمام جماعتیں ہیں جوعملًا کشمیرکی آزادی کیلئے مسلح جدوجہدکانعرہ لگاتی ہیں جبکہ خود اقوام متحدہ کے چارٹرمیں یہ قراردادموجودہے جس میں ان تمام مظلوم قوموں کومسلح جدوجہدکاحق دیاگیاہے۔
اگرآپ کویادہوتوسب سے پہلے امریکا نے یمن میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اپنے اس مذموم پروگرام پر عملدرآمد شروع کیاتھا جس کی آڑمیں اب سعودی عرب کومکمل ملوث کر دیا گیا ہے۔ آپ کو اگریادہوتو میں نے آج سے 16سال پہلے پینٹاگون کے کرنل رالف پیٹر کے اس مجوزہ نقشے کی بابت خبردارکیاتھاجس میں کئی مسلم ممالک کے حصے بخرے کرکے کئی نئی مملکتوں کے قیام کو دکھایاگیاتھا۔اب بھی وقت ہے کہ مسلمان حکمران ہوش کے ناخن لیں اورفوری طورپر مسلم سربراہ کانفرنس بلا کرایک موثر اور پائیدارلائحہ عمل مرتب کریں۔ امریکہ کے عزائم کو سمجھیںبھارت کی سرپرستی کے نتائج کا درست اندازہ لگائیں اورفلسطین ،کشمیرعراق، افغانستان میں تحریکِ مزاحمت کی ناکامی کے مضمرات پرغور کریں اورپھر مستقبل کا کوئی آبرومندانہ اورٹھوس لائحہ عمل تیارکریں تاکہ ہرجگہ مسلمانوں کاخونِ ناحق بہانے کی موجودہ امریکی پالیسی میں تبدیلی لائی جاسکے۔
یاسرعرفات کاحشرسب کے سامنے ہے اوریہی حشران تمام حکمرانوں کاہوگاجو امریکی جنگ میں حصہ داربن رہے ہیں۔ مسلمان بھائیوں کی تحریکِ مزاحمت کو کمزور کرنے اور جہاد کو دہشت گردی اورانتہاپسندی قراردینے کے درپے ہیں یہ تباہی کاراستہ ہے۔ اگرطالبان ،امریکہ اوراس کی اتحادی قوتوں کو افغانستان میں آئینہ دکھاسکتے ہیں توآخرایک ارب پچیس کروڑمسلمانو ں اوران کے حواری حکمرانوں کو کیوں سانپ سونگھ گیاہے ،وہ عالمی دہشتگردوں اور موجودہ دور کے ہٹلروں کے خلاف کیوں صدائے احتجاج بلندنہیں کر تے جومل جل کر مسلمانوں کوصفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں، آخر  سید علی گیلانی جیسے مجاہد سے کچھ توسبق حاصل کریں جوتن تنہا اس پیرانہ سالی میں دنیا کے ایک بہت  بڑے عقوبت خانے میں اپنی قوم کوآزادی کی منزل کی طرف لیکر رواں دواں ہے۔سید صاحب!یوں لگتاہے دنیابھرکے مسلمان شائد آپ کی قیادت میں جمع ہوکرہی اپنی گم گشتہ منزل کاگوہرحاصل کرپائیں گے۔اللہ آپ کا نگہبان ہو!

تازہ ترین خبریں