08:42 am
غیر ملکی سفیروں اورمیڈیا کے نمائندوں کا ایل او سی کا دورہ 

غیر ملکی سفیروں اورمیڈیا کے نمائندوں کا ایل او سی کا دورہ 

08:42 am

پاکستان میں مقیم غیر ملکی سفیروں نے وزارت خارجہ اور پاکستان آرمی کے تعاو ن سے لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا تھا جہاں گزشتہ کئی ماہ سے بھارت عالمی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی سرحد کے اندر بلا اشتعال گولہ باری کر رہا ہے جس میں کئی پاکستانی شہری اور فوج کے سپاہی شہید ہوئے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں کئی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں حکومت پاکستان ان غیر ملکی سفیروں کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک کھلی جارحیت ہے پاکستان اس جارحیت کی نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ اس سے نمٹنا بھی جانتا ہے اور بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے جیسا کہ پاکستان میں گزشتہ دنوں ایل اہ سی پر بھارتی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے اس کے 9فوجیوں کو ہلاک کر کے بھارت کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کو ہر گز کمزور نہ سمجھا جائے وہ بھارت کی طرح ایک ایٹمی طاقت ہے اور جدید اسلحہ سے لیس ہے۔ دوسری طرف بھارت لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کرنے کی یہ وجہ بتا رہا ہے کہ پاکستان کی سرحد کے اندر دہشت گرد موجود ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں کارروائیاں کرتے رہتے ہیں
پاکستان نے دراصل بھارت کے اسی جھوٹ کو بے نقاب کرنے کے لئے غیر ملکی سفیروں اور عالمی میڈیا کے نمائندوں کو ایل او سی کا دورہ کرایا تھا تاکہ وہ خود بھارت کے دہشت گردوں سے متعلق الزامات کی حقیقت جان سکیں۔ تمام سفیروں نے یک زبان ہو کر میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے ایل او سی پر پاکستان کی سرحد کے اندر کسی قسم کے دہشت گردوں کے کوئی ٹھکانے نہیں دیکھے جبکہ مقامی لوگوں نے ان سفیروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں نہ تو دہشت گردوں کے اڈے ہیں او رنہ ہی یہاں دہشت گردوں کو کسی قسم کی کوئی کارروائی کرتے دیکھا ہے  چنانچہ بھارت کی جھوٹ اور الزامات کی قلعی ان لوگوں کے بیانات سے ہوتی ہے جو ایل او سی کے قریب رہ رہے ہیں اور جنہوں نے سفیروں سے بات کر کے انہیں اصل حقائق سے آگاہ کیا ہے ۔ در اصل بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی سے متعلق حقائق کو چھپانا چاہتا ہے اور عالمی کمیونٹی کو دھوکا دے رہا ہے کہ ایل او سی کے قریب پاکستان کی سرحد پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں، ساری دنیا اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ بھارت نے گزشتہ تین ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو قید میں جکڑ رکھا ہے یہ دنیا میں جدید عہد کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے جہاں انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جا رہا ہے بھارت روایتی انداز میں اپنے بھیانک جرم کو چھپانے کے لئے لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کر کے اپنے عوام اور عالمی کمیونٹی کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز صورتحال سے ہٹانا چاہتا ہے لیکن وہ اس میں ناکام ثابت ہوا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا ۔
غیر ملکی سفیروں نے ایل او سی پر اپنے دورے کے بعد بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں فی الفور کرفیو ختم کریں اور پاکستان سے اس اہم مسئلے پر بات چیت کر کے کوئی پر امن راستہ تلاش کریں تاکہ جنوبی ایشیاء میں کشیدگی کم ہو سکے اور امن کی کوششوں کو تقویت مل سکے چنانچہ غیر ملکی سفیروں کے لائن آف کنٹرول کے دورے کے بعد بھارت کی دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق الزامات کی قلعی کھل چکی ہے اور بھارت بری طرح بے نقاب ہو چکا ہے پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی اپنے ملک میں مقیم سفیروں کو لائن آف کنٹرول کا دورہ کرائے تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ اصل حقائق کیا ہیں اور کون امن کا دشمن ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت اپنے ملک میں مقیم سفیروں کو لائن آف کنٹرول کا دورہ نہیں کرائے گا کیونکہ بھارت کس منہ سے ان سفیروں کو ایل او سی کے قریب لائے گا جہاں اس نے 90لاکھ کشمیریوں کو قیدکر رکھا ہے اور انہیں ہر قسم کی اذیتیں پہنچائی جا رہی ہیں اور یہ انسانی المیہ ہر گزرتے دن کے بعد سنگین سے سنگین تر ہو تا جا رہا ہے بھارت کی ہٹ دھرمی اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بھارت پاکستان پر اچانک حملہ کرنا چاہتا ہے تاکہ محدود جنگ ـکی صورت میں عالمی کمیونٹی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی سے صرف نظر کر لیں لیکن بھارت کی یہ سوچ جنوبی ایشیاء میں غیر معمولی تباہی کا باعث بن سکتی ہے جو بعد میں اس خطے کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔ 
اس ضمن میں امریکہ بہاد رکی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے 5اگست کے فیصلے سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلس نے کہا ہے کہ امریکہ کی کشمیر سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے بلکہ امریکہ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک دیرینہ متنازع مسئلہ ہے جسے بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہئے اس طرح بھارت کو امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کے بیان سے مزید سبکی اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ مودی یہ سمجھ رہا تھا کہ اس کا امریکہ کا دورہ کرنے کے بعد امریکہ 100%کشمیر کے مسئلے پر بھارت کا ہمنوا بن چکا ہے اور ہر سطح پر بھارت کی حمایت اور طرفداری کرے گا لیکن مودی کی یہ سوچ خوش فہمی پر مبنی تھی جس کو امریکہ کی نائب وزیر خارجہ نے اپنا بیان دے کر دور کر دیا ہے یہاں یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی بھی سوچ یہی تھی کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے چنانچہ اسی لئے انہوں نے اپنی طرف سے ثالثی سے پیشکش کی تھی لیکن بھارت نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔ امریکہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ بھارت پر کلی انحصار کر کے وہ چین اور روس کو بھی خفا کر رہا ہے اس لئے امریکہ کی نائب وزیر خارجہ نے کشمیر سے متعلق یہ بیان دیا تھا تاکہ بھارت کی یکطرفہ خوش فہمی کو دور کیا جا سکے امریکہ کو اس بات ادراک ہے کہ بھارت نے وابستہ ملکوں کی تحریک کے دوران روس کا ساتھ دیا تھا اور ہر سطح پر امریکہ کی مخالفت کی تھی امریکہ ان دنوں کو نہیں بھولا ہے اور یہ محسوس کرتا ہے کہ بھارت پر قلعی انحصار کرنا امریکہ کی خارجہ پالیسی کو داغدار بنانے کے مترادف ہے اب امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے جس کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنا چاہئے دوسری طرف بھارت کشمیری عوام کو حق رائے دہی دینے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ اگر کشمیر میں اقوام متحدہ کی سربراہی میں کسی قسم کا ریفرینڈم ہوتا ہے تو کشمیری عوام بھارت کے تسلط کے خلاف ووٹ دیں گے اور پاکستان کے ساتھ شمولیت پر اتفاق کریں گے۔