08:43 am
ساہیوال کیس، عدل ایسا بھی ہوتا ہے!

ساہیوال کیس، عدل ایسا بھی ہوتا ہے!

08:43 am

٭انصاف! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چار افراد کا کھلے عام قتل، پولیس کے ملازم تمام ملزم صاف بری! اِنا للہ و اِنا الیہ راجعون! ذہن سُن ہے! یہ کیا ہو رہا ہے! 49 گواہوں کے بیانات، چشم دید گواہیاں، سب منحرف! 9 ماہ بعد شناخت پریڈ، خاندان کے مزید افراد قتل کرنے کی دھمکیاں، خاندان نے جان بچانے کے لئے ہاتھ جوڑ دیئے۔9 ماہ بعد ہونے والی شناخت پریڈ میں ملزم کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ عدل کے نظام میں بچوں کی گواہی کو بالکل صحیح تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کیس میں بچوں نے چشم دید گواہیاں دیں، ملزموں کو پہچان لیا۔ فائرنگ پولیس کی، استغاثہ پولیس کا، گواہیاں، تفتیش پولیس کی، دبائو اور دھمکیاں پولیس کی اور انصاف ہوگیا!49 نے ملزم کی فائرنگ کی چشم دید تصدیق کی۔ بچوں نے اپنے ماں باپ اور بہن کے قاتلوںکے حلیے بتا دیئے! بچوں کو اپنے نیچے لے کر بچانے والی ماں قتل ہو گئی۔ پولیس نے ہلاک ہو جانے والے مقتولین پر بھی گولیاںبرساتی رہی! تفتیش کے نام پر نام نہاد کارروائی، جِس بندوق سے فائرنگ کی، اسے فرانزک لیبارٹری میں نہیں جانے دیا! شور مچا تو دوسری بندوق بھیج دی، لیبارٹری رپورٹ آ گئی کہ کوئی فائرنگ نہیں ہوئی۔ ملک بھر میں شدید ردعمل ہوا۔ وزیراعظم عمران خان نے سخت صدمہ کا اظہار کیا، اعلان ہوا کہ قاتلوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ بیرونی دورے سے آ کر خود نگرانی کروں گا۔ وزیراعظم واپس آئے تو ’نگرانی‘ خاموش ہو گئی۔ جے آئی ٹی کی ایک رسمی تفتیشی کمیٹی بنائی گئی۔ اس کی آج تک رپورٹ سامنے نہ آئی۔ مقتول خلیل کے بھائی نے مقدمہ درج کرایا۔ اسے خوفناک دھمکیاں ملنے لگیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے یتیم بچوں کے گھر پر انصاف کا یقین دلایا۔ پھر وزیراعلیٰ کی زبان بھی خاموش ہو گئی۔ اور پھر کہیں بہت اوپر سے آنے والی خوفناک دھمکیوں سے مقتولین کا خاندان لرز گیا۔ مزید قربانیوں سے بچنے کے لئے ہاتھ جوڑ دیئے۔ لمبی بات ہے۔ مدعی جلیل کا تازہ بیان کہ 9 ماہ سے مقدمہ لڑ رہا ہوں، بے پناہ اخراجات ہوئے ہیں، اب مزید سکت نہیں رہی کیس مزید نہیں چلا سکتے۔
O میں سیدھے، سیدھے پنجاب پولیس کے آئی جی سے سوال کر رہا ہوں! آئی جی صاحب! کیا آپ اس فیصلے سے مطمئن ہیں؟ کیا یہ واقعہ نہیں ہوا؟ کیا سرعام چار افراد قتل نہیں ہوئے تھے؟ کیا ان لوگوں نے خود کشی کی تھی؟ قاتلوں کو سزا دلانا کس کی ذمہ داری تھی؟ دو مرد، ایک خاتون،  ایک بچی پر کوئی فائرنگ نہیں ہوئی؟ آپ کے نظام نے اپنی فورس کے چند ملازموں کو بچا لیا مگر! مگر آئی جی پولیس صاحب کیا آپ کا پختہ ایمان ہے کہ ایک آخرت کی عدالت بھی ہو گی؟ اس میں کوئی عہدہ، کوئی دبائو کام نہیں آئے گا! ذہن سُن ہے، اندھیر نگری چوپٹ راج! وزیراعظم، وزیراعلیٰ کے اعلانات ،  دعوے! اور سارے مجرم چھوٹ گئے۔ عدالت کیا کر سکتی تھی؟کوئی الزام ہی نہیں تو جوابدہی کیسی؟ بلکہ ان سب کو اب بڑی بڑی ترقیاں بھی ملیں گی کہ یہی اس نظام کی رِیت اور روائت ہے!
٭اور یہی نظام، یہی جمہوریت! یہی عدل و انصاف! عدالت میںسابق صدر جنرل مشرف کے خلاف غداری کے الزام میں کئی برسوں سے کیس چل رہا تھا، بلکہ لٹک رہا تھا۔ موجودہ آزاد جمہوری حکومت نے اس کیس میں استغاثہ کے 22 ارکان کو فارغ کر کے عملی طور پر کیس ہی ختم کر دیا ہے! پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار احمد سیٹھ، جسٹس نذر اکبر اور جسٹس شاہد کریم کے تین رکنی بنچ میں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو بتایا گیا کہ حکومت نے تو استغاثہ کی پوری ٹیم ہی تحلیل کر دی ہے۔ سرکاری وکیل رضا بشیر پھر عدالت سے غیرحاضر تھے۔ تحلیل ہونے والی ٹیم میں دس پراسکیوٹر اور 12 دوسرے لوگ شامل تھے۔ استغاثہ ہی نہ رہا تو کیس آگے کیسے چل سکتا ہے؟ نہ رہا بانس نہ بجے گی بانسری!! اس کیس کو چلتے ہوئے پہلے ہی کئی برس ہو چکے ہیں۔ مشرف دس برس پہلے صدر کے عہدے سے فارغ ہوا تھا، کئی برسوں سے دبئی میں پناہ گزین ہے! عدل و انصاف کی ایک اور ’’اعلیٰ‘‘ مثال!
٭کرتار پور راہداری کے معاہدہ پر دونوں ملکوں کے نمائندوں نے دستخط کر دیئے 9 نومبر کو باقاعدہ افتتاح ہو گا۔ اس بارے میں چند اہم باتیں: یہاں وسیع و عریض عمارت میں پانچ ہزار افراد سما سکتے ہیں۔ روزانہ پانچ ہزار یاتری آئیں گے، سرحد پر سرکاری بسیں موجود ہوں گی تاہم چار کلو میٹر کا فاصلہ پیدل بھی طے کیا جا سکے گا۔ کسی ویزا کی ضرورت نہیں ہو گی۔ پاکستان کی وزارت داخلہ کی طرف سے یاتریوں کو کارڈ جاری ہوں گے۔یاتری اپنے ساتھ پاسپورٹ رکھیں گے۔اس پر کوئی اندراج نہیں ہو گا۔ راہداری کی کوئی فیس نہیں ہو گی البتہ انتظامی اخراجات کے لئے ہر یاتری سے 20 ڈالر (بھارتی 1411 روپے) فیس لی جائے گی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے بتایا ہے کہ یہ فیس اصل اخراجات کا صرف ایک تہائی بنتی ہے۔ اصل اخراجات تین گنا ہوں گے۔ تمام یاتریوں کو جی بھر کر کھانا دیا جائے گا۔ یاتریوں کے علاج معالجہ کے لئے باقاعدہ ڈسپنسری، نہانے کے لئے تالاب بھی ہو گا۔
٭میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ اعلیٰ علاج نوازشریف کا قانونی حق ہے۔بالکل درست بات ہے۔ صرف نوازشریف ہی نہیں، ہر قیدی کو یہ حق حاصل ہے۔ البتہ شہباز صاحب! یہ سندھ اسمبلی کی سابق رکن اور مشیر شرمیلا فاروقی کیا کہہ رہی ہے؟ آپ جانتے ہیں نا شرمیلا فاروقی کو؟ پاکستان سٹیل ملز کے سابق چیئرمین عثمان فاروقی کی بیٹی! وہی عثمان فاروقی جسے نان میٹرک ہونے کے باوجود برسراقتدار آصف زرداری نے سٹیل ملز کا چیئرمین لگوا دیا تھا۔ (اس نے جرمنی کی یونیورسٹی سے ٹائرٹیوب سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کا دعویٰ کیا تھا مگر میٹرک کی سند بھی جعلی نکلی، میرے پاس ریکارڈ موجود ہے) اب ہوا یہ کہ حکومت تبدیل ہو گئی۔ عثمان فاروقی پر گیارہ ماہ کی چیئرمینی کے دور میں ساڑھے سات کروڑ روپے کے غبن کے الزام میں ساڑھے تین سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہو گئی۔یہاں سے اس کی بیٹی شرمیلا فاروقی کا بیان شروع ہوتا ہے۔ کہتی ہے۔ ’’بلاشبہ قیدیوں کو علاج کا قانونی حق حاصل ہے مگر یہ حق اس وقت کہاں چلا گیا تھا جب نوازشریف وزیراعظم اور میرے والد جیل میں سخت بیمار تھے۔ نوازشریف نے بار بار علاج کرانے کی اپیلیں مسترد کر دیں حتیٰ کہ ایک روز والدکو دل کا دورہ پڑا۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا وہاں دل کا آپریشن ہوا اور تیسرے ہی دن انہیں سخت نازک حالت میں پھر جیل بھیج دیا گیا! والد کے ساتھ اس سلوک کے باوجود میں نوازشریف کی صحت یابی کی دُعا کرتی ہوں…‘‘ شرمیلا کے بیان کے ساتھ تھوڑا سا اضافہ کہ عثمان فاروقی کے ساتھ ان کی اہلیہ اور بیٹی شرمیلا کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ماں بیٹی کو کراچی کے ایک تھانے کے حوالات میں ننگے فرش پر بٹھا دیا گیا ۔دونوں نے اسی عالم میں رات گزاری۔ صبح ایک اخبار میںاسی حالت میں ماں بیٹی کی تصویر چھپ گئی تو ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا اور پھر چارپائی وغیرہ فراہم کر دی گئی۔ میں نے یہ تصویر دیکھی ہے۔
٭لندن میں طویل عرصے سے قائم انسان دوست رفاہی تنظیم المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ نے مقبوصہ کشمیر کے کرفیو زدہ 80 لاکھ مظلوم و محکوم کشمیری باشندے  کے لئے چکوٹھی کے راستے خوراک اور دوائوں کے 100 ٹرک بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ میں نے اس ٹرسٹ کے چیئرمین عببدالرزاق ساجد کو بتایا ہے کہ پاکستان سے یا آزادکشمیر کے راستے ایسی کوئی امداد نہیں بھیجی جا سکتی۔ چند روز پہلے جموں و کشمیر لربریشن فرنٹ نے بھی ایسی کوشش کی تھی مگر یہ لوگ 11 روز دھرنے کے باوجود کنٹرول لائن تک نہ پہنچ سکے۔ مقبوصہ کشمیر میں امداد پہنچنے کا واضح مطلب یہ ہو گا کہ بھارت نے ان لوگوں کی کس مپرسی تسلیم کر لی ہے۔ اس پر عبدالرزاق ساجد صاحب نے کہا ہے کہ ایسی صورت میں وہ یہ ساری امداد سرحدی متاثرہ علاقوں میں تقسیم کر دیں گے۔ یہ اچھا جذبہ ہے مگر پھر بھی یہ سامان خود تقسیم نہیں کر سکتے۔ اسے ہلال احمر، پاک فوج یا آزاد کشمیر کی حکومت کے سپرد کرنا ہو گا۔ بہرحال یہ مستحسن جذبہ ہے، میں اس کی ستائش کرتا ہوں۔
٭وزارت خارجہ کی انتہائی سکیورٹی والے کانفرنس ہال میں آزادانہ گھومنے پھرنے والی ٹک ٹاک لڑکی حریم شاہ کا بیان! میں بنی گالہ میں عمران خاں سے ملنے گئی، نواز شریف وزیراعظم تھے تو وزیراعظم ہائوس میں بھی جاتی تھی۔ بڑے بڑے لوگوں سے ملتی رہتی ہوں، ایسی کون سی نئی بات ہے!