11:45 am
سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

11:45 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 ’’تو آپؐ کسی یتیم پر سختی نہ کریں۔‘‘
حضور ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے تین بڑے احسانات کے ذکر کے بعد اب یہاں اسی مناسبت سے تین راہنما اُصول بتائے گئے ہیں۔یتیم چونکہ معاشرے کا سب سے کمزور اور قابل رحم طبقہ ہوتا ہے لہٰذا سب سے پہلے آنحضور ﷺ کی حیات مبارکہ کو یتیموں کے لیے ایک نمونہ بنایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے خود آپؐ کی سرپرستی فرما کر اُمت کے لیے ایک راہنما اُصول بنا دیا اور یہاں یہی اُصول بتایا جارہاہے کہ آپؐ بھی اسی طرح یتیموں کی سرپرستی کا اہتمام کریں اور معاشرے میں اُن پر سختی نہ ہونے پائے۔آپ ؐ تو خود یتیم تھے،لہٰذا آپ ؐ کو احساس تو تھا ہی لیکن آپؐ رحمتہ اللعالمین بھی بنا کر بھیجے گئے ہیں،آپ ؐ تو ہیں ہی احسان کرنے والے اور رحم دل۔یہ ممکن ہی نہیں کہ آپؐ سے کسی یتیم پر سختی کا معاملہ ہو۔لہٰذا آپؐ کے ذریعے یہ اُمت کو بتایا جارہاہے کہ یتیم معاشرے کاقابل رحم طبقہ ہے اور سب سے زیادہ بے یارو مددگار لہٰذا اس کا اکرام ہو اور اس کے حقوق سلب نہ ہونے پائیں۔
’’اور آپؐ کسی سائل کو نہ جھڑکیں۔‘‘
 سائل دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو دست سوال دراز کرتے ہیں۔اگر کسی وقت آپ کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو آپ معذرت تو کر سکتے ہیں لیکن جھڑکیں مت۔سائل کے حوالے سے ہمارے دین کی تعلیمات بہت ہی متوازن ہیں۔ ایک طرف دین میں مانگنے والوں کی انتہائی سرزنش کی گئی ہے تاکہ بے عملی و بے توقیری کا رحجان پیدا نہ ہو اور دوسری طرف یہ کہا گیا کہ اگر سائل مانگنے کے لیے آجائے تو خالی ہاتھ نہ جانے دو،تمہارے مال میں محتاجوں اور ضرورت مندوں کا بھی حق ہے چنانچہ ان میں سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں میںدیکھا جائے کہ جو ضرورت مند اور محتاج ہیں ان کی مدد کی جائے۔ اسی طرح پڑوسیوں کے حقوق معین کر دئیے گئے۔چالیس گھر تک اگر کوئی پڑوسی بھوکا سوگیا اور تمہارے پاس ڈھیروں مال پڑا ہوا ہے تو تمہاری گردن پکڑی جائے گی۔زکوٰۃ کا معاملہ اپنی جگہ ہے لیکن اس کے علاوہ یہ حقوق بھی معین ہیں۔ان کے بارے میں روز قیامت سوال کیا جائے گا۔اسی طرح سائلین کے بھی حقوق ہیں کہ ان کو بھی دے دیا کرو۔اگرچہ اس میں ایک سوال تو بنتا ہے ہمارے ہاں کے پروفیشنل بھکاری،چمٹ جانے والے بھی ہوتے ہیںلہٰذا ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ beggaryکو فروغ نہ ملے لیکن:
’’اور ان کے اموال میں مانگنے والے اور محتاج کا حق ہوتا ہے۔‘‘(ذاریات:19)
اس آیت میں بہت واضح حکم ہے کہ سائلین اور محرومین دونوں کا حق ہے۔ لہٰذا اس سے واضح ہوتا ہے کہ بہتر یہی ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دیا جائے لیکن اگر دینے کے لیے کچھ بھی نہ ہو تو بات نرم انداز سے کی جائے۔ جھڑکا نہ جائے۔ 
 ’’اور اپنے رب کی نعمت کا بیان کریں۔‘‘
آپؐ پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کے تین لیول بیان ہوئے (آیت: 6 تا8) کہ ہم نے آپؐ کو یتیم پایا تو ٹھکانہ فراہم کردیا۔ آپؐ کو تنگ دست پایا تو غنی کردیا اور آپؐ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت کے سارے دروازے کھول دئیے۔اسی حوالے سے شکر گزاری کے تین راہنما اُصول بھی بتا دیے گئے کہ یتیم پر سختی نہ ہونے پائے،سائل علم کا طالب ہو یا مال کا اُس کو جھڑکا نہ جائے اور تیسری بات یہ بیان ہوئی ہے کہ آپؐ کو قرآن کی صورت میں جو عظیم نعمت عطا ہوئی ہے اس پر شکر کا تقاضا ہے کہ آپؐ اس کی اس نعمت کاچرچا کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلائیں۔اس حکم میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ہدایت کی نعمت کو اگر انسان اپنی ذات تک محدود کر کے بیٹھ رہے تو اس کا یہ طرزِعمل بخل کے مترادف ہو گا لہٰذا جس کسی کو اللہ تعالیٰ ہدایت کی دولت سے نوازے اسے چاہیے کہ اس خیر کو عام کرے اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کا صحیح فہم اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!