11:46 am
زخم یاناسور؟

زخم یاناسور؟

11:46 am

امریکہ اوراس کے حواری پچھلے چندبرسوں سے بھارت کی برسوں سے دبی خواہش کی چنگاری کوبھڑکا کراسے خطے میں چھوٹاامریکہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن امریکہ سے پاکستان کے تعلق کی نوعیت کچھ بھی پاکستان اوربھارت کاتنازعہ صدیوں کاپس منظررکھتاہے۔برصغیرمیں رہنے والی دوبڑی قوموں میں آویزش کشمکش کاعہد بہ عہدسفرتھاجوارتقائی منازل طے کرکے پاکستان کے مطالبے پرمنتج ہواتھا۔ اگراس تقسیم کواچھے اندازسے مکمل کردیاجاتاتو شاید دونوں ملک آج نفرت مخاصمت اورعداوت کے اس مقام پرکھڑ ے نہ ہوتے جہاں مودی نے لاکھڑاکیا ہے۔تقسیم کے وقت انگریزنے مسئلہ کشمیرکی صورت میں خطے کوایک ایسازخم تحفے میں دیاجسے وقت کامرہم، دوستی کے وعدے ،مشترکہ مفادات کے مقاصد،بقائے باہمی کے معاہدے بھی مندمل نہ کرسکے اوریہ زخم رس رس کر ناسوربن گیا۔اب حالات یہ ہیں کہ یہ مسئلہ کسی ملک کیلئے بقاء کامسئلہ ہے توکسی ملک کیلئے اناکامسئلہ بلکہ یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ ممکنہ عالمی ایٹمی جنگ کاسبب بھی بن سکتاہے۔جب تنازعات کے ساتھ اس نوع کے حقیقی خطرات وابستہ ہوجائیں توان سے آنکھیں چراناآئندہ نسلوں کی مکمل تباہی پرمنتج ہوسکتاہے،ایسے میں کشمیرکے بارے میں حقائق کوچھانٹناآسان نہیں۔
  بھارت کومشرف جیسا پاکستانی حکمران شایدہی اب میسرآئے جس بھارت کوپے درپے رعایتیں دینے کی راہ اختیارکی۔یہ وہ وقت تھاجب مشرف پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے مسلمہ اوراعلانیہ نمائندے تھے۔ انہیں امریکہ کی مکمل سرپرستی بھی حاصل تھی، اندرون ملک سیاسی قوتیں ان کیلئے کوئی بڑاطوفان کھڑاکرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھیں لیکن اس وقت بھارت نے جی بھر کرمشرف کی تجاویز، اشاروں، کنایوں کامذاق اڑایا۔ بھارتی سیاستدانوں اوردانشوروں نے ایک لمحے کو مشرف کی باتوں کوسنجیدگی سے نہیں لیا،جب بھی کسی محفل میں بھارتی اخبارنویسوں کی توجہ مشرف کی لچک سے فائدہ اٹھانے کی جانب مبذول کرائی گئی توان کا غیرسنجیدہ رویہ آڑے آیاہے۔وہ اسے مشرف کی ’’گپ شپ‘‘گردانتے ہوئے تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے لطائف قراردے کرنظراندازکر کے مو سم اورتجارتی امکانات  کی جانب بحث کارخ موڑ دیتے۔ یہ بھی کہاگیا کہ’’جنرلوں کو سیاست کاکیاپتا ہوتاہے لیکن مشرف بندہ بہت اچھاہے‘‘۔بھارت میں کہیں بھی کسی بھی سطح پریہ سوچ سامنے نہیں آئی کہ پاکستان میں طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے کی حیثیت سے مشرف کی لچک سے فائدہ اٹھایاجائے۔ کلدیپ نیر، ارون دھتی رائے،منی شنکرآئر جیسے نسبتاً معتدل اور اسلام آباد میں دوستانہ روابط کے حامل دانشوروں نے اپنی حکمران اشرافیہ کوکبھی مشرف کی لچک کوسنجیدگی سے لینے کامشورہ نہیں دیا۔ایک سخت گیر دانشورنے توایک باراپنے ممدوح کی تجاویزکامذاق یوں اڑایا کہ’’ پاکستان ہمیں لبرل مشرف کے بعدکسی داڑھی والے مشرف کی آمدسے نہ ڈرائے یہ نسخہ امریکہ کیلئے توکارگر ہوسکتاہے بھارت کیلئے نہیں کیونکہ بھارت پاکستان کی ان چالوں کوخوب سمجھتاہے۔‘‘
مشرف کی اس لچک سے کیاہوایہ ایک الگ کہانی ہے لیکن اب تک اس الزام کوکسی نے دورکرنے کی کوشش نہیں کی کہ دونوں ملکوں کی حکمران اشرافیہ مسئلہ کشمیر کاحل نہیں چاہتی۔پاکستان کی حقیقی حکمران اشرافیہ کے نمائندے کے طور پرمشرف نے بھارت کی شرائط اور موقف سے قریب ترجاکرمعاملہ طے کرنے کی کوشش کی لیکن بھارت کے غرور،حدسے زیادہ خوداعتمادی اور پاکستان کوپانی کابلبلہ سمجھنے کی روایتی پالیسی نے بات بننے ہی نہیں دی۔نائن الیون کے بعد حالات کے بھنورمیں گھرے ہوئے پاکستان سے بھارت نے کوئی سنجیدہ بات چیت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ بھار ت اس زعم میں مبتلاہوگیاتھاکہ امریکہ نے اسے خطے میں چھوٹا امریکہ بننے کالائسنس عطاکردیاہے۔نائن الیون سے پہلے کا عسکریت پسندوں کے گرم تعاقب کاامریکی خواب چکناچوراورنشہ توہرن ہوگیالیکن بھارت کواس میدان میں اتارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
 کشمیرمیں حریت پسندوں کی کارروائیوں سے عاجزبھارت نے آخری چارہ کارکے طورگرم تعاقب کاآپشن پیش نظررکھا۔ بھارت کاسخت گیرطبقہ’’علاج ِدنداں اخراج دنداں‘‘کے نظریے کے تحت آزادکشمیر کی حدودمیں داخل ہوکرحریت پسندوں کے ٹھکانوں کوتباہ کرنے کی منصوبہ بندی کرتارہالیکن پاکستان کی طرف سے کسی خفیہ اشارے کے باعث بھارت اپنے اس خواب کوشرمندہ تعبیرنہ کرسکا۔ماضی میں کارگل کی جنگ اوربھارتی پارلیمنٹ پرحملے کے وقت یہ خواہشیں جوان ہوتی دکھائی دی تھی لیکن ان خواہشات کی تکمیل نہ ہوسکی، پھرممبئی پرہونے والے حملے کے بعدبھارت نے اپناکیس  بعینہ اسی طرح تیار کیاجس طرح امریکہ نے نائن الیون کے حملوں کے بعدکیاتھا۔وہی غصہ وہی تکبر،وہی تمکنت وہی عجلت اور ماحول کوسازگاربنانے کیلئے وہی ڈرامے بازی،بے ربط اورمبہم مطالبات پیش کاوہی سخت انداز،غرضیکہ بھارت اس موقع کو پاکستان کو چھوٹااورخودکوبڑایاکم ازکم چھوٹاامریکہ ثابت کرنے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کررہاہے۔ 
امریکہ توبہرحال امریکہ تھااس کے ساتھ ہمارے  تلخ رشتوں کی جڑیں تاریخ میں اس قدرگہری نہیں کچھ اس کاحجم اوروسائل بڑے ہیں اورکچھ ہمارے رزق کے مسائل ہیں جنہوں نے امریکہ کوپاکستان کیلئے امریکہ بنارکھاہے بلکہ ہمارے بچپن کا وہ روگ ہے جو آسانی سے نہیں چھوٹ رہالیکن بھارت کس خوش فہمی میں مبتلا ہوکرخودکوگرم تعاقب کیلئے تیارکر رہا ہے ؟ کیا فروری میں عالمی جگ ہنسائی کے بعداس کے ہوش ٹھکانے نہیں آئے؟تین بارجنگیں چھیڑنے اورانہیں طوالت دینے والا بھارت جس’’منتر‘‘کے باعث چوتھی بار خواہش،ماحول اورموادکے باوجوداگر پاکستان پرجنگ مسلط نہیں کرسکاوہ پاکستان کی ایٹمی طاقت ہے۔بھارت ہی نہیں ہرطاقت کامسلمہ اصول یہی ہے کہ اسے طاقت ہی کی زبان سمجھ میں آتی ہے۔یادرکھیں!اگر  پاکستان کے حکمرانوں نے کسی مصلحت اورکسی خوف میں آکربھارت کی کسی غیرذمہ دارانہ حرکت کے جواب میں وہی حکمت عملی اختیارکی جو امریکہ کے بارے میں اختیار کی جارہی ہے تویہ ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کانقطہ آغازہو گا۔آج ایک امریکہ ہے پھرپاکستان کیلئے دوامریکاپیدا ہو جائیں گے،جس کے بعدیہ سلسلہ چھوٹے چھوٹے کئی امریکہ پیداکرے گااور پاکستان سب کیلئے غریب کی جوروبن کررہ جائے گا۔مقبوضہ کشمیرپردھاوابول کربھارت اپنی دیرینہ خواہش کی تکمیل کے قریب ترہے۔اب یہ پاکستان کے حکمرانوں کارویہ ہوگاجو بھارت کے پرانے خواب اورنئے رول کاتعین کرے گا۔