11:47 am
کشمیر پر بھارتی جبری قبضے اور جارحیت کے 72سال

کشمیر پر بھارتی جبری قبضے اور جارحیت کے 72سال

11:47 am

مقبوضہ جمو ںو کشمیر پر بھارت کے جبری قبضہ اور جارحیت کے 72سال مکمل ہونے پر بھارت نے مقبوضہ ریاست کے حصے بخرے کر دیئے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کرانے کے بجائے مقبوضہ ریاست کو ڈی گریڈ کر دیا۔ ریاست کے ٹکڑے کرنے کے بعد انہیں اپنی غلام کالونیاں بنادیا۔انہیں اپنے مرکزی علاقوں کا درجہ دے دیا۔ 5اگست 2019کو یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا کہ اس دن بھارت نے مقبوضہ ریاست پر از سرنو حملہ کیا،لشکر کشی کی اور مزید فوج داخل کی۔ فوجی انخلاء کے بجائے مزید فوج داخل کی گئی جس نے کشمیری عوام کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کھلی جنگ شروع کر دی ہے۔ایک کروڑ سے زیادہ کشمیریوں کو گھروں میں قید کر کے ان کا محاصرہ کرلیا۔کرفیو اور پابندیاں سخت کیں اور کشمیر کو دنیا کے لئے انفارمیشن بلیک ہول بنا  دیا۔آزاد کشمیر کے عوام نے مظاہرے کئے تو ان پر گولہ باری شروع کر دی۔ 
 
دنیا میں کہیں اگرغیر مسلم آبادی کے خلاف  ایک دن بھی کرفیو اور پابندیاں لگیں تو چیخ و پکار شروع ہو جاتی ہے۔دنیا کے مختلف ادارے حرکت میں آ جاتے ہیں۔ جارحیت والے ملک پر معاشی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں مگر کشمیر میں مسلم آبادی کے خلاف مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے دو ماہ گزرنے کے باوجوددنیا بھارت پر سنجیدگی سے دبائو نہ ڈال سکی۔ بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی جاری رکھنے کی چھوٹ دے دی۔بھارت کی کشمیریوں کے خلاف پہلی جنگ  27اکتوبر1947کو سرینگر ہوائی اڈے پر پہلے بھارتی فوجی دستے کے اترنے کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔ جب کہ جموں و کشمیر کے عوام بیرونی جارحیت کے خلاف گزشتہ72سال یا 100 سال سے نہیں بلکہ4 صدیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے برسرپیکار ہیں۔ 19؍نومبر1586ء کو جب شہنشاہِ کشمیر یوسف شاہ چک کے بیٹے یعقوب شاہ چک جوکہ خودمختار کشمیر کے آخری حکمران ثابت ہوئے نے مغل فوج پر گوریلا حملے کا پہلا وار کیا تو اُسے کامیاب ترین حملہ قرار دیا گیا کیونکہ اس میں متعدد مغل فوجی ہلاک ہوگئے۔ اس رات یعقوب شاہ چک نے اپنی گوریلا فوج سے کہا تھا کہ ’’آزادی صرف ایک دن دور ہے، ہم کل تک مغلوں کو کشمیر سے مار بھگائیں گے‘‘۔ بدقسمتی سے وہ کل424 سال گزرنے کے باوجود نمودار نہ ہوسکا۔ مغلوں نے1586ء سے 1752ء تک167 سال کشمیر پر حکومت کی۔ انہوں نے کشمیر کو ’’باغِ خاص‘‘ کا خطاب دے کر700 باغات تعمیر کئے۔کشمیر کو اپنی عیش و عشرت کے لئے تفریح گاہ بنا دیا۔ انہوںنے کشمیریوں پر ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت حکمرانی کی۔ پھر افغانوں نے1752ء سے1819ء تک جابرانہ قبضہ جمایا۔ 1819ء سے1846ء تک سکھا شاہی نے کشمیریوں کو روند ڈالا۔ پھر100سال تک ڈوگروں نے کشمیریوں کا خون نچوڑنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے بعد1947ء سے بھارت نے اپنی  درندہ صفت افواج کے سہارے کشمیر کو اپنی کالونی میں بدل ڈالا۔ آج کشمیری اپنے ہی گھر میں قید ہیں۔ قابض بھارتی فورسز جس بے دردی سے کشمیریوں کی نسل کُشی کر رہے ہیں اس نے گزشتہ قابضین کے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔پی ایچ ڈی سکالرز ڈاکٹر ظہیر الدین خان شہید، پروفیسر رفیع الدین بٹ شہید، ڈاکٹر عبدالمنان وانی شہید، ڈاکٹر سبزار احمدصوفی شہید ، پروفیسر نذیر بٹ شہید، ڈاکٹر خالد داوود سلفی شہیدسمیت لا تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیریوں کی شہادت بھارت کے فوجی قبضے کے خلاف ،آزادی اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے قربانیاں پیش کرنے کے بھرپور عزم کو ظاہر کر رہی ہے۔
انڈیا اپنے قبضے کے حق میں جو دلائل دے رہا ہے وہ سراسر گمراہ کُن ہیں۔وہ کشمیر پر اپنے فوجی قبضے کو چار بنیادوں پر جائز قرار دیتا ہے۔
 (۱) مہاراجہ کشمیر کی جانب سے 26اکتوبر1947ء  کو دستاویزالحاق ہند.
 (۲) 27اکتوبر1947ء کو گورنر جنرل انڈیا لارڈ مائونٹ بیٹن کی جانب سے دستاویز الحاق کو تسلیم کرنا.
 (۳)26اکتوبر1947ء کو مہاراجہ کشمیر کی جانب سے لارڈ مائونٹ بیٹن کو خط جس میں بھارت سے الحاق کے بدلے بھارتی فوجی امداد کا مطالبہ اور شیخ محمد عبداللہ ریاست کی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کرنا .
(۴) 27اکتوبر1947ء کو لارڈ مائونٹ بیٹن کا مہاراجہ کشمیر کو خط کہ جس میں مندرجہ بالا امداد کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا  ریاست میں معاملات کے تصفیہ اور امن و قانون کی بحالی کے بعد ریاست کے الحاق کا سوال عوام کی ریفرنس سے حل کیا جائے گا۔
 یعنی بھارت کے کشمیر پر قبضہ کا سارا دارومدا ر مہاراجہ کشمیر کی الحاق ہند کی دستاویز پر ہے جس کے بارے میں بالکل عیاں ہوچکا ہے کہ دو دستاویز یعنی دستاویزِ الحاق اور مائونٹ بیٹن کو خط جس پر مہاراجہ نے 26اکتوبر1947ء کو دستخط کئے ، جعلی تھے۔ مہاراجہ 26اکتوبر کو سرینگر سے جموں کی طرف 300 کلومیٹر سے زیادہ لمبی سڑک کے ذریعے سفر کر رہے تھے۔ اتنی طویل شاہراہ پر سفر کے دوران دستاویز الحاق  پر دستخط کیسے ہوئے  جبکہ مہاراجہ کے وزیر اعظم مُہرچند مہاجن اور کشمیر معاملات سے متعلق بھارتی سینئر افسر وی پی مینن دہلی میں تھے۔ دہلی اور عازمِ سفر مہاراجہ کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ مہرچند مہاجن اور وی پی مینن27؍ اکتوبر ۱1947ء کی صبح10 بجے دہلی سے جموں بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہوئے اور مہاراجہ کو اسی دوپہر اُن دونوں کی زبانی اپنے وزیر اعظم کے بھارت سے مذاکرات کے نتیجہ کا پتہ چلا۔    (جاری ہے)