11:48 am
جسٹس حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ

جسٹس حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ

11:48 am

وزارت  خارجہ میں ایک خاتون کے بلا روک ٹوک داخلے اور ویڈیو کے تناظر میں ہمیں آج حمود الرحمن رپورٹ یاد آئی۔جسٹس حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میںبارے ہم نے 5 جنوری 2001 کو شائع ہونے والے اپنے کالم میں کچھ گزارشات پیش کی تھیں جو دوبارہ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔
’’حمود الرحمن کمیشن ‘‘کی رپورٹ کا ایک حصہ بالاخر حکومت نے شائع کر دیا ہے اور اس طرح ملک کے عوام کو کم و بیش تیس سال بعد وطن عزیز کے دولخت ہونے اور مشرقی پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش کے قیام کے اسباب و عوامل کو براہ راست جاننے اور ان کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ کمیشن سقوط ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان کی ملک سے علیحدگی کے المناک سانحہ کے بعد اس کے اسباب و عوامل کی نشاندہی کے لیے سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس حمود الرحمن مرحوم کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا جس میں ان کے ساتھ پنجاب ہائی کورٹ کے سربراہ جسٹس انوار الحق اور سندھ وبلوچستان ہائی کورٹ کے سربراہ جسٹس طفیل علی عبد الرحمن بطور رکن شامل تھے۔کمیشن نے پچاس سے زائد اجلاسوں میں 213 افراد کے بیانات اور 72 افراد کی شہادتیں قلم بند کرنے کے بعد اپنی رپورٹ اس وقت کی حکومت کو پیش کر دی تھی جسے انتہائی خفیہ قرار دے کر اس کی اشاعت کی ممانعت کر دی گئی۔ ملک کے سیاسی حلقوں کی طرف سے اس رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مسلسل مطالبہ کیا جاتا رہا مگر ملکی مفاد کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی اشاعت سے اب تک گریز کیا گیا۔گزشتہ دنوں بھارت کے بعض اخبارات نے اس رپورٹ کے کچھ حصے شائع کیے تو ملک میں ایک نئے زاویے سے اس رپورٹ کی اشاعت کا مطالبہ زور پکڑ گیا کہ جب اسے غیر ملکی ذرائع سے مخفی نہیں رکھا جا سکا تو اپنے ملک کے عوام کو اس کے مندرجات سے باخبر کرنے میں آخر کیا رکاوٹ ہے؟ چنانچہ اس کے بعد حکومت نے وزیر داخلہ  معین الدین حیدر کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تاکہ رپورٹ کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے منظر عام پر لایا جا سکے۔ اس کمیٹی نے رپورٹ کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد ’’حمود الرحمن کمیشن رپورٹ‘‘ کو کلاسیفائیڈ اور نان کلاسیفائیڈ حصوں میں تقسیم کیا اور ایک حصے کی اشاعت کی سفارش کر دی جبکہ چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کی ہدایت پر اسے کیبنٹ ڈویژن کی لائبریری میں عوام کے مطالعہ کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔
اخباری رپورٹوں کے مطابق حمود الرحمن کمیشن کی اس رپورٹ کی صرف دو جلدیں منظر عام پر لائی گئی ہیں جبکہ باقی چھ جلدوں کو انتہائی خفیہ قرار دے کر بدستور صیغہ راز میں رکھا گیا ہے اور ان کے مندرجات تک رسائی حسب سابق شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ رپورٹ کا جو حصہ منظر عام پر آیا ہے، اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو اس سے قبل کسی نہ کسی حوالے سے عوام میں نہ آچکی ہو، البتہ رپورٹ نے ان بیشتر باتوں کی تصدیق و توثیق کر دی ہے جو پاکستان کے دولخت ہونے کے بارے میں اب تک مختلف حلقوں کی طرف سے کہی جاتی رہی ہیں، لیکن اس سے قبل ان کی حیثیت شبہات، قیاس آرائیوں اور الزامات کی تھی لیکن اب ایک اعلی سطحی کمیشن کی رپورٹ کے حصہ کے طور پر وہ حقائق و شواہد کا درجہ اختیار کر گئی ہیں اور ہمارے نزدیک رپورٹ کے اس حصے کی اشاعت کا سردست یہی فائدہ ہوا ہے۔ ہم اپنی سہولت کے لیے اخبارات میں شائع ہونے والی تفصیلات کی روشنی میں اس رپورٹ کو تین حصوں میں تقسیم کر رہے ہیں:
(1)     ایک حصہ صدر ایوب خان مرحوم کے دور حکومت سے متعلق ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ایوب خان کے دور میں صنعتی ترقی ہوئی اور زراعت کا دائرہ بھی وسیع ہوا، لیکن سیاسی طور پر ان پالیسیوں سے ملک کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے دور میں بالواسطہ جمہوریت کا فلسفہ پیش کر کے جو بی ڈی سسٹم رائج کیا گیا اور عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرکے تمام اختیارات کو مرکز میں سمیٹ لینے کا جو طرز عمل اپنایا گیا، اس نے مشرقی پاکستان کے باشندوں کے دلوں میں نوآبادیاتی ہونے کا احساس پیدا کیا اور اس احساس کو اندرونی و بیرونی سازشی عناصر نے اجاگر کرکے ملک کے دونوں حصوں کے درمیان نفرت کی خلیج پیدا کر دی جس کا آخری نتیجہ سقوط ڈھاکہ اور بنگلہ دیش کا قیام تھا۔
(2) رپورٹ کا دوسرا حصہ ان سیاسی عناصر کے بارے میں ہے جو حمود الرحمن کمیشن کی رائے میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا باعث بنے۔ ان میں سے شیخ مجیب الرحمن کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ واجبی سطح کے لیڈر تھے اور ان کے پیش کردہ چھ نکات جو ملک میں سیاسی تنازعہ کی بنیاد بنے، وہ ان کی تخلیق نہیں تھے اور نہ ہی ان میں اتنی صلاحیت و اہلیت تھی۔
(جاری ہے)