11:50 am
مقبوضہ کشمیر، یوم سیاہ اور آزادی مارچ!

مقبوضہ کشمیر، یوم سیاہ اور آزادی مارچ!

11:50 am

٭آج بہت اہم دن ہے۔ کشمیر کے بھارت کے الحاق کے خلاف مقبوضہ کشمیر اور پاکستان میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔ یہ ’یوم سیاہ‘ ہر سال منایا جاتا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں ایک آدھ جلسہ ہوتا ہے۔ دونوں ملکوں کے حکمران اب تک اپنے بیانات میں تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ بھارت کی مذمت کی بجائے ’’حضور ذرا احتیاط کیجئے‘‘ کا رویہ، بھارت کے دورے ، حکمرانوں کی حلف وفاداری کی تقریب میں شرکت، ایک دوسرے کو ساڑھیوں اور شالوں کے تحفے، ذاتی گھروں میں استقبالئے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر و استبداد میں اضافہ! یہ سب کچھ برسوں سے ہو رہا ہے، اس بار صورت حال بالکل مختلف ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا نقشہ ہی بدل ڈالا ہے۔ اس کے ٹکڑے کر دیئے ہیں اور بھارت کا وزیر اور آرمی چیف آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر قبضہ کے لئے فوجی حملے کے اعلانات کر رہے ہیں۔ 85 دنوں سے مقبوضہ کشمیر پر کرفیو نافذ ہے، سرحدوں پر مسلسل فائرنگ ہو رہی ہے، دونوں طرف بھاری جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے! بات مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایسے عالم میں یوم سیاہ کی نوعیت بہت سنجیدہ اور سنگین ہو گئی ہے۔دریں اثنا نواز شریف کی بیماری کئی بیماریوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ دل کی تکلیف تو پرانی بات ہے۔ لندن میں آپریشن بھی ہوا تھا۔ بلڈ پریشر بہت اونچا اور بہت نیچے چلا جاتا ہے، گردے کمزور ہو گئے، ان میں پتھری موجود ہے، شوگر کی وجہ سے جسم کا ضعف اور نقاہت بڑھ رہی ہے۔خون کے صحت مندانہ خلیے چار لاکھ تک ہونے چاہئیں، مسلسل ٹیکے لگانے سے چھ ہزار سے بڑھ کر بمشکل 30 ہزار ہوئے ہیں، یہ بھی خطرناک پوزیشن ہے۔ اس قسم کے تقریباً 72 مزید ٹیکے لگنے ہیں۔ وزیراعظم کی ہدائت پر نوازشریف کے پاس بیٹی مریم نواز کو بھی پہنچا دیا گیا ہے۔ ان بیماریوں کو ڈاکٹروں نے تشویشناک قرار دیا تو لاہور ہائی کورٹ نے ایک ایک کروڑ کے ضمانت ناموں پر چودھری ملز کے کیس میں ضمانت منظور کر لی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں منگل کے روز العزیزیہ کیس کی سماعت ہو گی۔ شدید علالت کی بنا پر وہاں سے بھی ضمانت ہو گئی تو نوازشریف جیل کی بجائے لاہور میں اپنے گھر جاتی عمرا میں چلے جائیں گے۔
 

یہاں تک تو ضمانتو ںکے معاملات ہیں۔ بظاہر عارضی رہائی مگر اس کے بعد پیچیدہ صورت حال دکھائی دے رہی ہے۔ نوازشریف کے بیٹے ان کا لندن میں علاج کرانا چاہتے ہیں۔ نوازشریف دو ماہ وزیراعظم کی حیثیت سے وہاںزیر علاج رہ چکے ہیں۔ مگر ان کے باہر جانے میں مختلف رکاوٹیں درپیش ہیں۔ قانون کے مطابق کسی سزا یافتہ قیدی کو ملک سے باہر نہیں بھیجا جا سکتا۔ ویسے بھی نوازشریف اور مریم نواز کے نام ای سی ایل (باہر جانے سے روکنے کی فہرست) میں شامل ہیں۔ وہ دونوں باہر نہیں جا سکتے۔ کسی طرح اجازت ہو بھی جائے تونوازشریف موجودہ حالت میں ہوائی سفر نہیں کر سکتے۔ سفر کے لئے کم از کم 50 ہزار سے زیادہ پلیٹ لیٹس ضروری ہیں۔ تیسری بات یہ کہ پاکستان میں ضعیف ماں ہے۔ جیلوں میں بیٹی مریم اور داماد صفدر کے علاوہ بھائیوں شہبازشریف اور عباس شریف کے بچے قید ہیں۔ انہیں چھوڑ کر جانا آسان نہیں۔
٭یہ تو شریف خاندان کی باتیں ہیں مگر دوسری طرف 11 سال قید کاٹ کر ’مرد حُر‘ کہلانے والے آصف زرداری کی حالت بھی نوازشریف والی ہو گئی ہے۔ پلیٹ لٹس تین لاکھ سے گر کر 90 ہزار تک آ گئے ہیں۔ شوگراور مثانے کی تکلیف بڑھ گئی ہے۔ اس سے جسم بہت ضعیف ہو رہا ہے، دل اور سانس کی تکلیف بھی ہے،جگر اور گردے بھی صحیح کام نہیں کر رہے۔ کھانے میں نمک مرچ کے بغیر ابلی ہوئی سبز رنگ والی سبزیاں، بے نمک چاول اور دال، امرود کے چھلکے اور بھنے ہوئے چنے!عمر63 سال سے زیادہ، کبھی کبھار کوئی بیٹی ملنے آ جاتی ہے۔ بیٹے بلاول کو باپ کا حال دیکھنے بلکہ پوچھنے کی فرصت نہیں۔ جلسوں میں لکھی ہوئی تقریریںپڑھتا پھر رہا ہے۔ باپ کے پاس اسلام آباد جانے کی بجائے سکھر سے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں بھرپور شرکت اور پھر ملک کی حکومت سنبھال کر غریب عوام کے مسائل حل کرنے کے اعلانات کر رہا ہے! باپ کی ساری سیاست عملی طور پر ختم ہو گئی۔ چلنا پھرنا دشوار ہو گیا، اونچی آواز سے بولا نہیں جا رہا، وہ طنطنہ ختم کہ پورا منہ کھول کر جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے اور پورے ملک بند کرنے کے اعلانات کئے جاتے تھے۔ اب یہ اعلان مولانا فضل الرحمان کر رہے ہیں اور بیٹے بلاول نے مولانا فضل الرحمان کی بیعت کر لی ہے!!مولانا سے پوچھ رہا ہے، مارچ کہاں سے شروع کرنا ہے؟
٭ایک خبر: ایک طرف مذاکرات، دوسری طرف آزادی مارچ کو روکنے کے لئے ملک بھر میں 10 ہزار سے زیادہ کنٹینر پکڑ لئے! ملک کی 72 سالہ تاریخ میں کبھی ایسی مار دھاڑ نہیں ہوئی۔ مولانا فضل الرحمان کو مقبوضہ کشمیر کی بجائے پاکستان کے وزیراعظم اور صدر کے عہدے دکھائی دے رہے ہیں اور حکومت پر آزادی مارچ نے زلزلہ طاری کر رکھا ہے۔ پنجاب کی سرحدیں سیل اوراسلام آباد کا  ہی لاک آئوٹ کیا جا رہا ہے۔ ہر ضلعی انتظامیہ کو ’’دہشت گردوں‘‘ سے سختی سے نمٹنے کی ہدایات جاری ہو چکی ہیں۔مولانا فضل الرحمان کے جہادی لشکر کے ’دم چھلوں میں ن لیگ، پیپلزپارٹی اور اے این پی شامل ہو چکی ہیں (میں ’شامل باجا‘ کے الفاظ سے گریز کر رہا ہوں، اچھا نہیں لگتا)اور حکومت! ایک طرف آزادی مارچ کو اسلام آباد آنے کی کھلی اجازت کا اعلان، دوسری طرف بھرپور تصادم کی کھلی تیاریاں۔10 ہزار کنٹینروں پر جبری قبضہ سے ملک بھر میںکاروباری ٹریفک ٹھپ ہو گئی ہے۔ انتہا یہ کہ غیر ملکی کمپنیوں کے دو ہزار کنٹینر قبضہ میں لئے گئے ہیں ان کا روزانہ فی کنٹینر ایک ہزارڈالر (ایک لاکھ 56 ہزار روپے) کرایہ مقرر ہوا ہے۔ دو ہزار کنٹینر کا حساب لگائیں!! قومی خزانے کا یہ حشر!! استغفر اللہ! بے چاری معصوم، بے بس قوم!
٭ساہیوال سانحہ کے کیس کا پولیس نے جو حشر کیا، جس طرح اپنے قاتل پیٹی بھائیوں کو باعزت بری کرایا اس پر پولیس کے ادنیٰ و اعلیٰ ترین حلقے تو جوشِ مسرت سے پاگل ہو رہے ہوں گے! تاہم وزیراعظم عمران خان نے اس کا نوٹس لیا ہے اور اس پولیس زدہ کیس کے فیصلے کے خلاف ریاست کی طرف سے اپیل دائر کرنے کی ہدائت کی ہے۔ اور وزیراعلیٰ پنجاب نے اس بارے ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اپیل تو ایک دن میں بھی دائر ہو سکتی ہے، کمیشن کا واضح مقصد معاملے کو لٹکانا اور کھوہ کھاتے میں ڈالنا ہوتا ہے!! روز روز کیا نوحے لکھوں؟ کئی برس پہلے جب فیروز خان نون وزیراعظم تھے اس وقت نامور صحافی جناب حمید نظامی مرحوم کے اپنے ہاتھ سے نوائے وقت میں لکھے ہوئے ایک اداریے کا ایک نمایاں جملہ یاد آ رہا ہے کہ ’’خدا تعالیٰ نے کسی قوم کو سزا دینی ہوتی ہے تو اس پرنااہل حکمران مسلط کردیئے جاتے ہیں‘‘ اِسی اداریے (مارچ 1958ء) کی سرخی تھی ’’صورتِ اعمال ما صُورتِ نُون گرفت‘‘! میں کس حکمران کا نام لکھوں؟
٭تماشے پہ تماشا! سری لنکا سے بری طرح پٹائی کے بعد پاکستان کی لرزتی لڑکھڑاتی کرکٹ ٹیم کو مزید پٹائی کے لئے آسٹریلیا کی دیواروں سے ٹکرانے کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔ آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم سری لنکا سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقت ور ہے۔ پاکستان کی ٹیم کا جو حال ہو گا (خدا کرے ایسا نہ ہو) وہ تو دکھائی دے رہا ہے مگر اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ بار بار رسوائی کوبھی عزت محسوس کیا جا رہا ہے! ایئرمارشل نور خان، کرکٹ پھر ہاکی کے چیئرمین بنے تو ایک ہی سال میں دونوں ٹیمیں عالمی چیمپئن بن گئیں۔ اس کے بعد طویل نوحوں کی الم ناک داستان! انتہا کہ 32 لاکھ روپے ماہوار پر ایک سابق ٹِک ٹِک کھلاڑی کو ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر بنا دیا گیا۔ اس کے آتے ہی سری لنکا کی ٹیم گھر میں آ کر پاکستانی ٹیم کا  حشر کر گئی! اس کے بعد اب آسٹریلیا! مگر ہر کھیل کا یہی حال ہے! ایک عرصے سے بار بار شکستوں والی ٹوٹی پھوٹی لنگڑاتی ہاکی ٹیم یورپ میں لگاتار پانچ میچوں میں ذلت آمیز شکستوں کے بعد واپس آئی ہے، پھر کسی اور دورے پر نکل جائے گی! اربوں کے فنڈزز والے بڑے افسروں کی تجوریاں بھرتی رہتی ہیں۔ ملک کا کیا ہے؟