07:04 am
کشمیر پر بھارتی جبری قبضے اور جارحیت کے 72سال

کشمیر پر بھارتی جبری قبضے اور جارحیت کے 72سال

07:04 am

یہاں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ جب بھارتی فوج نے سرینگر ہوائی اڈے پر قبضہ کیا اس
(گزشتہ سے پیوستہ)
 یہاں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ جب بھارتی فوج نے سرینگر ہوائی اڈے پر قبضہ کیا اس کے بعد مہاراجہ کی مہاجن اور مینن سے ملاقات ہوئی تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متذکرہ بالا دستاویز پر مہاراجہ کشمیر کے دستخط نہیں تھے اور اگر کسی نام نہاد ستاویز پر دستخط کئے بھی گئے تو اُن پر26؍اکتوبر1947ء کی جعلی تاریخ رقم کی گئی۔ مہاراجہ اور مائونٹ بیٹن کے مابین خطوط کو 28؍اکتوبر کو بھارت نے شائع کیا لیکن الحاق کی دستاویز کو شائع نہ کیا گیا جبکہ دونوں خطوط حکومتِ ہند نے تیار کئے تھے۔ دستاویزِ الحاق کی کاپی پاکستان کو بھی نہیں دی گئی اور نہ ہی اسے1948ء کے آغاز تک اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا۔1948ء میں حکومت ہند نے جو وائٹ پیپر شائع کیا اس میں دستاویز الحاق کو شامل نہیں کیا گیا کہ جس کی بنیاد پر بھارت کشمیر پر قبضہ جائز قرار دینے کا دعویٰ کرسکے۔ آج تک مہاراجہ کے دستخط شدہ دستاویز الحاق کا کوئی بھی اصل پیش نہیں کیا جاسکا۔ اگر اُن تمام دستاویزات کو جوکہ جعلی ہیں کو اصل قرار دیا بھی جائے تو لارڈ مائونٹ بیٹن کی جانب سے دستاویز الحاق کو مشروط طور پر تسلیم کرنا اور عوام کی رائے معلوم کرنے کی بات سے بھی بھارت نے آج تک عمل نہیں کیا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کے خط میں عوام سے ریفرنس کا جو تذکرہ تھا وہ رائے شماری تھا۔ دستاویز الحاق کے جعلی ہونے پر یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ بھارت نے ایک خودمختار ریاست پر جبری فوجی قبضہ کیا تھا کیونکہ اس ریاست کے راجہ نے کسی بھی ایسی دستاویز پر دستخط نہیں کئے جن کا مقصد کشمیر کا بھارت سے الحاق ہو۔
آزاد کشمیر پر بھارتی گولہ باری اور مقبوضہ کشمیر میں قتل عام بھارت نے  1988 سے تیز کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں عوام کشمیری گزشتہ30سال سے کرفیو، پابندیوں، مظاہروں، مار دھاڑ، قتل عام، نسل کشی، پیلٹ گن اور زہریلی گیسوں کو برداشت کر رہے ہیں۔گزشتہ اڑھائی  ماہ سے سخت کرفیو اور پابندیوں کے شکار ہیں۔ ہزاروں نوجوانوں کو رات کے چھاپوں کے دوران گھروں سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ سلامتی کونسل کا کشمیر پر مشاورتی اجلاس بھی ہوا۔ پاکستان بھی دنیا میں کشمیریوں کی آواز بلند کر رہا ہے۔مگر بھارت ٹس سے مس نہیں ہوتا۔وہ معصوم کشمیریوں کا مسلسل  قتل عام  کر رہا ہے، معصوم بچوں تک کو بینائی سے محروم کررہا ہے۔عوام 1947ء سے بھارت کے خلاف بر سر پیکار ہیں ۔انتفادہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔2008ء سے 2010ء تک کا سلسلہ بھی اس نئی نسل کے زبردست عزم کا عکاس تھا جس نے سب سے پہلے امرناتھ شرائن بورڈ کو اراضی کی منتقلی کے خلاف شروع کیا ۔ اس دوران کشمیریوں کو بعض نئے تجربات سے آشکار ہونا پڑا جس کے دوران بھارتی انہتاپسندوں کی سرپرستی میں وادیٔ کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی واقعتا حیرتناک اور عبرتناک ثابت ہوئی۔بعد ازاں شوپیاں میں خواتین کی بے حُرمتی  اور پھر برہان وانی کی شہادت کے بعد پوری وادی میں زبردست احتجاج اور مظاہرین پر تشدد نے ثابت کردیا کہ کشمیر کی نئی نسل کوئی سمجھوتہ کرنے کے موڈ میں ہرگز نظر نہیں آتی ہے۔دوسری طرف بھارت بھی کشمیر میں سرمایہ کاری کے دعوے کر رہا ہے۔بھارتی حکمران سوال کرتے ہیں کہ اگر کشمیر میں پاکستان کے لوگ آکر اپنا خون بہا گئے تو بھارتی فوج نے بھی کشمیر میں اپنا لہو بہایا ہے تاہم اُن پر یہ واضح ہو جانا چاہئے کہ کشمیری جنگ بندی لائن کو کنٹرول لائن یا انٹرنیشنل بارڈر کے طور پر کبھی بھی تسلیم نہیں کرتے۔اس عارضی خونی لیکر کو کشمیری عبور کرنے میں آزاد ہیں۔بھارتی فوج کے خلاف معرکوں میں شہادت پانے والے پاکستان میں موجود اُن لاکھوں کشمیری مہاجرین سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں صرف 1947ء سے1990ء تک بھارتی جارحیت اور مظالم کے باعث اپنے وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔یہی لوگ اگر اپنے مادرِ وطن کی آزادی کے لئے جدوجہد کریں،قربانیاں دیں تو کوئی بھی بین الاقوامی قانون انہیں اپنے گھر سے بیرونی قبضے کو ختم کرنے کے لئے کوئی بھی اقدام کرنے سے روک نہیں سکتا۔بندوق کشمیریوں کا آخری آپشن تھا۔اقوام متحدہ کا چارٹر اس کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے باوجود اگر آزاد کشمیر سے کوئی کشمیری جنگی بندی لائن کو عبور کرکے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوتا ہے تو وہ نہ تو بیرونی دہشت گرد ہے اور نہ ہی درانداز۔ہر کشمیری کو اس عارضی لکیر جسے خونی لکیر کہا جاتا ہے کو روندنے کا حق حاصل ہے کیونکہ کشمیری کسی جنگ بندی لائن کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔
لاک ڈائون اور پابندیوں کے دوران بھی بھارتی فوج کشمیر میں پتھر اور لاٹھیاں بردار کم سن نوجوانوں کو کچلنے کے لئے جدید ترین مہلک اسلحہ کا استعمال کرتی رہی ہے۔کریک ڈائون اور محاصروں کو ناکام بنانے کے لئے جائے واردات پر آنے والوں کو نشانہ باندھ کر شہید کیا گیا یا انھیں باردوی دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔ گھروں کو بھی کیمیکل چھڑک کر نذر آتش کیا جا رہا ہے یا انھیں بارود سے اڑایا جاتا ہے۔بھارت کا واویلا گمراہ کن اور قابل مذمت ہے کہ کشمیر میں جاری مظاہروں کو بیرونی امداد حاصل ہے۔بھارت کی لاکھ کوشش ہے کہ وہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کی موجودہ لہر کو کچلنے کے لئے کثیرالجہتی پالیسی پر عمل پیرا ہو جائے۔ فلسطین طرز کی انتفادہ تحریک کو بندوق کی نوک پر دبانے کے لئے اس نے اسرائیل اور امریکا کی مدد بھی حاصل کرتے ہوئے ہی لاک ڈائون اور پابندیاں عائد کیں لیکن وہ تمام مذموم اور ظالمانہ حربے آزمانے کے باوجود ناکام و نامراد ہوا۔بھارتی حکمران بچوں اور عزت مآب خواتین کے عزم جو ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے بھی زیادہ گہرا ہے کو دیکھ کر چیخ اُٹھے ہیں۔ بوکھلاہٹ میں وہ اپنے آخری تیر آزما رہے ہیں لیکن عظیم کشمیری قوم اپنے جگر آزما رہی ہے۔دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ کشمیری اپنی جنگ کس طرح لڑ رہے ہیں۔موجودہ انقلاب میں بندوق کا کوئی کردار نہیں۔جہاد کونسل کا درست فیصلہ تھا عوامی انتفادہ کے دوران  بھارت کے خلاف حملے شہروں اور دیہات سے باہر جنگلوں میں کئے جائیں تاکہ کسی کو یہ پروپیگنڈا کرنے کا موقع نہ ملے کہ موجودہ انقلاب عوامی نہیں بندوق کا ہے۔ارون دھتی رائے کے بقول یہ وقت ایسا ہے کہ کشمیر کو بھارت سے آزاد ہونے سے بھی زیادہ بھارت کو کشمیر سے آزاد ہونے کی ضرورت ہے۔
بھارتی جبری قبضے سے قبل لارڈ مائونٹ بیٹن کے مہاراجہ کو خط کے تناظر میں ہی جواہر لعل نہرو نے28؍اکتوبر1948ء کو وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو ٹیلی گرام بھیجا جس میں لارڈ مائونٹ بیٹن کے الفاظ کو دہرایا گیا اور اس پالیسی پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
(جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں