07:05 am
 بھارت کے مکروہ  عزائم

 بھارت کے مکروہ  عزائم

07:05 am

کشمیر کا 55 فیصد رقبہ 70 ستر فیصدآبادی کا قبضہ بھارت کے پاس ہے
کشمیر کا 55 فیصد رقبہ 70 ستر فیصدآبادی کا قبضہ بھارت کے پاس ہے جس میں جموں،لداخ، کشمیر ویلی اور سیاچن گلیشئر شامل ہیں اور 30تیس فیصدپر پاکستان کا کنٹرول ہے۔ یہ علاقے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ہیں جبکہ بقیہ پندرہ فیصد علاقے پر چین کا کنٹرول ہے۔ 1947 اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مسئلہ کشمیر کے حل میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ چین بھی ایک فریق ہے۔بھارت چین کے خلاف جنگ لڑ کر رسوا ہو چکا ہے چین نے مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ ہاکستان کی حمایت کی ہے۔ قیام پاکستان کے فوری بعد کشمیر کے مسئلے پر قبائلی جنگجوئوں کی جانب کشمیر کی آزادی کیلئے جنگ شروع ہوئی جس میں اقوام متحدہ کو مداخلت کرنا پڑی اور سیز فائر لائن کا فیصلہ کیا گیا۔جسے اب لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے۔بعد ازاں1965 اور 1971 کی دونوں جنگوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان شملہ معاہدہ طے پا یا جس کے تحت اس مسئلہ کو دونوں ممالک نے بات چیت کے ذریعے حل کرنا تھا تاہم 1999میں کارگل کی جنگ کے باعث شملہ معاہدہ کی اہمیت پر حرف آیا تھا۔قبل ازیں 1989 میں کشمیری جوانوں نے بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد آزادی شروع کی۔
2010 میں جعلی مقابلوں میں کشمیری جوانوں کو بھارتی مسلح فوج نے شہید کیا اور بھارت کی جانب سے یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ کشمیر میں دہشت گردی ہو رہی ہے حالانکہ مقبوضہ وادی کے عوام بھارتی ناجائز تسلط سے آزادی چاہتے ہیں جس کے جواب میں بھارتی فوج کشمیری عوام پر ظلم کرتی ہے۔نوجوانوں کو قتل کر دیا جاتا ہے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔بھارت کے سفاکانہ اقدامات کی بدولت مقبوضہ وادی میں شدید نفرت پھیل گئی ہے۔ہڑتالیں اور مظاہرے ایسے شروع ہوئے کہ ابھی تک جاری ہیں۔آزادی اور احتجاج کی آواز مسلسل گونج رہی ہے۔
 2016میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعدجدوجہد آزادی میں مزید شدت آگئی ہے اور اب جب کہ کشمیری اپنی آزادی اور بھارتی تسلط کو توڑنے کے لیے میدان میں نکل آئے تو بھارت کی جانب سے آخری کارڈ کھیل دیا گیا ہے۔ اگست کی پانچ تاریخ سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کر کے اسے بھارت کا حصہ بنا دیا ہے اور اس غیر اخلاقی غیر انسانی اور غیر آئینی اقدام کے بعد مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جو کہ تاحال جاری ہے اس کے بعد سے اب تک مقبوضہ وادی کے اسی لاکھ سے زائد عوام زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔پوری وادی جیل میں تبدیل کر دی گئی ہے۔ایمبولینس تک دستیاب نہیں ہے۔بچے بوڑھے اور خواتین ذلت آمیز زندگی گذارنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔بھارتی درندہ صفت فوجی گھروں میں گھس جاتے ہیں۔جس کے بعد اللہ تعالی ان کا مددگار ہے۔دنیا اس بدترین ظلم اور بربریت پر خاموش ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں کہیں دکھائی نہیں دیتیں۔ وجہ کیا ہے؟ دنیا کے امن پسند لوگ حیران اور پریشان ہیں۔نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی ہٹ دھرمی اور مقبوضہ کشمیر میں انتہائی غیر آئینی اقدام کے بعد جنوبی ایشیا کا خطہ ایٹمی فلیش پوانٹ بن چکا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ساری دنیا کو مسئلہ کشمیر کی اصل حقیقت سے آگاہ کیا جائے اور بھارت کے مہابھارت والے شیطانی منصوبے کو ناکام بنانے اور اس انسان دشمن نظریے کو خاک میں ملانے کے لیے پاکستان کو بھرپور جوابی اور انتہائی دانشمندی کے ساتھ اقدامات کرنا ہوں گے۔بھارت کا مکار اور سفاک چہرہ ساری دنیا کو دکھانا ہوگا تاکہ مہذب دنیا بھارت کی شیطانی سیاست اور کردار سے آگاہ ہو سکے۔