07:07 am
فقط چہرے بدلتے ہیں

فقط چہرے بدلتے ہیں

07:07 am

نواز شریف کی علالت،مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ ملک بھر میں موضوع گفتگو
نواز شریف کی علالت،مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ ملک بھر میں موضوع گفتگو ہے،پہلے تو علالت کا کھلم کھلا مذاق اڑتا رہا،بالکل ویسے ہی جیسے بیگم کلثوم نواز کی بیماری پر سیاسی جگتوں کا بازار گرم ہوا تھا، پھر اسے بھی اسکرپٹڈ قرار دیا گیا۔ آج بھی لگ بھگ وہی صورتحال ہے،افواہ،قیاس، امکانات، خدشات اور خواہشات کا ایک سیلاب ہے جو سب کو ساتھ بہائے لے جا رہا ہے۔جانے کیوں سیاست ہی ہمارا اوڑھنا بچھونا بن چکی ہے،ڈینگی کی تباہی،کتوں کے کاٹنے کی دوا، سی پیک،مسئلہ کشمیر اور کرفیو میں قید کشمیریوںکےمصائب،بھارتی سازشیں،ترک امریکہ  کشیدگی اور بہت کچھ فی الوقت پیچھے جا چکا ہے بس ساری قوم کی توجہ سیاست  کےپیچ و خم پر ہے۔ حکومت سب کچھ بھول بھال کر مولانا فضل الرحمان کو کوس رہی ہے،اپوزیشن نواز شریف کی بیماری کا سبب تحریک انصاف کو قرار دے رہی ہے،جانے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ کھیل کب سے جاری ہے اور کب تک جاری رہیگا۔
ٹی وی کے سامنے بیٹھو تو یہی دو موضوعات ہیں،صبح اخبار اٹھائیں تو یہی کچھ، لگتا ہے پاکستان کی قومی سلامتی کو لاحق سارے خطرات دور ہو گئے،مسئلہ کشمیر حل نہ بھی ہوا تو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹا لیا گیا،بھارتی فوج واپس چلی گئی،عوام کو صحت،تعلیم اور تمام بنیادی سہولیات فراہم کر دی گئی،معاشی مسائل ختم ہو گئے اب ہر سو خوشحالی کا دور دورہ ہے۔شرم آتی ہے جب کسی مریض کا مذاق اڑایا جاتا ہے،سیاسی جگتیں کسی جاتی ہیں،چند روز پہلے تک نواز شریف کی بیماری کو جعلی قرار دیا جا رہا تھا، بصد معذرت وزیر اعظم امریکہ میں اے سی اور سہولیات بند کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے حالانکہ سرکاری موقف یہ ہے کہ نواز شریف اور زرداری  کے مقدمات سے حکومت کا کچھ لینا دینا نہیں یہ تو پہلے کے قائم کردہ ہیں،نیب اور عدالتیں آزاد ادارے ہیں مگر جانے کیوں گاہے بگاہے وزیر اعظم اور وزراء اس موقف کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔ایسے سیاسی رہنما ء کم ہی ہوتے ہیں جو اپنی عقل سلیم استعمال کریں،اپنے مزاج کو مدنظر رکھیں،سو بیگم کلثوم نواز کی طرح نواز شریف کی بیماری کو بھی تحریک انصاف نے قائد کی مرضی جان کر بے رحمانہ مذاق کا نشانہ بنایا پھر کہیں جا کر عمران خان نے اس معاملے پر بیان بازی سے منع کیا۔اب حسب معمول یہ کہانیاں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ یہ ڈیل کا نتیجہ ہے،میاں صاحب جلد بیرون ملک چلے جائیں گے،ماہرین صحافت تو ڈیل کی رقم اور دیگر تفصیلات بھی اس طرح بیان کر رہے ہیں جیسے معاہدے پر بطور ضامن انکے دستخط بھی ہیں۔بہرحال یہ بات طے ہے کہ ہر حکومت اپنی ذمہ داری عدالتوں اور اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنے کی عادی ہو چکی ہے اور شاید تحریک انصاف کی حکومت اس معاملے میں سب سے زیادہ با صلاحیت ہے۔
آزادی مارچ کا معاہدہ طے پا گیا ہے،پرویز خٹک نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ مارچ کے شرکا پشاور موڑ تک محدود رہیں گے،اگر میری یادداشت کمزور نہیں تو شاید ایسا ہی ایک معاہدہ ن لیگ حکومت اور تحریک انصاف میں بھی طے پایا تھا اور شرکاء کو پریڈ گرائونڈ تک محدود رہنا تھا مگر 126دن کا دھرنا پارلیمنٹ کے سامنے ہوا اور اسلام آباد کے شہری چار ماہ سے زائد در بدر رہے۔بہرحال آزادی مارچ کے معاہدے کو بھی ڈیل سے جوڑا جا رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان کے مارچ کے پیچھے پوشیدہ قوتوں کو بھی کوسا جا رہا ہے، جانے یہ کون سی قوتیں ہیں جن کا نام لینے سے دریدہ دہن وزراء تک اجتناب کرتے ہیں۔ یہی کچھ تحریک انصاف کے دھرنے کے وقت بھی دھرایا گیا تھا،گو ہم ایک سیاسی گرداب میں جی رہے ہیں،ہر تھوڑے عرصے بعد ایک ہی کہانی،بس اداکار تبدیل ہو جاتے ہیں،بہرحال آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا۔گزشتہ حکومتوں کے پاس کم از کم یہ جواز موجود ہوتا تھا کہ اپنی ناکامی کا ڈھول اسٹیبلشمنٹ پر ڈال دیں مگر تحریک انصاف کے پاس یہ جواز موجود نہیں ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ غلط یاصحیح عوام میں یہ خیال راسخ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پوری طرح تحریک انصاف کے ساتھ ہے بلکہ یہ بھی برملا کہا جاتا ہے کہ اس حکومت کو اسٹیبلشمنٹ ہی لے کر آئی ہے،حضور اگر یہ فکر وقت کیساتھ ساتھ پختہ ہو گئی تو پھر ہو گا کیا؟
 کیا تحریک انصاف کی ناکامی کو اسٹیبلشمنٹ کی ناکامی نہ سمجھا جائیگا،کیا تحریک انصاف کی نااہلی،بے عملی اور ناتجربہ کاری کو اسٹیبلشمنٹ کے گلے میں نہ ڈالا جائیگا۔شاید یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف میں شامل ہونیوالے بیرونی سیاستداں بے عملی اور نااہلی کی تصویر نظر آتے ہیں۔نواز شریف ضمانت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فرمایا کہ حکومت کوئی ذمہ داری اٹھانی نہیں چاہتی۔شاید اس ریمارکس کا سبب یہ بھی ہے کہ حکومت دانستہ طور پر نواز شریف کیس میں بے عملی کے ذریعے تمام ملبہ عدالت کی جھولی میں ڈال رہی ہے۔بالکل اسی طرح جیسے ن لیگ حکومت نے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا ذمہ دار عدالتی فیصلے کو قرار دیا تھا حالانکہ عدالت نے اسے حکومتی صوابدید پر چھوڑا تھا۔ ایک جانب تو حکومتی وزراء سینے پر ہاتھ مار مار کر بتاتے ہیں کہ فلاں کب اندر جائیگا، فلاں کیساتھ کیا سلوک کیا جائیگا، کس کس کی انکوائری چل رہی ہے اور جب موقعہ آئے تو یوٹرن،ہمیں کیا پتہ جی،مقدمات انہوں نے ایک دوسرے پر قائم کیے،نیب ہمارے تحت نہیں،عدلیہ آزاد ہے،ہمارا کیا لینا دینا مقدمات اور مسائل سے،یہ دہری پالیسی ناسمجھی کا نتیجہ ہے یا انتہائی سوچا سمجھا منصوبہ،کبھی نہ کبھی تو یہ پردہ اٹھے گا۔
خیر جناب،نواز شریف کو انصاف ملا یا نہیں،ایک بڑی سہولت ضرور مل گئی،شاید اس طرح کی سہولت زرداری صاحب کو بھی مل جائے۔مجھے نہیں پتہ اسے کیا کہیں گے ڈیل یا ڈھیل، کیا یہی انصاف سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندان کو مل سکتا ہے۔ کیا ان معصوم بچوں کو انصاف مل سکتا ہے جن کے والدین کو انکی آنکھوں کے سامنے خون سے نہلا دیا گیا،بڑی بہن کو سر عام گولیوں سے بھون دیا گیا،دنیا بھول سکتی ہے مگر یہ بچے زندگی بھر اس سانحے کے قیدی رہیں گے۔کیا یہ بچے مریم نواز اور بلاول زرداری سے کم درجے کے پاکستانی ہیں۔کیا واقعے میں ملوث پولیس کے قاتل اس خاندان سے زیادہ بہتر پاکستانی ہیں۔حضور،ریاست تو ماں جیسی ہوتی ہے تو پھر یہ کیسا انصاف ہے،یہ کیسی حکومت ہے،یہ کیسا نظام ہے،بقول حبیب جالب
کہاں قاتل بدلتے ہیں فقط چہرے بدلتے ہیں
عجب اپنا سفر ہے فاصلے بھی ساتھ چلتے ہیں
وہ جس کی روشنی کچے گھروں کو جگمگائے گی
نہ وہ سورج نکلتا ہے، نہ دن اپنے بدلتے ہیں