07:08 am
جسٹس حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ

جسٹس حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ

07:08 am

ایک حصہ صدر ایوب خان مرحوم کے دور حکومت سے متعلق ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ایوب خان
(گزشتہ سےپیوستہ)
(1)ایک حصہ صدر ایوب خان مرحوم کے دور حکومت سے متعلق ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ایوب خان کے دور میں صنعتی ترقی ہوئی اور زراعت کا دائرہ بھی وسیع ہوا، لیکن سیاسی طور پر ان پالیسیوں سے ملک کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے دور میں بالواسطہ جمہوریت کا فلسفہ پیش کر کے جو بی ڈی سسٹم رائج کیا گیا اور عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرکے تمام اختیارات کو مرکز میں سمیٹ لینے کا جو طرز عمل اپنایا گیا، اس نے مشرقی پاکستان کے باشندوں کے دلوں میں نوآبادیاتی ہونے کا احساس پیدا کیا اور اس احساس کو اندرونی و بیرونی سازشی عناصر نے اجاگر کرکے ملک کے دونوں حصوں کے درمیان نفرت کی خلیج پیدا کر دی جس کا آخری نتیجہ سقوط ڈھاکہ اور بنگلہ دیش کا قیام تھا۔
(2)رپورٹ کا دوسرا حصہ ان سیاسی عناصر کے بارے میں ہے جو حمود الرحمن کمیشن کی رائے میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا باعث بنے۔ ان میں سے شیخ مجیب الرحمن کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ واجبی سطح کے لیڈر تھے اور ان کے پیش کردہ چھ نکات جو ملک میں سیاسی تنازعہ کی بنیاد بنے، وہ ان کی تخلیق نہیں تھے اور نہ ہی ان میں اتنی صلاحیت و اہلیت تھی۔
 بلکہ یہ نکات مشرق پاکستان کے ینگ سی ایس پی افسران کے ایک گروپ نے ترتیب دیے تھے اور ان کی پشت پر بیرونی عوامل تھے جنہوں نے ان چھ نکات کی بنیاد پر مغربی پاکستان کے خلاف مہم کو آگے بڑھایا اور مشرقی پاکستان کے عوام کو ان کے لیے منظم و متحرک کر دیا۔ رپورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے منتخب پارلیمنٹ میں عوامی لیگ اور شیخ مجیب الرحمن کا سیاسی مقابلہ کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کرکے اور اجلاس کے لیے ڈھاکہ جانے والے ارکان اسمبلی کی ٹانگیں توڑ دینے کی دھمکی دے کر محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا جس کی وجہ سے قومی اسمبلی کا طلب کیا ہوا اجلاس ملتوی کر دیا گیا اور اس کے رد عمل میں عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی جو بالاخر ملک کی تقسیم پر منتج ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق مسٹر بھٹو مرحوم نے دو اکثریتی پارٹیوں اور گرینڈ الائنس کا تصور وفاق کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ کنفیڈریشن کے قیام کے لیے پیش کیا تھا اور انتہائی غیر جمہوری طرز عمل کا مظاہرہ کیا تھا۔
(3)  رپورٹ کا تیسرا حصہ جنرل صاحبان کے بارے میں ہے جو سب سے زیادہ شرمناک اور ہوش ربا ہے۔ اس میں جنرل یحییٰ خان، جنرل عبدالحمید خان، جنرل پیرزادہ، جنرل عمر، جنرل مٹھا اور ان کے دیگر ساتھیوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے پہلے صدر ایوب خان کو اقتدار سے الگ کرنے کی سازش کی جس پر ان کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ اس کے بعد انہوں نے انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے دبائو، رقم اور دیگر ذرائع کا بے دریغ استعمال کیا۔ منتخب اسمبلی کو کام کرنے کا موقع دینے کی بجائے طاقت کا استعمال کرکے مشرقی پاکستان میں عوام کا قتل عام کیا اور نفرت کی خلیج اور زیادہ گہری کر دی۔ رپورٹ میں ان سمیت پندرہ جنرل صاحبان کا کورٹ مارشل کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور ان کے بارے میں الزامات کی ایک طویل فہرست دی گئی ہے جو پیشہ ورانہ نااہلی اور بدعنوانی کے ساتھ ساتھ ذاتی کردار کے حوالے سے بھی شرمناک تفصیلات پر مشتمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنرل یحییٰ خان اور ان کے رفقا نےشراب اورشباب کی محفلیں برپا کر رکھی تھیں اور یحییٰ خان ان میں اس قدر مگن رہتے تھے کہ انہوں نے صدارتی آفس جانا چھوڑ دیا تھا اور جنگ کے دوران جی ایچ کیو کے آپریشن روم میں صرف دو تین مرتبہ ہی جا سکے۔ جنرل نیازی پان کی اسمگلنگ کرتے تھے،کریمنل کیسوں کے حوالے سے انہوں نے لاکھوں روپے کمائے۔
 بریگیڈیئر حیات  سے بھی ایسی ہی داستانیں وابستہ ہیں اور بریگیڈیئر جہاں زیب ارباب اور ان کے ساتھ دوسرے چھ فوجی افسر نیشنل بینک کی سراج گنج شاخ سے ایک کروڑ  لاکھ روپے لوٹنے کی واردات میں ملوث تھے۔
رپورٹ کے ان حصوں کو جن میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بیرونی ممالک کے کردار کا ذکر ہے، خارجہ تعلقات کے حساس معاملات قرار دے کر ان کی اشاعت سے گریز کیا گیا ہے، لیکن جس طرح شائع ہونے والے حقائق عوام سے مخفی نہیں تھے اور رپورٹ کے شائع شدہ حصوں نے عوام کو پہلے سے حاصل شدہ معلومات کی تصدیق کر دی ہے، اسی طرح بیرونی ممالک کا کردار بھی عوام سے اوجھل نہیں ہے بلکہ انہیں ایک گونہ اطمینان حاصل ہوا ہے کہ اندرونی عوامل کی طرح بیرونی عوامل کے بارے میں بھی ان کی معلومات بے بنیاد نہیں ہیں اور رپورٹ کا باقی ماندہ حصہ جب بھی شائع ہوا، وہ ان کی تصدیق پر ہی مشتمل ہوگا۔
(1) اس رپورٹ پر مختلف سیاسی حلقوں کی طرف سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، مگر ہم موجودہ حکومت کے سربراہ جنرل پرویز مشرف سے، جو آرمی چیف بھی ہیں، صرف دو باتوں کی وضاحت کرنے کی درخواست کر رہے ہیں:
(2)     ملک توڑنے کے سنگین جرم میں ملوث پائے جانے والے فوجی اور سول افسروں اور سیاست دانوں کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے؟
    فوج کی اعلی قیادت کو شراب وشباب اور رقص و سرود کے جال سے بچانے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں؟
کیونکہ اگر ان حوالوں سے کوئی پیشرفت ہوئی ہے تو اطمینان رکھنا چاہیے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرکے آئندہ اس سے محفوظ رہنے کے لیے مناسب بندوبست کر لیا گیا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو قوم پوچھنا چاہتی ہے کہ 1971 کے جی ایچ کیو اور 2001 کے جی ایچ کیو میں آخر فرق ہی کیا ہے؟