07:09 am
خدائے من، قبول کر دُعائے من

خدائے من، قبول کر دُعائے من

07:09 am

میرے وطن کے قائدین شدید بیمار ہیں اور پوری کی پوری قوم لاچار اور بے یارومددگار بیٹھی ہے۔ کسی
میرے وطن کے قائدین شدید بیمار ہیں اور پوری کی پوری قوم لاچار اور بے یارومددگار بیٹھی ہے۔ کسی مسیحا کا انتظار ہے جو اپنے دستِ مسیحائی سے شفا سراپا بدن میں سرائیت کر دے۔ آج میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری سمیت پرویز مشرف بھی شدید بیمار ہیں۔ میں مستقبل کی دیوار پر کھڑا ہو کر دیکھ رہا ہوں کہ کل کو عمران خان،فواد چودھری، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان،عثمان بزدار،پرویز خٹک،شاہ محمود قریشی اور چودھری سرور بھی بیمار ہونے والے ہیں۔ غریب عوام کی قیادت کو پاکستان بھر میں جب بھی کبھی اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں تو نہ جانے وہ بیمارکیوں ہو جاتی ہے۔شائد !یہ مکافات عمل ہے۔کیوں کہتے ہیں کہ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے؟ مکافاتِ عمل کا مطلب ہوتا ہے عمل کا بدلہ، عمل جو ہم کرتے ہیں اور بدلہ جو ہمیں ملتا ہے۔
 اس دنیا میں انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا بدلہ ضرور اسے ملتا ہے، پھر چاہے وہ اچھا ہو یا برا۔اچھائی کی جزا جس طرح ضرور ملتی ہے اسی طرح برائی کی سزا بھی ملتی ہے۔آج کسی کا دل دکھائو گے تو کل کو اپنا دل ضرور دکھے گا،آج کسی کا حق مارو گے تو کل کو اپنا حق بھی نہیں ملے گا، آج کسی کو دھوکہ دو گے تو کل کو خود بھی دھوکا کھائو گے۔مگر بات تو صرف سمجھنے کی ہے۔ اگر کسی کے ساتھ برا کرو اور خود پر برا وقت آجائے تب بیٹھ کر یہ سوچو کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور جواب نہ ملے،حقیقت جانتے ہوئے بھی اس بات کا اعتراف نہ کرسکو کہ یہ مکافاتِ عمل ہے تو شاید ابھی ضمیر سو رہا ہے۔ہر انسان کو یہ صلاحیت حاصل ہے کہ جب وہ کچھ برا کر رہا ہوتا ہے تو اس کا ضمیر اس کو ملامت ضرور کر رہا ہوتا ہے مگر یہ الگ بات ہے کہ اس آواز کو دبا دیا جاتا ہے اور اس کی سنی نہیں جاتی۔برے وقت کی برائی سے ڈرنا چاہیے اور اس فانی دنیا میں کچھ بھی کرنے سے پہلے ایک بار مکافاتِ عمل کے بارے میں ضرور سوچ لینا چاہیے۔ 
ایک عرصہ ہوا کہ ہمارا پیارا ملک پاکستان صدمات کی زد میں ہے،چند دن وقفہ ہوتا ہے، پھر کوئی نہ کوئی بلا اور مصیبت نازل ہوجاتی ہے۔اس سے بچائو کی کوئی مدہم سی صورت نمودار ہونے لگتی ہے تو پھر اچانک ایک نئی آزمائش سامنے آجاتی ہے،آخر ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے؟راقم الحروف کی دانست میں اس پر نہ اربابِ اقتدار نے سوچا اور نہ ہی عوام الناس نے،اس کی وجہ صرف اور صرف یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک طبقہ کے لوگ اپنی من پسند زندگی گزارنے کو اپنا لازمی حق سمجھتے ہیں۔ہر ایک چاہتا ہے کہ مجھے کوئی روک ٹوک کرنے والا نہ ہو،آجر چاہتا ہے کہ میں اپنی مرضی کروں اور اجیر چاہتا ہے کہ میں اپنی من مانی کروں۔حاکم چاہتا ہے کہ میں جو کچھ کروں کوئی اس کو روکنے اور ٹوکنے والا نہ ہو اور رعایا یہ چاہتی ہے کہ ہماری خودروی میں کوئی مداخلت نہ کرے۔جب سب کا یہ حال ہے تو حالات میں کیسے سدھار آئے گا اور معاشرہ پرامن وپرسکون کیسے ہوگا؟ او ر پھر قدرت کے قانون کے تحت ایسے اسباب ہو جاتے ہیں جن کے سبب ایسی پکڑ ہوتی ہے خود انسان کو سمجھ نہیں آتی وہ کس جرم میں پھنس گیا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ہاتھوں وہ کام ہو جاتا ہے جو وہ کبھی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔
آج پاکستان میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ عروج پر ہے اس سے کسی کو فائدہ ہوتا تو نظر نہیں آرہا البتہ پگڑیاں سب کی اچھلتی نظر آرہی ہیں ویسے بھی دستاروں کے بلوں میں چھپے ہوئے جرم لاوا بن کر پھوٹ رہے ہیں ۔ایسے میں سیاسی منظر نامہ کیا رخ اختیار کرے گا یہ کہنا قبل از وقت ہوگامگراس میں کوئی دو رائے نہیں پاکستان کا سیاسی نظام او ر سیاستدان مکافات عمل کے اصول کی زد میں ہیں۔سبھی پریشان،انجان اور مہمان بن کر رہ گئے ہیں۔اسی کشمکش میں پورا نظام چل رہا ہے اور کہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ ملکی ترقی و خوشحالی کے خلاف سازش ہے تو کہیں کہا جا رہا ہے کہ مکا فات عمل،یقینااس کا فیصلہ آئندہ چند دنوں میں ہو جائے گا کہ یہ سازش تھی کہ مکافات عمل ہے ۔ہم کسی کا نام نہیں لے رہے لیکن گزشتہ 72سالوں میں ملک او ر عوام کو اپنا خاندانی غلام بنانے کے لئے جس جس نے نظام کا تہس نہس کیا آج خود اسی گڑھے میں اپنے خاندان سمیت گر چکا ہے۔اسے قدرت کا انتقام کہتے ہیں۔اسے ہی مکافات عمل کہتے ہیں۔اسے اب کون اور کیا ٹھیک کرے گا۔ردعمل میں تاخیر ہو تو مظلوم مایوس اور ظالم گھمنڈ میں مبتلا ہو کر مزید ظلم کرتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ کا بنایا ہوا قانون مکافات عمل ضرور حرکت میں آئے گا اور اس کی فرعونیت کو دریائے نیل میں غرق کردے گا۔
مو جودہ او ر مستقبل کے حکمر ان موجو دہ اور ماضی کے حالات میں مکافات کے عمل کا بغور جائز لے لیں تو ناصرف پاکستان اور عو ام کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں بلکہ خود حکمرانوں کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔کانٹے یا ببول کے بیج بو کر پھولوں کی خوشبو کوئی کیسے وصول کر سکتا ہے؟اس کے لیے عمدہ خوبیاں اپنی ذات میں شامل کرنی ہوںگی۔عوام کو اہمیت دینی ہوگی تب کہیں جاکرعوام سے محبت کی خوشبو اور اپنائیت کا احساس پاسکتے ہیں اور مکافات عمل یہی ہے کہ اگر آپ کی ذات سے کسی کو دکھ پہنچے تو اپ بھی اللہ کے قہر سے نہیں بچ سکتے۔ہر انسان کو اپنے عمل کا آدھا قرض دنیا میں ہی چکانا پڑتا ہے۔مکافات عمل سمجھو ،عذاب علیم کا اشاریہ سمجھو،ساقی نامہ کی تمثیل سمجھو،جو بھی سمجھو،ابھی سے سمجھ لو،بیداری کی بازگشت ہے، کھڑکھڑاہٹ ہے۔بچا کوئی مکافات عمل سے؟وہی کاٹے گا جو بوتا رہے گا!مظاہر فطرت سے متعلق قوانین قدرت کی خوبی یہ ہے کہ وہ اٹل،ناقابل تغیر اور یکساں ہوتے ہیں،لاتعداد مرتبہ رونما ہونے پر بھی یکساں نتائج دیتے ہیں۔ 
زمانہ یا حالات کیسے بھی ہوں قوانین قدرت اس سے بے نیاز اپنے نتائج پیدا کرتے رہتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان کی بنیاد پر ہم بہ آسانی پیش گوئی کرسکتے ہیں،مثلاً وزن دار چیز اونچائی سے چھوڑ دیں توسب بہ آسانی بتا سکتے ہیں کہ وہ کس جانب جائے گی!اسی طرح انسانی رویوں،اعمال اور کردار سے متعلق بھی فطرت کے قوانین ہیں جیسے مکافات عمل کا قانون یعنی ادلے کا بدلہ،جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ اس میں ایک بات مسلم ہے کہ عمل کا ردعمل ضرور ہوگا لیکن اس کی شکل کیا ہوگی؟ردعمل کا وقت کیا ہوگا؟ ماہیت کیا ہوگی؟ اس کا انتخاب قدرت اپنی منشا کے مطابق کرتی ہے۔مولانافضل الر حمن کا مارچ ہو یا شریف خاندان جیل یا پرواز،شہباز شریف کاسیاسی کھیل ہو عمران خان کی حکومت سب کے فیصلے پاکستان او ر عو ام پاکستان کے حال اور مستقبل پر اثر انداز ہوں گے بس یہ یاد رکھیں کو ئی بھی جذباتی نہیں ہوتا ہر فیصلہ تاریخ رقم کرتا ہے اس لیے خداراسو چ سمجھ کر فیصلے کریں اور مکافات عمل کے قدرت کے قانون کو تسلیم کر لیں ورنہ یہ قانون قدرت سب تسلیم کروا لے گا۔ قانون قدرت تو سب کچھ تسلیم کروا لے گا مگر اِس میں عوام کا کیا قصور ہے…مؤرخ کہتا ہے کہ جب قومیں قعرِ مذلت میں گِر جاتی ہیں تو پھراُن کی قیادت بھی ویسی ہی ہو جاتی ہے۔آپ کانٹے بیج کر پھولوں کی باس نہیں لے سکتے اور ایسے میں یہ صدا لبوں پر مچل کر رہ جاتی ہے کہ خدائے من…قبول کر…دُعائے من۔