07:57 am
’’پوراپنڈ نہی ُستّا‘‘

’’پوراپنڈ نہی ُستّا‘‘

07:57 am

برادرم فاروق بھٹی کاپیغام ملاکہ ہمارے میڈیا کی ترجیحات میں کشمیرآخری نمبرزپرچلاگیاہے۔پہلے نمبرپرنوازشریف،پھر مولانا فضل الرحمن،پھرسرفراز، پھر کراچی کاکچرا،پھر‘ پھرجاکرکشمیرکے 84روزہ کرفیو کا ذکر!نجانے کیوں پنجابی کایہ شعریادآگیا:
ماڑے دی مرگئی ماں تے کوئی نی لیندا ناں
تگڑے دامرگیاکتا، غم وچ پورا پنڈ نہی ستا
تاریخ یہ لکھے گی کہ کشمیر میں ماؤں بہنوں کی عزتیں لٹ رہی تھیں اورپاکستانی لیڈراپنے اقتدارکیلئے لڑرہے تھے۔شہ رگ کہنے والو ں کابھرم اس دن کھل جائے گاکہ وہ اپنے فائدے اوراقتدارکے حصول کیلئے کشمیرکاتذکرہ کرتے رہے۔
ہائے رے انسان!ہررات موت کی آغوش میں جاتاہے لیکن پھربھی موت کویادنہیں کرتا۔کمزوری انسان کوبھولنے کے مرض میں مبتلاکردیتی ہے۔آج امت مسلمہ پربھی کمزوری کا غلبہ ہے۔اس لئے اسے نسیان کامرض لاحق ہے۔یہ بہت جلد بھول جاتی ہے اپنے دشمنوں کو،دشمنوں کی تباہ کاریوں کو،بربریت اوردہشت گردی کو۔امت مسلمہ بھول گئی بوسنیا، افغانستان، عراق،لیبیا،صومالیہ،شام، یمن وغیرہ کو دشمنوں نے کس طرح اپنی بربریت کانشانہ بنایا۔ امت مسلمہ بھول گئی تورابورامیں ڈیزی کٹربم گرائے جانے کو،ادلب،حمص،حلب،رقہ وغیرہ میں دشمنوں کے شہری آبادیوں پر ہزاروں بم برسانے کو۔
امت مسلمہ بھول گئی گوانتانامابے اورابوغریب جیل میں مسلمان قیدیوں پرانسانیت کوشرمادینے والے مظالم اورقیدیوں پرکتوں کے کتے چھوڑے جانے کے ان ویڈیوزکوجو درندہ صفت دشمنوں نے امت کے ہر فردکودکھایاتھا۔امت مسلمہ اب توکل کی بات بھی بھولنے لگی ہے۔یہ بھول گئی میانمارمیں روہنگیائی مسلمان بچوں کے زندہ جلائے جانے کو، عورتوں کی لاشوں کواوریہ بھولنے لگی ہے بیت المقدس کوناپاک یہودیوں کی دارالحکومت قراردینے کواوراس کمزورامت کوبھول جانا ہی چاہئے،خوابِ خرگوش میں محو رہناچاہئے۔
لیکن سال میں ایک یادوباراس امت کی یادداشت واپس آجاتی ہے یوم القدس پرسیاست کرنے کیلئے،یوم کشمیرپرسیاست کرنےکیلئے،دو چار ریلیاں نکالنے کیلئے،چندگرماگرم تقاریرکرنے کیلئے، دشمن کواپنی لفاظی سے للکارنے کیلئے جونہ اسوہ رسول ﷺ ہے اورنہ ہی خلفائے راشدین کاطریقہ ہے اورنہ ہی کبھی کسی مسلمان جرنیل سے اس لفاظی کی جنگ کاثبوت ملتاہے۔
دشمن کولفاظی سے نہیں،جنگی ایکشن اورحکمت عملی سے مات کیاجاتاہے،فلمی ایکشن سین ہیں لیکن اس کمزورامت میں اب اس کی طاقت کہاں،ایسی صلاحیت کہاں،ایسے مرد مومن کہاں جویہ فریضہ انجام دیں؟ٹکڑوں میں بٹی نفسانی خواہشوں کی دلدادہ دنیامیں مست،موت سے ڈرنے والی کمزورامت لفاظی کے سواکربھی کیاسکتی ہے؟
توکرتےرہوسیاست،نکالتے رہوریلیاں، للکارتے رہودشمنوںکواورلڑتے رہو لفاظی جنگ یہاں تک کہ دشمن تمہارانام مٹا دے،اللہ تمہیں نابودکردے اور تمہاری جگہ دوسروں کودین کاوارث بناکران سے اپنے دین کی سربلندی کاکام لے۔جس طرح ماضی میں تاتاریوں سے لیاتھا۔اے نسیان زدہ امت!شایدکہ تمہیں کچھ یادہو،ماضی میں جب تمہاری روش آج جیسی ہی تھی تب اللہ نے تمہارے دشمن تاتاریوں سے تمہیں خوب تہس نہس کیا،تمہارے خون سے دجلہ اور فرات کورنگین کیا،تمہاری کھوپڑیوں کے مینار بنوائے اور پھران ہی تاتاریوں سے اپنے دین کاکام لیااورایساکرنااللہ کیلئے کچھ مشکل نہیں ہے بقولِ شاعر مشرق:
ہے عیاں یورش تاتارکے افسانے سے 
پاسباں مل گئے کعبے کوصنم خانے سے 
یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔وہ اپنے نافرمانوں کواسی طرح سزائیں دیتاہے۔وہ اپنی دین کی وراثت نافرمان قوم سے چھین کر دوسری قوم کودے دیتاہے جودین الہٰی کیلئے اپناجان و مال قربان کرتی ہے اوردین کوسربلند کرتی ہے۔اگرموجودہ امت محمدیہ نے اپنی منافقت کی روش نہیں بدلی تواللہ کیلئے یہ کوئی مشکل نہیں کہ اسے نیست ونابود کرکے اپنے دوسرے بندوں کواس دین اسلام کاوارث بنادے اوران سے دین کی سربلندی کا کام لے،قرآن کی متعدد مقامات پراللہ تعالیٰ کی وعیدہے: 
اے لوگو!اگروہ(اللہ)چاہے توتمہیں نابود کر دے  اور(تمہاری جگہ)دوسروں کولے آئے اور اللہ اس پربڑی قدرت والاہے۔(النسا:133)
اورآپ کارب بے نیازہے(بڑی)رحمت والا ہے،اگرچاہے توتمہیں نابودکردے اورتمہارے بعد جسے چاہے(تمہارا)جانشین بنادے جیساکہ اس نے دوسرے لوگوں کی اولاد سے تم کو پیدا فرمایا ہے:(سور النعام:133)
وہ(اللہ)چاہے توتم لوگوں کولے جائے اورایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے۔ایساکرنا اللہ پرکچھ دشوارنہیں ہے۔(سور ابراھیم19:20))
پس نہیں،میں قسم کھاتاہوں،مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی،ہم اس پر قادر ہیں کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور کوئی ہم سے بازی لے جانے والا نہیں ہے۔ (المعارج :41)
اوراگرتم(حکمِ الہیٰ سے)روگردانی کروگے تووہ تمہاری جگہ بدل کردوسری قوم کولے آئے گاپھروہ تمہارے جیسے نہ ہوں گے(سور محمد:38)
آج یہ امت انفرادی و اجتماعی طور پر حکم الہیٰ سے روگردانی کر ہی رہی ہے اور اس کی سزا بھی بھگت رہی ہے لیکن پھر بھی سبق لینے کو تیار نہیں ہے۔
اللہ نے اس موجودہ امت کوہرطرح کے خزانوں سے نوازکرسوسال کاوقت دیاکہ یہ دین اسلام کو دیگر ادیان پرغالب کرے لیکن یہ کمزورامت آپس کی تفرقہ بازی سے کمزورسے کمزورترہوتی گئی اوردین کے غلبے کاکام کرنے سے قاصررہی۔دین اسلام غالب رہنے کیلئے ہے،مغلوب رہنے کیلئے نہیں اوراللہ اس دین کو ضرورغالب کرے گا۔اللہ نے ایک بار ان سے دین کی وراثت چھین کران کے دشمن تاتاریوں کودین کاوارث بنایاتھااورپھران ہی تاتاریوں سے اپنی دین کی سربلندی کاکام لیاتھا۔شاید تاریخ پھرکسی تاتاری کے انتظار میں ہے جوموجودہ امت مسلمہ کوسبق سکھائے۔
پھرکوئی شیخ جمال الدین انہیں یہ سبق پڑھائے کہ جس کے پاس سچادین نہیں وہ کتے سے بھی براہے اورکوئی شیخ رشیدالدین دشمن کے ایوانوں میں دستک دے اوراسلام ومسلمانوں کے دشمنوں کوحلقہ بگوشِ اسلام کرے اورپھروہ سب مسلمان ہوکردین کی سربلندی کیلئےکام کریں اوراللہ سبحانہ وتعالیٰ انہیں فتحیاب کرے اوربیت المقدس فتح ہو، کشمیرفتح ہو،ظلم وبربریت کا شکار روہنگیا،بوسنیا، افغانستان،عراق، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن وغیرہ کے مسلمانوں کی دادرسی ہو، انسانیت کی فلاح ہواوردین اسلام غالب ہواورآنے والی نسلیں ایک بارپھر یہ ترانہ گائے۔
پاسباں مل گئے کعبے کوصنم خانے سے

تازہ ترین خبریں