07:58 am
   یوم سیاہ   سے  یوم  نجات  تک

   یوم سیاہ   سے  یوم  نجات  تک

07:58 am

 اقوام متحدہ کا یوم تاسیس اور کشمیر پر بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف دنیا بھر میں  ہر برس ستائیس اکتوبر کو منائے  جانے والے یوم سیاہ نے  سدا کے سوئے  عالمی ضمیر کو ایک بار پھر جھنجھوڑ کر جگانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ یوم سیاہ پر بھارتی ریاست کی پیشانی پر لگا سیاہ داغ سیاہ تر ہوتا دکھائی دیا۔ پانچ اگست کو ریاست کشمیر کا خصوصی تشخص تبدیل کرنے کا متکبرانہ اور غیر دانشمندانہ فیصلہ پورے خطے کو امن کو تہہ و بالا کر سکتا ہے۔ 
مقبوضہ کشمیر میں غاصب بھارت کے خلاف عشروں سے جاری تحریکِ حریت ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے ۔ عوامی سطح پہ کشمیر کی آزادی کے حوالے سے جذباتیت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج عوام کی کثیر تعداد خصوصاً نوجوان نسل اس پیچیدہ تنازعے کی اصل وجوہات سے نا آشنا ہے ۔  یہ اکتوبر کا مہینہ ہے ۔ ہر سال ستائیس اکتوبر کو کشمیری عوام یوم ِ سیاہ قرار دے کے بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کرتے ہیں ۔ نوجوانوں سے غیر رسمی مکالمے کے دوران مجھے یہ جان کے شدید دکھ اور حیرت کا احساس ہوا کہ بیشتر نوجوان ستائیس اکتوبر کو یومِ سیاہ قرار دیئے جانے کے پس منظر سے ہی واقف نہیں ۔ اس عالمِ بے خبری کی ایک بڑی وجہ ہمارا تعلیمی نصاب ہے ۔ سرکاری درس گاہوں میں پڑھائی جانے والی کتب میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مواد پہ نظرِ ثانی کی اشد ضرورت ہے ۔ نجی اسکولوں میں رائج نصابی کتب کا معاملہ بہت زیادہ توجہ طلب ہے ۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق نجی اسکولوں کی نصابی کتب میں ملک کی نظریاتی اساس ، دینی تشخص اور مسلمہ اخلاقی اقدار کے منافی مواد کی بھر مار ہے ۔ بھاری بھرکم فیسیں وصول کرنے والے یہ اسکول اشرافیہ کی ایک ایسی نئی نسل کو پروان چڑھا رہے ہیں جو پیدا تو پاکستان میں ہوئی ہے لیکن ذہنی اور نظریاتی اعتبار سے اپنے روز مرہ معمولات میں مکمل طو ر پہ مغرب زدہ ہے ۔ پاکستان کے سیاسی ، مذہبی اور سماجی مسائل سے اس مغرب زدہ نسل کا دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ بات دور نہ نکل جائے لہٰذا اصل موضوع کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس امر کی جانب نشاندہی ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر سے  نوجوان نسل کی لاعلمی بھی اسی منفی رجحان کا شاخسانہ ہے ۔ ہماری درسی کتب میں یہ تاریخی حقائق وضاحت کے ساتھ درج کئے جانے چاہئیں کہ چودہ اگست سن سینتالیس کو تقسیم کے اعلان کے بعد ریاست ِ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں رہی تھی ۔ ستائیس اکتوبر سن سینتالیس کو کشمیر میں بھارتی فوج کے غاصبانہ قبضے کا آغاز ہونے سے پہلے بھارت اور برطانیہ  کے سازشی کردار کو مستند تاریخی حقائق کی روشنی میں بے نقاب کیا جانا چاہیئے ۔ نئی نسل کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے  کا دعویدا ر بھارت دراصل ایک  ایسی غاصب ریاست ہے کہ جس کے بانی راہنما اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کے بر خلاف کشمیر پہ قابض ہوئے ۔ جس وقت پاکستان اور بھارت دو آزاد ریاستوں کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پہ اُبھرے اُس وقت ریاستِ کشمیر  نہ تو بھارت کا حصہ تھی اور نہ ہی مہاراجہ ہری سنگھ کی جاگیر رہی تھی ۔ آزادی کے اعلان کے ساتھ ہی برطانوی راج سے کیے گئے تمام معاہدے غیر مئوثر ہو گئے تھے ۔ آزادی کے اعلان کے بعد تقریباً سوا دو ماہ تک  کشمیر پہ غاصبانہ قبضہ قائم کرنے کے لیے سازشوں کا جال بچھایا گیا ۔ پنڈت نہرو ، مہاراجہ ہری سنگھ ، لارڈ مائونٹ بیٹن اور برطانوی فوجی افسروں کے منفی کردار کو حقیقی پیرائے میں بیان کر کے نئی نسل پہ یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ کشمیر میں دہشت گردی نہیں بلکہ غاصبانہ قبضے کے خلاف آزادی کی جائز تحریک جاری ہے ۔ مظلوم کشمیری حریت پسند ہیں جبکہ بھارت دہشت گردی اور نہتے شہریوں کی نسل کُشی جیسے سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے کا بھارتی دعویٰ سفید جھوٹ ہے ۔ بھارت کے غاصبانہ قبضے سے پہلے بھی ریاستِ کشمیر برطانوی راج کے دور میں اپنا جداگانہ تشخص رکھتی تھی ۔ سات عشروں سے زائد بھارتی آئین کا آرٹیکل تین سو ستر اس بات کا چیخ چیخ کے اعلان کر تا رہا ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے ۔ نئی دلی کے اشاروں پہ ناچنے والی محبوبہ مفتی اور فاروق عبداﷲ  جیسی  کٹھ پتلیاں بھی اس جھوٹے دعوے کو تسلیم کرنے پہ تیار نہیں کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے ۔ جلد یا بدیر بھارت سمیت عالمی قوتوں کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ مقبوضہ کشمیر کے کروڑوں انسانوں کو اظہارِ  رائے دہی کا بنیادی انسانی حق دیئے بغیر علاقائی امن بحال نہیں کیا جاسکتا ۔ ستائیس اکتوبر کا یوم ِ سیاہ  اس بات کا اعلان ہے کہ تہتر  برس گذر جانے کے باوجود کشمیریوں کی روح پہ بھارتی غاصبانہ قبضے سے لگنے والے زخم آج بھی تازہ ہیں ۔ بھارت کے ریاستی جبر و تشدد نے ان زخموں کو ناسور بنا دیا ہے ۔  حکومت ِ پاکستان پہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ! سفارتی محاذ پہ بھارت کا بھیانک چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے پاکستان اور حریت پسند کشمیریوں کا جائز مئوقف عالمی برادری کے سامنے مئوثر انداز میں پیش کرنے پہ خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ بعض بھارت نواز عناصر زمینی حقائق کے بر خلاف مقبوضہ کشمیر میں جاری بدترین ریاستی دہشت گردی کو نظرانداز کر کے بھارت کو  پاکستان کا دوست بنا کے پیش کرنے کی مہم چلانے میں مصروف رہے ہیں ۔ حکومت کے علاوہ میڈیا ہائوسز پہ بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی مفادات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ایسے عناصر کے منفی پروپیگنڈے کا  مئوثر سدِ باب کریں۔ وزیر اعظم  نے کشمیریوں کی وکالت کا حق جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تو خوب ادا کیا اور اب اقوام متحدہ کے یوم تاسیس پر بر وقت آئینہ دکھا کر عالمی ضمیر کو کشمیر میں جاری بھارتی بر بریت کی طرف بھی درست انداز میں متوجہ کیا لیکن بات اس طرح بننے والی نہیں۔ جب تک کشمیری یہ مقدمہ جیت نہیں جاتے اُس وقت تک وکیل کو میدان میں ڈٹے رہنا ہوگا ۔ اس مقدمے میں ریاستِ پاکستان کے تمام وسائل ، دنیا بھر میں بسنے والے کشمیریوں ، پاکستانیوں اور انصاف پسند انسانوں کی حمایت وزیر اعظم  کو دستیاب ہے۔ اگر نیک نیتی سے مقدمہ لڑا جائے تو نصرتِ الٰہی سے فتح ضرور حاصل ہوگی۔  راقم وزیر اعظم کو یہی مشورہ دے گا کہ پوری ریاستی مشینری کو کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے متحرک کریں ۔ یہ  محض کشمیریوں کے حق رائے دہی کا علاقائی تنازعہ  ہی نہیں بلکہ پاکستان کی بقا کا مسئلہ بھی ہے! نیک نیتی سے جد وجہد کی جائے تو وہ دن دور نہیں کہ بھارت کے خلاف یوم سیاہ منانے والے کشمیری  بھارت سے یوم نجات مناتے دکھائی دیں۔