07:59 am
آزادی مارچ، چھپے مقاصد، یاوہ گوئی اور فوج

آزادی مارچ، چھپے مقاصد، یاوہ گوئی اور فوج

07:59 am

مولانا کا آزادی مارچ اب تک ایک سربستہ راز ہے۔ جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اپنے سفر کی ابتداء کرچکا ہوگا لیکن میرے سمیت پاکستان کے کسی شخص کو اس آزادی مارچ کے محرک کا علم ہے اور نہ ہی مولانا کی تحریک کے مقاصد کا کچھ پتہ ہے۔ عجب قسم کی یہ ساری جدوجہد ہے ۔ اس کو ’’لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ‘‘ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اتنے بڑے پیمانے پر کارکنان کی موبلائزیشن آسان کام نہیں ہے، اس مارچ کو ناکام بنانے کے لئے حکومت کو کروڑوں روپے کے اخراجات کا بوجھ اٹھانا پڑا ہے تو اس آزادی مارچ کا انتظام کرنے کے لئے کتنی بڑی رقم کی ضرورت پڑی ہوگی۔ اس رقم کا بندوبست کہاں سے ہوا ہے اور کس نے بصورت دھرنا اضافی اخراجات اٹھانے کی ذمہ داری لی ہے یہ سب بھی ابھی تک ایک راز ہے۔ دیکھا جائے تو علامہ القادری کی طرح مولانا فضل الرحمان کی طبیعت کا اُفتاد بھی انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتا اور وہ ’’فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا’’ کے مصداق ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت  بنی ہے مولانا اپنے ’’ملین مارچ‘‘ میں مصروف ہیں۔ یہ لفظ ’’ملین مارچ‘‘ بھی نجانے مذہبی رہنمائوں کی لغت میں کیسے در آیا ہے کہ اپنے ہر جلسے کو وہ ملین مارچ کا نام دیتے ہیں۔
 ایک لحاظ سے یہ دروغ گوئی کے زمرے میں آتا ہے کہ اجتماع کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو کم از کم یہ دس لاھ کا مجمع تو نہیں ہوتا مگر دروغ  گوئی سے بچنے کی گنجائش اس قدر ہے کہ یہ گمان رکھا جائے کہ کامیاب بڑے اجتماعات کو بیان کرنے کیلئے مولانا اور ان کے ساتھی ’’ملین مارچ‘‘ کی اصطلاح کو استعمال کرتے ہیں۔ بہرحال انگریزی کے دو الفاظ اور اصطلاحیں ’’انٹرنیشنل کانفرنس‘‘ اور ’’ملین مارچ‘‘ کا استعمال جس بے دھیانی ، بے دردی سے مذہبی جماعتیں اور علماء کرام کرتے ہیں اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انہیں ان الفاظ کی معنی و مطلب سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ 
جمعیت علمائے اسلام چونکہ علماء کی جماعت ہے لہٰذا اس کے بارے میں بات کرنے میں احتیاط لازم ہے کہ منبر رسولؐ کی حرمت ہمیں عزیز ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کی سرگرمیوں اور ایجنڈے سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن تنقید نگار کو دیکھنا ہے کہ کہیں اس سے منبر رسولؐ کے منصب کا تقدس مجروح نہ ہونے پائے۔ اگرچہ جمعیت کے اکثر رہنمائوں کو خود اس ’’حرمت‘‘ کا پاس نہیں ہے اور وہ کبھی ایسی ذومعنی گفتگو کرتے ہیں کہ سننے والا انگشت بدنداں رہ جاتا ہے کہ ’’یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود‘‘۔ ابھی لوگوں کے حافظے میں حافظ حسین احمد کی وہ گفتگو موجود ہے جس میں وہ بلوغت کو چیک کرنے کا طریقہ بیان فرمان رہے تھے۔ میں نے اپنے تئیں پوری کوشش کی ہے کہ نظریاتی اختلافات کے باوجود علمائے اکرام کی توقیر کو ٹھیس نہ پہنچے کہ مسلمان معاشرے میں ’’علما‘‘ کا بلند مقام ہوتا ہے اور ہم بحیثیت قوم اس بات کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ عوام میں علما کے بارے میں بغض اور عناد پیدا ہو۔ یہی بات فوج کے بارے میں ذہن نشین ہونی چاہیے کہ اپنی سیاست کو بچانے کے لئے فوج کے ادارے کو بدنام نہ کیا جائے۔ ہمارے بعض سیاسی رہنما مسلسل اس غلطی کا ارتکاب کرتے آرہے ہیں۔ تازہ ترین یاوہ گوئی مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دیکھنے کو ملی ہے۔ چند ریٹائرڈ جرنیلوں کی گفتگو پر یوں سیخ پا ہونا کہ فوج جیسے ادارے کی توقیر پر حرف آئے ایک قومی رہنماء کو زیب نہیں دیتا۔ قبل ازیں میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی طرف سے بھی فوج کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے ان جماعتوں کے حامیوں میں پاک فوج کے خلاف بغض و عناد  بڑھ رہا ہے جو وطن عزیز کی سالمیت اور بقا کے تناظر میں نہایت تکلیف دہ صورتحال ہے۔ اپنی ناکامیوں، کمزوریوں اور برائیوں کو چھپانے اور اپنی سیاست کو بچانے کیلئے فوج پر ملبہ ڈالنا ملک دشمن رویہ ہے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ دو تین دہائیوں میں سیاست کے میدانوں میں ’’بونے سیاستدانوں‘‘ کی جو فصل تیار ہوئی ہے ان سے آپ لایعنی اور چھوٹی باتوں کے اور توقع بھی  کیا کرسکتے ہیں۔
پاکستان میں کسی رہنماء کا سیاسی قد کاٹھ محض اس وجہ سے نہیں بڑھ سکتا کہ وہ فوج کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گیا ہے، سیاسی قد کاٹھ بڑھانا مقصود ہے تو ان خامیوں کو دور کیجئے جو آپ کی پست قامتی کی اصل وجہ ہیں۔ آیا فوج کے مقابلے میں بڑا بننا چاہتے ہیں تو تختہ سیاہ پر کھینچی ہوئی’’فوج کی چھوٹی لائن‘‘ کی بجائے ایک بڑی لائن کا روپ دھار لیجئے یوں فوج کی لائن کو چھوئے اور چھیڑے بغیر آپ بڑے ہو جائیں گے لیکن یہ حوصلہ آپ کہاں سے لائیں گے؟ یہ کام کرنے کیلئے تو آپ کو اپنا تن من اور دھن سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے اور اپنی خواہشات و مفادات کی قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ کوئی انسان ویسے ہی "LARGER THAN  LIFE" تو نہیں بنتا، کسی اور کی نہیں تو نیلسن منڈیلا کی تاریخ ہی پڑھ لیں۔ کہاں27 سال کی قید اور کہاں اقتدار کی طرف ایک پانچ سالہ ٹرم۔ آپ کا تو اقتدار سے جی ہی نہیں بھرتا، نہ آپ اپنی سیاسی جماعت کی قیادت چھوڑنے پر راضی ہیں اور نہ ہی اپنے خاندان کے علاوہ کسی اور کو وزارت عظمیٰ یا وزارت اعلیٰ  کے مناصب پر بٹھانے کے لئے تیار ہیں آپ اس طرز عمل سے وقتی طور پر کامیاب سیاستدان تو بن سکتے ہیں لیکن اہل سیاست کی بڑی شخصیات میں آپ کا شما ر نہیں ہوسکتا۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی ، مولانا کا آزادی مارچ تو بیچ میں ہی رہ گیا، حقیقت میں بھی یہ ’’آزادی مارچ‘‘ کہیں بیچ میں ہی رہ جائے گا کیونکہ مارچ سے نمٹنے کی حکومتی تدابیر واضح ہیں۔ اس طرح کے لانگ مارچوں اور دھرنوں سے ماضی میں حکومتیں کبھی گری ہیں اور نہ اب حکومت گرنے کے دور دور تک کوئی امکانات دکھائی د ے رہے ہیں۔