07:17 am
یہ عدم اعتماد کیوں؟

یہ عدم اعتماد کیوں؟

07:17 am

موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے پندرہ ماہ ہونے کو ہیں عمران خان کی بائیس سالہ جدوجہد کے بعد زمام حکومت سنبھالا ہے اگرچہ جدوجہد کی ابتداء تو اکتوبر 2013ء  سے شروع ہوئی جب مینار پاکستان  کے سائے میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا جس میں نیا پاکستان   بنانے کا عزم کیا گیا پھر 2014ء میں اسلام آباد کے حساس ترین علاقے میں ایک طویل دھرنا ہوا اور دوران دھرنا کیا کچھ نہیں کیا گیا اور کیا کیا وعدے نہیں کئے گئے۔سول نافرمانی کی طرز پر کال بھی دی گئی۔  بجلی کے بل جلائے گئے‘ میڈیا‘ سول سوسائٹی اور مڈل کلاس نے بھرپور ساتھ دیا اس امید اور آس کے ساتھ کہ نئی اور مخلص لیڈر شپ ملک میں سماجی اور معاشی انصاف کو یقینی بنائے گی اور اجارہ داریاں ختم ہوں گی۔  لیکن ان پندرہ ماہ میں وہ وعدہ ایفا نہ ہوسکا کہ  دو نہیں ایک پاکستان۔  ہم سب کا پاکستان۔ کیونکہ  نہ اجارہ داریاں ختم ہوئیں نہ سماجی اور معاشی انصاف کی فراہمی کیلئے کچھ ہوا۔  خالی خزانے کو بھرنے کیلئے پھر وہی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اور انہی اجارہ داریوں پر انحصار کرنا پڑا جن سے جان چھڑانے کے وعدے کئے گئے تھے۔ ماڈل ٹائون‘ بلدیہ ٹائون‘ کار ساز کے مقتولین ابھی منتظر انصاف تھے کہ پھر ساہیوال والے سانحے نے انہیں بیک برنر پر ڈال دیا۔ پھر اسی  طرح آئے روز بچیوں کے ساتھ زیادتی اور بہیمانہ قتل کے واقعات اور سانحے ریاست کے ماں جیسا ہونے کا یقین ڈگمگاتے رہے۔
نظام بدلنے کا عزم نہ جانے کہیں پیچھے رہ گیا پھر اسی نظام کو مستحکم کرکے بچانے کے لئے انہی لوگوں کو شامل اقتدار کرنا پڑا جنہیں کبھی نشانہ تنقید بنایا جاتا تھا۔ اتنے ارمانوں اور چاہتوں سے لائی گئی حکومت کو کیوں پھر اسی نظام کو گلے لگانا پڑا۔  آج اگر فضل الرحمن جلوس اور احتجاج کے لئے نکلے ہیں تو پھر کیوں وہی حربے اختیار کرنے پڑے جو پرانے نظام کے داعی حکمران کرتے رہے ابھی کل ہی کی بات ہے ہمارے ایک محترم صوبائی وزیر یہ کہہ رہے تھے کہ اگر  کے پی کے سے فضل الرحمن کے جلوس میں شرکت کیلئے لوگ نکلے بھی تو ان کی تعداد سو ڈیڑھ سو سے زیادہ نہیں ہوگی۔ کیا انہوں نے کراچی سے اسلام آباد کی طرف آتے جلوس کو نہیں دیکھا۔ کیوں حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں۔ ایک وزیر صاحب نے کہا کہ نوکریوں کیلئے حکومت کی جانب نہ دیکھیں ہم تو چار سو ادارے بند کررہے ہیں۔ بلا شبہ پبلک سیکٹر میں نوکریاں اتنی بڑی تعداد میں کسی ملک میں نہیں دی جاسکتیں لیکن پرائیویٹ سیکٹر کو فعال کرنے اور اکنامک ایکٹیوٹی جنریٹ کرکے پرائیویٹ سیکٹر میں نوکریاں دی جاتی ہیں لیکن پرائیویٹ سیکٹر کو بیکار میں مخالف سمت میں کھڑا کردیا گیا ہے۔  تاجر کیوں ہڑتال کررہے ہیں۔ درآمدات کیوں کم ہوئیں؟ کیونکہ ملک میں اکنامک ایکٹیوٹی نہیں ہورہی مینو فیکچرنگ سیکٹر سکڑ رہا ہے۔ اس لئے مشینری امپورٹ نہیں ہورہی۔ کہا جاتا تھا  زراعت ہماری معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہے کیونکہ ہماری انڈسٹری زیادہ تر ایگریبیسڈ ہے مگر بجلی کے ہوش ربا نرخوں بیج‘ پیسٹیسائیڈ اور کھادیں عام کسانوں کی پہنچ سے باہر ہوگئی ہیں۔ رامیٹریل ایکسپورٹ کی بجائے ویلیو ایڈیشن کیلئے نہ سابقہ حکومتوں نے توجہ دی اور نہ ہی ہماری پاپولر حکومت کی ترجیح نظر آئی ہے۔ کہا جاتا ہے بہتر آرہی ہے تین فیصد  جی ڈی پی کے ساتھ کتنی ترقیاتی سکیمیں کامیابی سے ہمکنار ہوسکیں گی۔
پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ سترھویں ترمیم ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے لیکن اس ترمیم کے تحت وفاق میں وزارتوں کی تعداد بہت کم ہونا تھی کیونکہ تقریباً تمام سماجی اور اقتصادی امور صوبوں کو منتقل ہوچکے۔ صوبوں کو ٹیکس لگانے کے اختیار بھی مل گئے تاکہ وہ ترقی کے ساتھ ساتھ سرپلس بجٹ  بنا سکیں مگر نہ ان کے دور میں وفاقی اخراجات کم ہوئے نہ وزارتوں کی تعداد کم ہوئی اور نہ ہی پی ایم ایل ن کے دور میں سترھویں ترمیم پر عمل درآمد ہوا اور اب تو وفاق میں وزارتوں کی تعداد تو اور زیادہ ہوگئی ہے اور وفاق کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔ صوبے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے۔ صوبوں سے تو لاء اینڈ آرڈر بھی نہیں سنبھل رہا  جبکہ پولیس کی تعداد پولیس ایکٹ 2002 سے پہلے کی نسبت بہت زیادہ اور بااختیار ہوچکی ہے۔ ہسپتالوں سے مریض نہیں سنبھالے جاتے پولیس سے سائلین نہیں  سنبھالے جاتے‘ 2015 کے نیشنل ایکشن پلان میں کہا گیا کہ پولیس کے تفتیشی اور پراسیکیوشن نظام کو بہتر اور اپ گریڈ کرنے کے لئے بھرپور کام کیا جائیگا۔ تفتیشی اور پراسیکیوشن کے الگ محکمے بنا دیئے گئے مگر پھر عدالتوں میں ملزم ناقص تفتیش اور ناقص پراسیکیوشن کی  بناء پر بری ہوجاتے ہیں۔
ہماری پاپولر حکومت نے ہر شعبے میں اصلاح کیلئے ٹاسک فورسز بنائیں مگر نہ جانے  ان کی سفارشات آئیں بھی یا نہیں آئیں کیونکہ اصلاح تو کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
ابھی بھی میڈیا ہو یا پارلیمنٹ نواز شریف کی صحت‘ مریم نواز کی صحت‘ آصف زرداری کی صحت اور اب فضل الرحمن کے آزادی مارچ ہی چھائے ہوئے ہیں۔ اس سارے جمہوری نظام کے بنانے والے عوام تو کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔
این آر او نہیں دونگا‘ این آر او مانگ کون رہا ہے اسی پر بات ہوتی ہے اور ختم ہوجاتی ہے۔  کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کشمیریوں کا سفیر ہوں۔ یہ عزم بیشک بہت اہم ہے ہونا بھی چاہئے۔ اس کڑے وقت  میں کشمیریوں کا ساتھ دینا ضروری ہے مگر وطن عزیز کے عوام کے ساتھ بھی کھڑے ہوں۔  ان کی حالت زار پر بھی توجہ دیں ان کی بھی سنیں جنہوں نے اپنی قسمت سنوارنے کیلئے آپ کو اقتدار سونپا ہے۔
ادھر میڈیا ریگولیٹری ادارے نے ایک ہدایت نامہ جاری کرکے میڈیا کو تنقید کا موقع فراہم کردیا ہے۔ نہ جانے یہ ہدایت نامہ جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی جبکہ میڈیا مالکان جو کہ سٹیک ہولڈرز ہیں اور جن کے دیگر مفادات بھی ہیں کے ساتھ بیٹھ کر بھی یہ ہدایات احسن طریقے سے دی جاسکتی تھیں ان کو اعتماد میں لیکر ساتھ چلنے (باقی صفحہ6بقیہ نمبر5)
کی درخواست کی جاسکتی تھی۔ جو فیصلے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر کئے جائیں ان پر بالعموم نہ تنقید ہوتی ہے اور نہ ہی اعتراض لیکن بار بار پریس کانفرنسیں کرنا کسی طور بھی سود مند نہیں ہوتا۔ 
اسی طرح مینو فیکچرنگ سیکٹر‘ تاجروں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ متعلقہ اداروں کی موجودگی میں بیٹھ کر مذاکرات کریں۔ انہیں اعتماد میں لیں تو بہتری کی راہ نکلے گی۔ بہت سارے مسائل عدم اعتماد اور عدم رسائی  کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
اشفاق گوندل