07:18 am
سلسلہ نبوت،چنداہم مباحث

سلسلہ نبوت،چنداہم مباحث

07:18 am

سور الحدید کے آخری رکوع میں سلسلہ نبوت کے چنداہم مباحث آئے ہیں جن پرگفتگوکرنے کی کوشش کی جائے گی۔فرمایا: اور ہم نے بھیجا نوح  ؑ کو اورابراہیم ؑ  کواور ہم نے رکھ دی انہی دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب۔ 
یہ معاملہ تاریخ نبوت و رسالت کے اعتبار سے محققین کے لیے نہایت اہم رہنمائی کا حامل ہے۔ جہاں تک حضرت نوح  ؑکا معاملہ ہے وہ تو بالکل واضح ہے۔اس لیے کہ آپ آدمِ ثانی ہیں پوری موجودہ نسل انسانی حضرت نوح      ؑ  کی اولاد سے ہے۔ قرآن مجید سے بھی اس کی گواہی ملتی ہے۔ ازروئے الفاظِ قرآنی:ہم نے صرف اسی کی نسل کو باقی رکھا(اصفات)۔ آج پوری نسلِ انسانی حضرت نوح ؑ  کے تین بیٹوں حضرت سام حضرت حام اور حضرت یافث کی اولاد سے ہے۔ یعنی آج دنیا میں جتنی بھی اقوامِ عالم ہیں سب کی سب انہی تینوں کی نسلوں سے ہیں  لہذا اس میں تو کوئی اشکال اور اشتباہ نہیں کہ حضرت نوح ؑسے حضرت ابراہیم ؑ تک نبوت حضرت نوح ؑکی اولاد ہی میں رہی البتہ حضرت ابراہیم ؑ  کامعاملہ بہت اہم ہے۔ ظاہر بات ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے بعد جب ان کی نسل آگے چلی تو دنیا میں اور اقوام بھی موجود تھیں۔ حضرت سام کی اولاد کی بھی اور بہت سی شاخیں ہیں۔ ان کے علاوہ حضرت حام اور حضرت یافث کی اولاد سے کئی نسلیں اور ان کی شاخیں ہیںلیکن قرآن معین طور پر کہتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ  کے بعد نبوت اور کتاب کا معاملہ صرف نسل ابراہیمی کے ساتھ مختص کر دیا گیا۔ قرآن مجید میں خصوصی اہمیت کے حامل مضامین کم سے کم دو جگہ ضرور آتے ہیں۔ لہذا اس مضمون کا مثنی سور العنکبوت کی آیت27 ہے جہاں تعین کے ساتھ واحد کے صیغے میں حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں یہ بات کہی گئی :  ہم نے  ابراہیم ؑکو اسحاق (جیسا بیٹا اور یعقوب جیسا پوتا)عنایت فرمایا اور ہم نے اس کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔
حضرت ابراہیم ؑکےبعد کے زمانے میں آپ ہی کی نسل میں نبوت و رسالت رہی۔نسل ابراہیمی کی ایک شاخ بنی اسحاق (بنی اسرائیل) ہے۔ اس شاخ میں نبوت و رسالت کا سلسلہ بہت زیادہ نظر آتا ہے بلکہ حضرت موسیؑ کے بعد چودہ سو سال ایسے ہیں کہ جن میں نبوت و رسالت مسلسل بنی اسحاق میں رہی۔ کوئی ایک لمحہ ایسا نہ تھا جب ان میں کوئی نبی اور رسول موجود نہ ہو۔ اس شاخ میں سب سے آخر میں حضرت عیسیؑ    آئے۔ دوسری شاخ بنی اسمعیل ہے۔ اِس میں نبی آخر الزمانﷺ کی بعثت ہوئی ۔ آپﷺ سلسلہ  نبوت و رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپﷺ سب سے بعد میں تشریف لائےلیکن سب سے بلند مقام پایا۔نسل ابراہیمی کی تیسری شاخ بنی قتورہ ہے۔ اس شاخ میں حضرت شعیبؑ کی ولادت ہوئی ہے۔ یہ لوگ مدین کے علاقے میں آباد تھے۔ ان کا زیادہ تفصیلی تذکرہ ہمیں قرآن و حدیث میں نہیں ملتا۔ لیکن تاریخی طور پر وہ بھی معروف ہیں۔حضرت ابراہیمؑ کی اولاد بہت پھیلی ہے اور بہت دور دور تک گئی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اس کا زیادہ حصہ عرب کے علاقے کے اندر آباد رہا ہے، لیکن1400 ق م میں بنی اسرائیل کا جو خروج ہوا اس کے نتیجے میں ان کے کچھ قبائل لاپتہ ہو گئے تھے جنہیں The lost tribes of the house of Israelکہا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں بھی گمان موجود ہے کہ ان کے کچھ قبائل یہاں آ کر آباد ہو گئے ہوں۔
حضرت ابراہیمؑ کے بعد نبوت اور کتاب ذرِیت ِابراہیم  کے ساتھ مخصوص ہے۔ اگرچہ دنیا میں اور علاقے بھی ہیں لیکن تاریخ یہودیت اور تاریخ عیسائیت کے حوالے سے ہمارے پاس ثبوت اسی علاقے کا ہے جسے ہم مشرقِ وسطی (Middle East)کہتے ہیں۔ درحقیقت اسلام اور ان دونوں مذاہب (یہودیت اور عیسائیت کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔ قرآن مجید نے حضرت ابراہیمؑ سے قبل کے بھی جن رسولوں کا تذکرہ کیا ہے وہ بھی اسی علاقے سے متعلق تھے  یعنی حضرت ہود اور حضرت صالح  ۔امکان ہے کہ دوسرے علاقوں میں بھی نبی اور رسول آئے ہوں۔مولانا مناظر احسن گیلانی  کے نزدیک گوتم بدھ نبی تھے۔ قرآن مجید میں دو مرتبہ ذوالکفل کا تذکرہ آیا ہے۔ ان کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ملتی کہ وہ کہاں پیدا ہوئے اور ان کی تاریخ کیا ہے۔ مولاناکا گمان یہ ہے کہ ذوالکفل دراصل کپل وسطو کا شہزادہ ہے۔ یہ ریاست نیپال کے علاقہ میں تھی اور ذوالکفل وہاں کے شہزادے تھے۔ اگر ایسا ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ یقینا حضرت ابراہیم ؑ کی نسل میںسے ہیں۔البتہ اس سے ایک اشکال سامنے آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک طرف توقرآن کہتا ہےاور ہر بستی میں ایک خبردار کرنے والا(نبی یا رسول)گزرا ہے  اور ہر قوم کے لیے ایک راہنما (گزرا) ہےجبکہ دوسری طرف یہ حقیقت سامنے آ رہی ہے کہ کم ازکم گزشتہ ساڑھے چار ہزار برس کے دوران تو صرف ذریت ِابراہیمی  ہی میں کتاب اور نبوت رہی۔ 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں