07:19 am
‎اللہ ہی جانےاب کیا ہونےوالاہے

‎اللہ ہی جانےاب کیا ہونےوالاہے

07:19 am

ریاست مدینہ کے نگہبانو کس فکر میں غلطاں ہو ریاست مدینہ بنانے سے پہلے حقیقی ریاست مدینہ کے اصل حکمران کی پیروی کرناتو سیکھ لو،نبی کریم صلی علیہ وسلم کی سیرت کامطالعہ کرلو بہت کچھ مل جائے گا، دنیا وآخرت دونوں کی بھلائی حاصل ہو جائےگی حکمرانی کا سلیقہ ہاتھ آجائے گا  
حکومت پےدر پے غلطیاں کےجارہی ہے آخرگھبراہٹ کس بات کی ہے۔ مولانافضل الر حمٰن سے تو اب باقاعدہ معاہدہ بھی ہوچکا ہے تمام شرائط طے پاچکی ہیں پھر کس لئے جمعیت علمائےاسلام (ف) کے سرگرم کارکن حافظ حمداللہ کی پاکستانی  شہریت کیوں  منسوخ کی گئی اس کاکیاجواز ہے؟حافظ حمداللہ1979 میں یا اس کےبعد افغانستان سےہجرت کرکےتو نہیں آئے ہیں ان کی پیدائش موجودہ پاکستان کی ہی ہے اَن کے والد قاری ولی محمد کی پیدائش بھی اسی سر زمین کی ہے وہ مقامی مدرسے میں معلم تھے جواپنی ذمہ داری سے1970 میں سبکدوش ہوئے تھے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ مولانا حمداللہ 2002 میں بلوچستان قانون ساز اسمبلی میں انتخاب کےذریعے منتخب ہوئے اور بلوچستان کابینہ میں وزیر صحت کے عہدے پر فائز رہے۔کیا الیکشن کمیشن کو یا حکومت وقت کواُس وقت احساس نہیں ہوا کہ ایک غیر ملکی شخص پاکستان کے ایک صوبے کی اسمبلی کارکن کیسے منتخب ہوگیاہے اور 2002سے 2005 تک وہ صوبائی وزیر صحت کےکیسے کام کرتا رہااس پرہی بس نہیں ہواپھر 2012 میں رکن سینیٹ منتخب کرلیا گیا جو اپنی مدت پوری کرکے فارغ ہواپھر بھی کسی کےکان پرجوں نہیں رینگی کہ ایک غیر ملکی ناصرف ایک صوبے کاوزیر صحت بلکہ ایوان بالا یعنی سینیٹ کارکن بھی منتخب کرلیا جاتا ہے پھراچانک بھیانک خواب سے کیسے آنکھ کھل گی اور اچانک انکشاف ہوا کے غیر ملکی بندہ ہمارے ملک میں ہی نہیں ہماری حکومت اور قانون ساز اداروں میں بھی گھس آیاہے،اتنے بڑے جرم کی سزا صرف شہریت منسوخ کرکے دی گئی۔ کیاپاکستان کا نظام حکومت اتنا کمزور اور نااہل ہے کہ  کوئی بھی باآسانی چکمہ دے کر وزیر بن سکتا ہے اس کےعلاوہ ایک اوراہم بات حافظ حمداللہ کے صاحب زادے شبیر احمد پاک فوج میں سیکنڈ لیفٹینٹ کی پوسٹ پر کام کررہے ہیں وہ بھی کیا غیر ملکی ہوگئے کیونکہ جب والد غیر ملکی ہوسکتے ہیں تو بیٹا کیسے ملکی ہوگااس  ساری کارروائی کےپیچھے کچھ اور حکمت عملی کارفرماہےجمیعت علمائے اسلام کا حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑاہونا جس نے حکمرانوں کے اوپر سے نیچے تک سب کےہاتھ پاؤں پھلا دیئے ہیں سب کی نیند اُڑادی ہےکیونکہ مولانا فضل الرحمن اُٹھے تو اکیلے تھےلیکن دیکھتے ہی دیکھتے قافلہ بنتا چلاگیا اور حکمرانوں کےتمام مخالفین ایک ایک کر کے شامل ہوتے جارہے ہیں۔ اس اجتماع اختلاف نے حکومت اور اس کےسرپرستوں کو گھبراہٹ کاشکار کردیا ہے ناوزیراعظم عمران خان کو ناہی اُن کی کابینہ کواس کی توقع تھی کہ تمام سیاسی جماعتیں اس طرح ایک نکتہ پر جمع ہوسکتی ہیں۔ احتجاجی جماعتوں کا ایک ہی ایجنڈا ہے حکمران ہٹاؤ ملک بچاؤ اس پرسب متفق ہوکریک سو ہوگئے ہیں شاید اس سے ہی حکومت خوفزدہ ہورہی ہے۔جانےآنےوالا لمحہ کیاکچھ لےکر آئے اس وجہ سے حکمران گھبراہٹ کاشکار ہوکر غلط فیصلے کررہے ہیں جس سے حزب اختلاف کوتقویت مل رہی ہے۔ کراچی سے ایک بڑا ہجوم مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں سوئے اسلام آباد روانہ  ہوچکا ہے اب دیکھنا ہے کہ یہ ہجوم کب اور کس طرح اسلام آباد پہنچتا ہے ویسے امید یہ کی جارہی ہے کہ عدالت عالیہ کے حکم اور انتظامیہ سے تحریری معاہدے کےبعد اب انتظامی  معاملات درست ہی رہیں گے۔ اب بہتر یہی ہے کہ حکومت خاموش تماشائی بن کر دیکھے اگرائین اور قانون کی خلاف وزری ہوتب ہی کچھ ہلچل کی جائے فی الحال حافظ حمداللہ جیسی کوئی مذید حماقت ناکی جائے۔ ان کی شہریت منسوخ کرکے  کوئی اچھا کارنامہ سر انجام نہیں دیا مفت کی بد نامی مول لی گئی ہے۔ بہتر ہوگیا کہ اس فیصلہ کوواپس لےلیا گیا۔ آنے والا ہر لمحہ مشکل سے مشکل تر ہوسکتا ہے اگر نوکرشاہی تحمل برداشت اور دانش مندی سےکام لے توآنےوالے طوفان کوفی الحال روکا تو نہیں جاسکتا ہا ں اس کازور کم ضرور کیا جاسکتا ہے جیسے فوری طور پر ریڈ زون کی متبادل جگہ کی  اجازت دے کر ہوا کارخ بدلنے کے مثبت کوشش کی گئی ہے ایسا ہی رویہ اگر آگے بھی اپنایاجائے تو بات بگڑنے نہیں پائے گی، مدینہ کی ریاست کا خواب دیکھنے دکھانے والوں کوخود بھی مدینہ کےحکمران کی مانند تحمل برداشت کاعملی مظاہرہ کرناہوگا،مدینہ کی خیالی حکومت کےحکمران کواللہ کی قوت اور قدرت پر اگر یقین ہو توسمجھ لیناچاہے کہ اگر حکومت اور  حکمرانی اُن کےمقدر میں ہے تو کوئی طاقت انھیں ہلا نہیں سکتی اور اگروقت پورا ہوچکاہے توکوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ کل کیا ہوناہے کسی کوکچھ پتہ نہیں ہوتا بس اللہ سے مدد چاہیے اللہ جو کرے گاوہی بہتر ہوگا۔ عزت و ذلت اس کےہی اختیار میں ہے اصل مدینے کے حکمران بندوں سے نہیں اپنےرب سے ڈرتے تھے ۔ کاروبار حکومت میں ناکبھی کسی سی ڈرے نہ خوف زدہ ہوئے نا ڈر کرکوئی غلط فیصلے کیے وزیراعظم کوچاہیے کہ اپنےاردگرد سے گند صاف کریں اور فوری طور پر انتقامی سیاست سےکنارہ کش ہوکر تمام بگڑے معاملات کودرست کریں پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلاکر افہام وتفہیم سے سب کوساتھ لےکر چلنے کےعزم کااظہار کریں توامید ہے کہ سب کچھ بہتر ہوسکےگا۔ تمام متنازع معاملات کو باہمی مشاورت سے سنبھالیں، سیاسی مقدمات کوختم کریں، دوستانہ  رویوں کوفروغ دیں، سب آسانی سے درست ہوجائےگا۔ حز ب اختلاف کےجائز مطالبات کا  مناسب بندوبست کیاجائے اور دوستانہ ماحول پیدا کیا جائے۔ محبت باٹوگے تو محبت ہی ملےگی اقتدار تو آنی جانی چیز ہے اخلاص ومحبت کا کوئی بدل نہیں۔ ریاست مدینہ کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ پہلے حکمران خود ریاست مدینہ کے حکمران جیسا بننے کی کوشش تو کرے پھر ریاست مدینہ خود بخود بن جائے گی۔ 

تازہ ترین خبریں