07:20 am
اب من موہن سنگھ کیا کہہ رہے ہیں ؟

اب من موہن سنگھ کیا کہہ رہے ہیں ؟

07:20 am

بھارت کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ جنہوں نے اپنے دور اقتدارمیں کشمیر کے مسئلے کو استصواب رائے کی بنیاد پر حل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے تھے سابق صدر مشر نے بھی اس سلسلے میں تئیں کوششیں کی تھیں آگرہ جا کر واجپائی سے ملاقات بھی ہوئی تھی لیکن بعض وجوہ کی بناء پر بات آگے نہیں بڑھ سکی اس پس منظر میں جنوبی ایشیا کے سیاست دان اور معاشرت سے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ مشر ف کا کشمیر کے حل سے متعلق چار نکاتی فارمولہ کشمیر کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا تھا لیکن بس آرزو کہ خاک شدی۔
تاہم اب جناب من موہن سنگھ نے لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کی مرضی و منشاء کے بغیر حالات میں بہتری اور سدھار پیدا نہیں ہو سکتا ہے ۔ نریندر مودی اگر مقبوضہ کشمیر میں موجودہ حالات میں بہتری چاہتے ہیں تو انہیں کشمیر کے عوام کی رائے معلوم کرنی ہوگی جو کہ اقوام متحدہ میں قراردوں کی صورت میں موجود ہے من موہن سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ہماری پارٹی انڈین نیشنل کانگریس میں آرٹیکل 370کی منسوخی کے لئے بے جے پی کا ساتھ دیا تھا لیکن ہمارا موقف یہ تھا کہ اس ضمن میں پہلے کشمیر ی عوام کی رائے معلوم کرنی چاہئے تھی کہ وہ اس مسئلے میں کیا سوچ رہے ہیں اگر ایسا ہو جاتا تو جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے وہ نہ ہوتی نریندر مودی اگر چاہیں تو اب بھی حالات کو بہتر بنا سکتے ہیں لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ’’ہندوتا‘‘کی بنیاد پر جو بھارت میں حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے وہ اقلیتوں کے سلسلے میں آئندہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے تاہم اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ بھار ت کے اندر موجود دانشور اور بعض سینئر صحافیوں کی جانب سے ہندوتا نظرئیے کے خلاف مسلسل آوازیں اٹھ رہی ہیں سیکولر اور کمیونسٹ عناصر بھی مذہب کی بنیاد پر سیاست کے قائل نہیں ہے اور وہ بھی نریندر مودی کی پالیسیوں کی سخت مخالفت کر رہے ہیں ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے فی الفور کرفیو اٹھایا جائے تاکہ وہاں کے عوام اپنے روزمرہ کے معمولات کی بنیاد پر زندگی بسر کر سکیں اگر کرفیو مزید جاری رہا تو نریندر مودی کے لئے سخت شرمندگی کا باعث بنے گا۔ عالمی میڈیا کی جانب سے بھی بی جے پی کی حکومت پر سخت دبائو پڑ رہا ہے اور نریندر مودی سے مطالبہ کیا جارہاہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹا کر انسانی حقوق کا احترام کریں، نریندر مودی عالمی سطح پر بھارت کی ہونے والی رسوائی سے گبھرایا ہوا ہے لیکن چونکہ اس کو انتہا پسند تنظیموں مثلاً آر ایس ایس، شیو سینا وغیرہ کی حمایت خاص ہے اس لئے وہ ان کے خوف سے مقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلی نہیں لا رہا۔ دوسری طرف معاشی طو ر پر بھارت کی اکانومی مسلسل بیٹھ رہی ہے ۔ دی اکانومسٹ نے اپنے حالیہ شمارے میں لکھا ہے کہ بھارت کی معیشت کی شرح نمود 5%سے زیادہ نہیں ہے اور Shining Indiaکا تصور آہستہ آہستہ بحر ہند میں ڈوب رہا ہے بھارت کے مرکزی بینک نے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے تقریباً چار مرتبہ مارک اپ میں تبدیلی کی ہے تاکہ مقامی سرمایہ دار سرمایہ کار ی کر سکیں لیکن مرکزی بینک کی اس حکمت عملی کا بھی کوئی اثر نہیں ہو ا ہے اور سرمایہ داروں نے پیسہ چھپا رکھا ہے ، بڑی تعداد میں بینکوں سے پیسہ نکالا جا رہا ہے اس صورت حال نے نریندر مودی کو اور پریشان کر دیا ہے لیکن کیونکہ اس پر ہندوتا کا بھوت سوار ہے ، مسلمان دشمنی اس کی سوچ کا حصہ ہے اور اس کا دیرینہ یار یعنی بھارتی فوج کا سربراہ راوت دونوں باہم مل کر کسی نہ کسی بہانے پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ عالمی کمیونٹی کی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی سے توجہ ہٹ جائے لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق اس کی حالیہ پالیسی ناکام ثابت ہو رہی ہے اور وہ دن زیادہ دور نہیں ہے کہ جب بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے عوام کے اصول موقف کے پس منظر میں استصواب رائے کرانے کا دیرینہ مطالبہ پورا کرنا ہوگا جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی جانب سے نریندر مودی پر جو اخلاقی دبائو پڑ رہا ہے اس سے وہ ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے گا یقیناً مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کی صورت میں ایک عام کشمیری پر قیامت گزر رہی ہے ۔ دس لاکھ بھارتی فو ج نے نوجوانوں کو کسی نہ کسی بہانے گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے اس وقت تقریباًپندرہ ہزار مقبوضہ کشمیر کے نوجوان بھارت کی مختلف جیلوں میں بند ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ نریندر مودی تقریباً وہی کچھ کر رہا ہے جو اسرائیل نے فلسطینی عوام کے ساتھ غزہ اور ویسٹ بینک پر رہنے والوں کے ساتھ کیا تھا اور ان کے آبائی زمینوں پر قبضہ کر کے نئی بستیاں آباد کر رہا ہے ۔ غزہ کی پٹی سے جانے والی سرنگ جو مصر کے ایک گائوں سے ملاتی تھی وہ بھی بند کر دی گئی ہے اس طرح غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینی محصور ہو کر رہ گئے ہیں لیکن فلسطینیوں نے ابھی تک اسرائیل کے مظالم کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے وہ اپنے حقوق کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کر تے رہیں گے یہی صورتحال مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی حکومت کر رہی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے مسلمان اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہونگے جس دن کرفیو اٹھے گا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔
چنانچہ اس پس منظر میں عمران خان کا 27اکتوبر یعنی یوم سیاہ کے موقع پر حوالہ دینا مناسب ہے۔ عمران خان نے کشمیریوں کو ایک بار پھر یقین دلایا ہے کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے ، ان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی مدد کرتا رہے گا پاکستان کے موقف میں نہ تو پہلے نہ اب مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ آئے گی اس وقت پاکستان نے کشمیر سے متعلق جو پالیسی اپنائی ہے اس کی چین، ملائیشیا، ترکی، ، ایران ، روس حمایت کر رہے ہیں ۔ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پالیسیوں کے سخت خلاف ہیں، ان کے حق خود ارادیت کے سلسلے میں آواز بلند کرتا رہونگا ( جبکہ خود اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے ) چاہے مجھے اس سلسلے میں اقتصادی محاذ پر ناگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑے ۔ دوسری طرف افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے ضمن میں افغانستان کا رویہ ایک مسلمان ملک ہوتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہے یوم سیاہ کے موقع پر یعنی 27اکتوبر کو کابل میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے کشمیر سے متعلق یوم سیاہ کی ایک تقریب کو بعض غیر سیاسی عناصر نے ناکام بنانے کی کوشش کی، پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی گئی، کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کے نعرے بلند کئے گئے ان عناصر کو ، کہا جاتا ہے افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے علاوہ راء کی حمایت حاصل تھی تاہم تقریب تو منعقد ہو گئی لیکن یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت نہ صرف بھارت نواز ہے بلکہ پاکستان کی دشمن بھی ہے ۔ پاکستان افغانستان کے سلسلے میں امن کے قیام کے لئے جو کوششیں کر رہا ہے اس کا بھی افغان حکومت اعتراف نہیں کر رہی ہے یہ سراسر احسان فراموشی ہے بعض دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت پاکستان کو مشرقی اور مغربی سرحدوں پر engageرکھنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کی اقتصادی ترقی متاثر ہو سکے اور پاکستان کشمیر کے عوام کی حمایت سے دستبردار ہو جائے ، بھارت کی یہ خام خیالی ہے پاکستان کی فوج ، عوام اور انسان دوست ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور بھارت کی جانب سے کسی بھی مہم جوئی کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم وقت تیار ہیں۔ 

تازہ ترین خبریں