07:22 am
دستور کی عملی بالادستی

دستور کی عملی بالادستی

07:22 am

مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں کراچی سے جمعیت علما اسلام کے آزادی مارچ کا آغاز ہوگیا ہے اور اس میں عوام کی بھرپور شرکت کے ساتھ ساتھ بیشتر سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس کی مسلسل حمایت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ آزادی مارچ کے  مقاصد میں ایک بنیادی بات جس کی ہم بھی پورے شعور و ادراک کے ساتھ حمایت کر رہے ہیں کہ دستور کی بالادستی عملاً قائم ہونی چاہیے اور ریاستی اداروں کو اپنے اپنے دائرہ میں کام کرتے ہوئے دستور سے ہٹ کر کسی معاملہ میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ ماضی میں اس سلسلہ میں جو کچھ ہوتا آرہا ہے اس موقع پر اسے ایک بار پھر ذہنوں میں تازہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور صدارت میں کچھ سیاسی اصلاحات کی بات کی تو ہم نے اس پر 17 جولائی 2002 کو شائع ہونے والے اپنے کالم میں چند گزارشات پیش کی تھیں، ان پر اگر دوبارہ نظر ڈال لی جائے تو موجودہ صورتحال اور مستقبل کے بعض خدشات کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ 
صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے جن اصلاحات کا اعلان کیا ہے وہ نئی نہیں ہیں بلکہ یہ اس دستوری آنکھ مچولی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں جو قیام پاکستان سے لے کر اب تک مسلسل جاری ہے اور جس میں ہمارے حکمران طبقات باری باری طاقت کو اپنے ہاتھ میں لینے اور پھر اسے کنٹرول میں رکھنے کا تجربہ کرتے آرہے ہیں۔ گورنر جنرل غلام محمد سے اس کھیل کا آغاز ہوا اور سکندر مرزا، جنرل محمد ایوب خان، جنرل محمد یحیی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیا الحق، بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے ادوار سے گزرتا ہوا اب یہ کھیل جنرل پرویز مشرف کی کپتانی میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہا ہے۔ سیاستدان، بیوروکریٹس اور جنرل صاحبان اس کھیل کی اصل ٹیمیں ہیں اور جس ٹیم نے بھی وکٹ سنبھالی ہے، کھیل کے ضوابط اور اخلاقیات کی کوئی پروا کیے بغیر وکٹ پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے جو کچھ اس کے بس میں ہوا وہ کر گزری ہے۔ درمیان میں 1956 اور 1973 کے دساتیر کی منظوری کے دو مراحل ایسے آئے ہیں جن میں قوم کو یہ توقع ہو چلی تھی کہ شاید اب قومی سیاست کی گاڑی طاقت کی کشمکش سے نجات پا کر اصول اور ضوابط و قواعد کی پٹری پر چل پڑے گی مگر اصول، قانون، ضابطہ اور اخلاقیات کا دورانیہ بہت مختصر رہا اور قوت و طاقت کے حصول اور اس کے اندھادھند استعمال کی روش پھر قوم کو سیاسی دھینگامشتی کے دور میں واپس لے گئی۔
اختیارات کے ایک ہاتھ میں ارتکاز کا تصور بہت پرانا ہے.غلام محمد نے اسی فلسفہ کے تحت دستور ساز اسمبلی کا کریاکرم کیا تھا اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسے سند جواز بھی فراہم کر دی تھی۔جنرل محمد ایوب خان نے بھی یہی فارمولا اپنایا اور عدالت عظمیٰ اس کی پشت پر رہی۔اس کے بعد جنرل محمد یحییٰ خان کے دور میں فرد واحد کے فیصلوں نے ملک کو دولخت کر دی.  
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد باقی ماندہ پاکستان میں 1973 کا دستور منظور ہوا تو محب وطن حلقوں نے اطمینان کا سانس لیا کہ اب ملک میں فرد واحد کے فیصلوں کی بجائے پارلیمنٹ اور اداروں کی حکمرانی کا دور شروع ہوگا اور طاقت کی بالادستی کے فلسفہ سے نجات ملے گی مگر بدقسمتی سے 1973 کے دستور کو منظور کرنے والے سیاستدان ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہی یکطرفہ دستوری ترامیم کے ذریعے اختیارات کو ایک ہاتھ میں مرتکز کرنے اور اختلاف کرنے والے نمائندوں کو اٹھا کر پارلیمنٹ ہاس سے باہر پھینک دینے کی کارروائی سامنے آئی تو اصول و قانون کی بالادستی اور اداروں کی حکمرانی کا خواب ایک بار پھر پریشان ہوگیا اور پاکستان دوبارہ غلام محمد کے دور میں واپس چلا گیا۔
جنرل ضیا الحق آئے اور انہوں نے دستور کی بساط لپیٹ کر تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے تو ان کے دلائل بھی وہی تھے جو آج نئی سیاسی اصلاحات کے حق میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ دلائل اس سے قبل غلام محمد اور جنرل محمد ایوب خان کے کام آچکے تھے چنانچہ انہی دلائل کی بنیاد پر عدالت عظمیٰ نے جنرل محمد ضیا الحق کی شخصی حکومت کو بھی تحفظ فراہم کر دیا۔
اس کے بعد بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف نے دو دو باریاں لیں مگر طرز وہی رہا کہ حکومت کی کرسی پر ہیں تو تمام اختیارات اور طاقت کو مٹھی میں رکھتے ہوئے مخالفین کو آزادانہ سیاسی زندگی اور کردار کے مواقع سے محروم کرنا اور اقتدار سے باہر ہیں تو برسراقتدار گروہ کو ہر قیمت پر اقتدار سے ہٹانا اور کسی طرح بھی آرام سے حکومت نہ کرنے دینا ان دونوں سیاسی قوتوں کی اولین ترجیح رہی اور بالآخر اسی کشمکش نے جنرل پرویز مشرف کی تشریف آوری کی راہ ہموار کی جس کے نتیجے میں پوری قوم اور خاص طور پر سیاسی قوتوں کو ان اصلاحات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن میں ایک طرف جنرل پرویز مشرف ہیں اور دوسری طرف اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل کے دو پلیٹ فارموں کی صورت میں ملک کی کم و بیش تمام اہم دینی و سیاسی جماعتیں ہیں جو ان اصلاحات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن عدالت عظمیٰ کی فراہم کردہ چھتری نے ان اصلاحات کے نفاذ کو یقینی بنا دیا ہے۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں