10:11 am
یقین وعزم کاسورج

یقین وعزم کاسورج

10:11 am

جس کے پاس یقین کی دولت ہواس سے بڑاکوئی خوش نصیب نہیں ہوتا۔صرف یقین نہیں،یقین محکم...!اس طرح کایقین کہ چاہے کچھ ہوجائے،دنیا ادھرسے ادھرہوجائے، سورج نکلے گااورنکلے گابھی مشرق سے۔یہ ظلمت شب ختم ہوگی،اندھیراختم ہوگا،ان ظالموں کی پسپائی ہوگی اورسچ کی کرنیں ان کونگل لیں گی......دراصل یہی ہے اسرارکائنات جس پرفکرکرنے کی دعوت دی گئی ہے،تدبرکرنے کاحکم دیاگیاہے۔یقین کامل ہوتوکشتی کتنی ہی شکستہ کیوں نہ ہوبالآخرکنارے پرلگ ہی جاتی ہے چاہے چاروں طرف سونامی جیسے طوفانوں نے گھیررکھاہولیکن وہ جواپنے تکبراورغرورکے ٹائی ٹینک پربڑے نازاں ہوتے ہیں ان کی تباہی اوربربادی کاعبرتناک منظربھی تاریخ کے اوراق میں موجودرہتاہے تاکہ کوئی ان سے سبق سیکھ سکے۔
 
ہم اپنی زندگی میں بھی اس کے مظاہردیکھتے ہیں۔آپ کہتے ہیں ناں کہ فلاں جان تودیدے گالیکن میرااعتمادنہیں توڑے گا، مجھے اس پرپورایقین ہے لیکن اکثریہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوتے لیکن ایسابھی ناممکن نہیں۔یہ انسانوں کی بستی ہے،ہر طرح کے لوگ ہیں یہاں۔بدلتے موسم کی طرح بدلتے لوگ،گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے لوگ!منہ پرمکر جانے والے لوگ !لاکھ کہیں آپ نے یہ کہاتھا،کہیں گے نہیں،بالکل نہیں!نہیں نہیں آپ سمجھے نہیں،میں نے یہ نہیں کہا،تحریری معاہدوں کی کوئی حیثیت نہیں،ایک کاغذ کاٹکڑاہی توہے اورپھریہ کون ساقرآن وحدیث ہے؟آپ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ حلف اٹھاناتوکوئی بات ہی نہیں،کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے یہاں!
لیکن یہ کشمیری کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ مسلسل72سالوں سے اپنے جان ومال کی قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں،خود اوراپنی آل اولادکوپاکستانی جھنڈوں میں دفن ہونااپنے لئے اعزازسمجھتے ہیں،3ماہ کاکرفیوبھی ان کاکچھ نہیں بگاڑسکا،ان کوجھٹلانے والے پریشان وپشیماں ہیں۔دنیابھرکے حق پرست ان کی ہمت کوسلام پیش کررہے ہیں ۔آپ میں اخلاص ہوتوقسمیں کھانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔وہ جان گئے ہیں کہ اپنی نیت خالص رکھو،کسی توقع کی امیدمت رکھو،ہرشے سے بے نیازاخلاص نیت! اگر آپ اخلاص نیت سے کام کرتے ہیں اوروہ بگڑبھی جائے تواندرسے آوازآتی ہے کہ میں نے توبہت اخلاص سے یہ کام کیاتھا اس کے نہ ہونے میں بھی کوئی اللہ کی مرضی ہوگی،کوئی پچھتاوانہیں ہوتااور اگرآپ نے بری نیت سے کوئی اچھاکام کیاہے اوروہ بارآوربھی ہوگیا،پھل پھول دینے لگ گیا،واہ واہ بھی ہونے لگی لیکن اندرسے آوازپیچھانہیں چھوڑتی،کام توٹھیک ہوگیالیکن نیت توٹھیک نہیں تھی ناں،باہرکی واہ واہ سے کیالینا،اندرسے سرشارہوناچاہئے۔
ایک چھوٹاساگائوں تھا،لوگوں نے گائے بھینسیں پالی ہوئی تھیں اوران کادودھ شہرمیں آکربیچاکرتے تھے۔شہراورگائوں کے درمیاں ایک بڑی پرزورندی تھی۔سب گوالوں کے پاس اپنی اپنی مضبوط کشتیاں تھیں اوروہ صبح سویرے ہی شہرکارخ کرکے دودھ فروخت کرکے گھرلوٹ آتے تھے مگران میں ایک ایسابھی تھاجس کے پاس غربت کی بناپرکوئی سواری نہیں تھی اور وہ دوسروں کے رحم وکرم پرتھا۔اگرکسی کواس غریب پرترس آجاتاتواپنے ساتھ کشتی پرسوار ہونے کی اجازت دے دیتاوگرنہ اکثر دھتکار دیا جاتا۔اپنی اس غربت کے ہاتھوں بہت پریشان تھا۔
ایک دن اسے کسی نے شہرمیں ایک باباجی کاپتہ دیا،اپنی قسمت آزمائی کیلئے وہاں پہنچا،روتے ہوئے اپنی بپتاسنائی،باباجی نے مذاق میں کہہ دیا’’تجھے اللہ پریقین ہے ناں؟‘‘تووہ غریب فوری بولا’’جی! پکا یقین ہیـ توباباجی بولے کہ آئندہ ندی کے اس کنارے آنکھیں بندکرکے اللہ کویادکرنا،ندی تمہیں خودہی دوسرے کنارے پہنچادے گی اوراسی طرح واپسی کاسفربھی طے کر لینا۔دوسرے دن وہ ندی پرپہنچا اورباباجی کے بتائے ہوئے طریقہ پرعمل کیا، آنکھیں بندکی اورجب کھولیں توندی کے دوسرے کنارے پرتھا۔بہت خوش ہواوہ۔ اب تواس کا معمول تھاکہ ندی پرآتا،آنکھیں بندکرتااورپار چلا جاتا۔رب نے برکت دی اوراس کاکام چل نکلا۔
ایک دن اسے خیال آیاکہ میں بھی کس قدرخودغرض ہوں،جس نے مجھے یہ راہ دکھائی میں اسے توبھول ہی گیا۔یہ خیال آتے ہی سارے کام کاج چھوڑکرانہی باباجی کے پاس پہنچا جواپنے چیلوں کے درمیاں گپ شپ میں مصروف تھے۔سلام کیااورایک طرف ہوکربیٹھ گیا۔باباجی پہلے تونظریں چراتے رہے لیکن پوچھ لیاکہ کیسے آئے ہو۔اس نے شکریہ ادا کرتے ہوئے باباجی کو تمام چیلوں سمیت گھرمیں کھانے کی دعوت دی جوباباجی نے فوری قبول کرلی۔باباجی اپنے مریدوں کے ساتھ اس غریب کے گھرجانے کیلئے جب ندی کے کنارے پہنچے تووہ وہاں ان سب کے استقبال کیلئے موجودتھا۔بہت خوش ہواوہ،باباجی سے کہا: چلئے آئیے،توباباجی بولے کہ میاں کشتی کہاں ہے؟تب وہ بہت حیران ہوااورکہنے لگاکہ باباجی آنکھیں بندکیجئے اوراللہ کانام یادکریں توندی آپ کوخودہی دوسرے کنارے پرپہنچادے گی۔اس نے آنکھیں بندکیں اوردوسرے کنارے جب پہنچاتو دیکھاکہ بابا جی ابھی دوسرے کنارے پرہی کھڑے ہیں۔اس نے بلندآوازسے باباجی کوجب پکاراتوباباجی نے بڑی غصے سے کہاکہ تم نے ہمیں ندی میں غرق ہونے کوبلایاہے؟تجھے تمہارایقین مبارک!
میں اپنے اردگردعجیب سے حالات دیکھ رہاہوں۔عجیب عجیب سے لیکچرسن رہاہوں لیکن ان سے ہوکچھ بھی نہیں رہا....بس شوربڑھ رہاہے اورسماعت متاثرہورہی ہے اورکچھ بھی نہیں ......اس لئے کہ سچائی کیلئے زبان صادق کاہونابہت ضروری ہے ۔مجبور و مقہورکشمیری اس امید پردہائی دے رہے ہیں کہ شائدان پتھروں میں کوئی سوراخ ہوسکے۔ہرکوئی ان کوجھوٹی تسلی دیکر ان کے زخموں سے کھیل رہاہے۔اقتدارکے ایوانوں میں بیٹھے افرادمیڈیاکے سامنے مجبور ومقہورکشمیریوں کوصرف یہ پیغام تودیتے ہیں کہ وہ  ان کے ساتھ ہیں لیکن یہاں سب کوسختی سے جہادکرنے سے منع کردیاگیاہے۔ مجھے لگتاہے کہ ہمیں بے یقین رہبروں نے گھیر لیا ہے، چاروں طرف جعلی پن........یہ بے یقین رہبرایسی باتیں کررہے ہیں جن پران کوخودبھی یقین نہیں ہے۔یہی مسئلہ ہے ہمارا ۔
میرے رب!ہمیں وہ رہبردے  جسے اپنے کہے پریقین کامل ہو،یہ طوفان بلاخیزہماراکچھ بھی نہیں بگاڑسکے گا۔بس ضرورت ہے یقین کامل کی،اورہم سب اتناتوجانتے ہیں ناں کہ کل کاسورج ضرورطلوع ہوگااور ہوگابھی مشرق سے،آپ یقین رکھئے یہ جو چاروں طرف اندھیراہے ناں گھپ اندھیرا...... یہ توایک جگنوجتنی روشنی کامقابلہ بھی نہیں کرسکتا، ضرور طلوع ہوگا سورج اورپسپاہوگایہ اندھیرا۔!اے اہل کشمیر!تم اپنے یقین وعزم کاسورج اس یقین کے ساتھ جلائے رکھو کہ انہی چراغوں سے اب ایسی روشنی ہوگی کہ اندھیرے اب کبھی لوٹ کرواپس نہ آئیں گے۔اندھیروں کے سفیراورابلیس کے گماشتے اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں،ان کے دیے ایک ایک کرکے بجھ رہے ہیں۔