10:12 am
جی کا جانا ٹھہر گیا ہے؟

جی کا جانا ٹھہر گیا ہے؟

10:12 am

وفاقی وزیر سائنس کا نیا ’’سائنسی‘‘ ٹویٹ سامنے آیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’’آزادی مارچ کی کامیابی سے جمہوریت ختم اور طالبان حکومت قائم ہوگی۔‘‘ کوئی ان سے پوچھے کہ کون سے آزادی مارچ کی کامیابی سے؟ کہیں یہ وہی آزادی مارچ تو نہیں کہ جس آزادی مارچ والوں سے مذاکرات کے  لئے وزیراعظم نے وزراء کی ٹیم  مقرر کر رکھی ہے؟ جس آزادی مارچ کے راستے سے پنجاب حکومت نے کنٹینرز سمیت ساری رکاوٹیں ہٹا کر انہیں پنجاب میں داخل ہونے کا موقع فراہم کیا‘ جس آزادی مارچ کے ہزاروں شرکاء کو کراچی سے لے کر پنجاب کی سرحد تک بھرپور سیکورٹی فراہم کی‘ جس آزادی مارچ پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے پابندی لگانے سے انکار کر دیا۔
اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں سی ڈی اے اور شہری حکومت تین سو کے لگ بھگ ملازمین جس آزادی مارچ والوں کے لئے جلسہ گاہ تیار کرنے میں رات دن مصروف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہاں فواد چوہدری کے نزدیک کون سے طالبان مراد ہیں کہ آزادی مارچ کے نتیجے میں جن کی حکومت قائم ہونے جارہی ہے؟ اگر تو وہ اسلام آباد میں افغان طالبان طرز کی حکومت قائم ہوتے دیکھ رہے ہیں تو پاکستان میں یہ کیسے ممکن ہے؟ حکومتی وزراء کو سیاسی کشمکش میں بھی ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے کہ جس سے ملکی تشخص مجروح ہوتا ہو۔
اس خاکسار کا روز اول سے ہی موقف تھا کہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو ہلکا نہ لیا جائے‘ مولانا سیٹ ہاریں یا جیتیں ان کے لاکھوں فالورز ان کے حکم پہ جان لٹانا اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں۔ مولانا نہ نواز شریف ہیں اور نہ آصف زرداری یا اسفند یار ولی کی طرح ہیں چنانچہ آج مولانا نے ن لیگ اور پیپلزپارٹی سمیت دیگر سیاسی قائدین کو اپنے پیچھے لگا کر ثابت کر دیا کہ پاکستان میں مولانا جیسا مدبر سیاست دان کوئی دوسرا نہیں۔اب دوست دشمن سب تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ جتنا بڑا کارکنوں کا ہجوم مولانا اپنے ساتھ لے کر اسلام آباد کے دروازوں پر دستک دینے والے  ہیں یہ کسی دوسرے سیاست دان یا سیاسی جماعت کے بس میں نہ تھا۔ 
پیر کے دن بابا گرونانک یونیورسٹی کا افتتاح کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آزادی مارچ بلیک میلنگ ہے، سب  اکٹھے ہو کر مارچ کرلیں، جب تک زندہ ہوں کسی کو این آر او نہیں ملے گا، آزادی مارچ کی وجہ حکومت کی ناکامی نہیں، کامیابی ہے۔‘‘
آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ وزیراعظم کی یہ گفتگو حقیقت کے کتنی قریب ہے؟ اگر عمران خان کی حکومت کے 16ماہ میں مہنگائی کا طوفان برپا  نہ ہوتا، کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے وہاں ظلم و ستم کے مزید اقدامات نہ اٹھائے جاتے اور عمران حکومت کشمیریوں پر بھارتی مظالم کم کروانے یا رکوانے میں کامیاب ہو جاتی تو کیا مولانا فضل الرحمن یا دیگر اپوزیشن جماعتیں اس قدر پرہجوم آزادی مارچ کرنے میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں؟
بالکل کسی کو بھی  این آر او نہیں ملنا چاہیے لیکن نواز شریف طبی بنیاد پر ملنے والی عارضی رہائی، آصف علی زرداری سے لے کر خورشید شاہ تک کی بیماری کی آسمانوں سے باتیں کرتی ہوئی خبریں آخر یہ سب کیا ہے؟ ہمیں یقین ہے کہ  جس طرح رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف ’’ڈرتا ورتا‘‘ کسی سے نہیں تھا ویسے ہی وزیراعظم عمران خان نہ کسی کو کبھی این آر او دیں گے اور نہ ہی آزادی مارچ سے بلیک میل ہوں گے، نہ وہ استعفیٰ دیں  گے اور نہ ہی آزادی مارچ سے  انہیں کوئی خوف ہے، یوٹرن لینا چونکہ ان کے نزدیک عظیم لیڈر کی نشانی ہے اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ اپنی کہی ہوئی ان باتوں سے یوٹرن نہیں لیں گے؟ گزشتہ روز میں نے اسلام آباد کے داخلی راستوں پشاور سے اسلام آباد آنے والی موٹر وے سمیت کئی مقامات پر کنٹینرز اپنی آنکھوں سے دیکھے اگر مولانا کے آزادی مارچ سے حکومت کو کوئی خوف نہیں ہے تو پھر کنٹینرز کی دیواریں کیوں کھڑی کی جارہی ہیں؟
29مارچ کو حکومت کے ظالمانہ ٹیکس نظام کے خلاف ملک بھر میں کامیاب شٹرڈائون ہڑتال کرکے تاجروں نے حکومت کی چولیں ہلا ڈالیں، اگر وزیراعظم کی معاشی پالیسیوں کی برکت سے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہوچکی ہیں تو پھر تاجروں کی شٹر ڈائون ہڑتال کی کامیابی کیوں؟ تاجروں نے 31مارچ کو اسلام آباد پہ یلغار کی دھمکی دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حکومت ہمیں مجبور کر رہی ہے کہ ہم مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی حمایت کریں، گزشتہ دنوں کراچی ریلوے کے پسے ہوئے ملازمین نے مجھے بتایا تھا کہ اگر حکومت نے ریٹائرڈ ریلوے ملازمین کی پنشنز، بیوگان اور یتیموں کے فنڈز انہیں بروقت ادا نہ کئے تو ریلوے کے ہزاروں ملازمین بھی ’’مولانا‘‘ کے شانہ بشانہ آزادی مارچ میں شامل ہو کر حکومت کے  خلاف بھرپور احتجاج کریں گے۔مولانا فضل الرحمن کی طرز سیاست کو جتنا تھوڑا بہت میں سمجھ رہا ہوں تو میرا تجزیہ یہ کہہ رہا ہے کہ 
جی کا جانا ٹھہر گیا ہے
صبح گیا یا شام گیا
یہ بات بھی تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے، عمران خان حکومت کے قائم ہونے کے بعد سے آئین پاکستان کے باغی ٹولے قادیانیوں نے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا تھا، قومی اسمبلی کے فلور پر اسرائیل  کے حق میں تقریریں ہی نہیں بلکہ ٹی وی ٹاک شوز میں بعض (ر) صاحبان کھلے عام یہ کہنا شروع ہو چکے تھے کہ اگر پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کربھی لیا تو کون سی قیامت آجائے گی؟ ملعونہ آسیہ مسیح کی ڈرامائی رہائی کے بعد سے قانون توہین رسالت کے خلاف عالمی صہیونی طاقتوں کی سازشیں عروج پر پہنچتی ہوئی نظر آرہی ہیں، ڈاڑھی، پگڑی اور دیگر شعائر اسلام کا بڑی ڈھٹائی سے مذاق اڑایا جارہا تھا۔
پاکستان سے فرار ہو کر لندن میں پناہ گزیں قادیانی سربراہ نے منہ پھاڑ کر بڑے دھڑلے سے یہ کہہ دیا تھا کہ  عنقریب پاکستان کا آئین ختم ہو جائے گا‘ ایک سزا یافتہ مجرم کو پراسرار انداز میں رہائی دی گئی اور وہ انتہائی پراسرار انداز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دربار تک جا پہنچا جہاں اس نے پاکستان کے خلاف ٹرمپ کو شکایتیں لگا کر ملک کو بدنام کرنے کی کوششیں کیں۔ اس تناظر میں بھاری پگڑی اور گھنی ڈاڑھی والے جید عالم دین مولانا فضل الرحمن کی قیادت  میں تمام اپوزیشن قائدین نے آزادی مارچ شروع کرکے عالمی صہیونی طاقتوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں، تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت مسلمانوں کا مقدس عقیدہ ہے جس کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو تہہ خاک ملا دیا جائے گا۔

تازہ ترین خبریں