10:12 am
دستور کی عملی بالادستی

دستور کی عملی بالادستی

10:12 am

(گزشتہ سے یثوستہ)

اس کے بعد بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف نے دو دو باریاں لیں مگر طرز وہی رہا کہ حکومت کی کرسی پر ہیں تو تمام اختیارات اور طاقت کو مٹھی میں رکھتے ہوئے مخالفین کو آزادانہ سیاسی زندگی اور کردار کے مواقع سے محروم کرنا اور اقتدار سے باہر ہیں تو برسراقتدار گروہ کو ہر قیمت پر اقتدار سے ہٹانا اور کسی طرح بھی آرام سے حکومت نہ کرنے دینا ان دونوں سیاسی قوتوں کی اولین ترجیح رہی اور بالآخر اسی کشمکش نے جنرل پرویز مشرف کی تشریف آوری کی راہ ہموار کی جس کے نتیجے میں پوری قوم اور خاص طور پر سیاسی قوتوں کو ان اصلاحات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن میں ایک طرف جنرل پرویز مشرف ہیں اور دوسری طرف اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل کے دو پلیٹ فارموں کی صورت میں ملک کی کم و بیش تمام اہم دینی و سیاسی جماعتیں ہیں جو ان اصلاحات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن عدالت عظمیٰ کی فراہم کردہ چھتری نے ان اصلاحات کے نفاذ کو یقینی بنا دیا ہے۔
 جنرل پرویز مشرف کے سیاسی فارمولے، اصلاحات، قوم سے خطاب اور اقدامات میں کوئی ایسی نئی بات نظر نہیں آرہی جو اس سے قبل غلام محمد، جنرل محمد ایوب خان اور جنرل ضیا الحق کے فارمولوں میں شامل نہ رہی ہو۔ صرف نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بارے میں جنرل پرویز مشرف کہہ سکتے ہیں کہ نیا سیاسی اقدام ہے لیکن جب بات طاقت اور صرف طاقت کی بالادستی کے حوالے سے ہو رہی ہے اور ہر معاملہ میں طاقت ہی کو حرف آخر قرار دیا جا رہا ہے تو قومی سلامتی کونسل کے قیام سے بھی صورتحال میں کوئی فرق رونما نہیں ہوگا۔ جس کے ہاتھ میں طاقت ہوگی، سلامتی کونسل بھی اسی کے ہاتھ میں ہوگی۔ کسی مرحلہ میں اس قومی سلامتی کونسل نے طاقتور کے ہاتھ سے پھسلنے کی کوشش کی تو اس کے پاس طاقت کے اظہار کے اور ذرائع بھی موجود ہوں گے، اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ روایت بالاتر قانون کا درجہ اختیار کر چکی ہے کہ جب طاقتور اپنی طاقت کے اظہار اور استعمال کا فیصلہ کر لیتا ہے تو مذہب، سیاست، عدالت یا کسی بھی دوسرے فورم کے لیے اس بات کا کوئی امکان باقی نہیں رہ جاتا کہ وہ اس طاقت کو آگے بڑھنے سے روک سکے یا کم از کم اسے کہہ ہی سکے کہ جناب والا! آپ جو کچھ کر رہے ہیں، درست نہیں ہے۔
ہمیں مستقبل کا نقشہ بھی اسی طرح نظر آ رہا ہے کہ اگر جنرل پرویز مشرف کی اصلاحات کے مطابق اکتوبر کے انتخابات منعقد ہو جاتے ہیں تو اسمبلیاں وجود میں آئیں گی۔ وہ جنرل موصوف کے آئینی اقدامات کو آٹھویں دستوری ترمیم کی طرز پر تحفظ فراہم کریں گی، اس کے بعد سیاسی عمل آگے بڑھے گا اور ایک دو انتخابات کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت نے پارلیمنٹ میں مضبوط پوزیشن اختیار کر لی تو جنرل پرویز مشرف کی سیاسی اصلاحات اور ان کے آئینی تحفظات کا تیاپانچہ اور اختیارات کی کشمکش ہوگی جو اس قدر طول پکڑے گی کہ پھر کسی جنرل کے انتظار میں لوگوں کی نگاہیں جی ایچ کیو کی طرف اٹھنے لگیں گی، اور اس کے بعد پردہ غیب سے ایک اور جنرل محمد ایوب خان نمودار ہوں گے ۔
اسلام کے سیاسی نظام میں اور آج کے سیاسی فلسفوں میں یہی فرق ہے کہ اسلام میں اصول و ضوابط پہلے سے طے شدہ ہیں جن میں ردوبدل کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ حکومت نے جس پٹڑی پر چلنا ہے، وہ متعین ہے اور اس کا کانٹا بدلنا کسی کے بس کی بات نہیں ہےجبکہ جمہوریت سمیت آج کے تمام سیاسی نظاموں کی بنیاد اس پر ہے کہ انسانوں نے اصول بھی خود طے کرنے ہیں اور ان پر عملدرآمد کا اہتمام بھی خود کرنا ہے۔ یہ اصول و ضوابط اور اخلاق و قوانین فرد واحد طے کرے، کوئی گروہ یا طبقہ انہیں ترتیب دے یا کوئی منتخب پارلیمنٹ ان کا خاکہ مرتب کرے، بہرحال انسانوں نے ہی طے کرنے ہوتے ہیں اور جن کے ہاتھوں میں طے کرنے کا اختیار ہوتا ہے، ان کے ذہنی رجحانات، گروہی یا شخصی مفادات اور سیاسی ترجیحات کی چھاپ بہرحال ان اصولوں اور ضوابط پر نمایاں ہوتی ہے۔
خلافت راشدہ کا آغاز خلیفہ اول حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ  کے اس خطبہ سے ہوتا ہے جب انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسجد نبوی میں کھلے بندوں قوم سے خطاب کیا اور اپنی پالیسیوں کا اعلان فرمایا، اس میں انہوں نے کوئی سیاسی فارمولا نہیں پیش کیا اور نہ ہی دستوری اصلاحات کے بکھیڑے میں پڑنے کی ضرورت محسوس کی بلکہ یہ فرمایا کہ اصول و ضوابط اللہ تعالی کے احکام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی شکل میں طے شدہ ہیں، اگر میں ان کے مطابق چلوں تو میرا ساتھ دو اور اگر ٹیڑھا چلوں تو مجھے پکڑ کر سیدھا کر دو۔ خدا کرے کہ یہ فلسفہ پاکستانی حکمرانوں کی سمجھ میں بھی آجائے کیونکہ دستوری اکھاڑ پچھاڑ اور طاقت کی کشمکش سے نجات کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

تازہ ترین خبریں