07:37 am
                                       سیرۃ النبیﷺ

سیرۃ النبیﷺ

07:37 am

یہ شہنشاہ دارین اورمحبوب رب المشرقین والمغربین  کی حیات طیبہ اوران کی سیرت،مقدسہ کا ذکر جمیل ہے جو ہماری ایمانی عقیدتوں کا مرکز اورہماری اسلامی زندگی کا محور ہے۔ یہ محبوب خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ان قابل احترام اداؤں کا بیان ہے جن پر کائنات عالم کی تمام عظمتیں قربان ہیں ، لہٰذا اسکے مطالعہ کے وقت آپ کو ادب واحترام کا پیکر بن کر اورتعظیم وتوقیر کے جذبات صادقہ سے اپنے قلب ودماغ کو منور کر کے اس تصور کے ساتھ اس کی ایک ایک سطر کو پڑھنا چاہئے کہ اس کا ایک ایک لفظ میرے لئے حسنات وبرکات کا خزانہ ہے اورگویا میں حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس دربار میں حاضر ہوں اورآپ کی ان پیاری پیاری اداؤں کو دیکھ رہا ہوں اورآپ کے فیض صحبت سے انوار حاصل کر رہا ہوں۔ حضرت ابو ابراہیم تجیبی علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا ہے کہ 
''ہر مومن پر واجب ہے کہ جب وہ رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ذکر کرے یا اسکے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے تو وہ پر سکون ہوکر نیاز مندی وعاجزی کا اظہار کرے، اوراپنے قلب میں آپ کی عظمت اورہیبت وجلال کاایسا ہی تاثر پیدا کرے جیسا کہ آپ کے روبرو حاضر ہونے کی صورت میں آپ کے جلال وہیبت سے متاثر ہوتا۔‘‘
اورحضرت علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات اقدس کے بعد بھی ہرامتی پر آپ کی اتنی ہی تعظیم وتوقیر لازم ہے جتنی کہ آپ کی ظاہری حیات میں تھی۔ چنانچہ خلیفہ بغداد ابو جعفر منصور عباسی جب مسجد نبوی میں آکر زور زور سے بولنے لگاتو حضرت امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ا سکو یہ کہہ کر ڈانٹ دیا کہ اے امیر المومنین! یہاں بلند آواز سے گفتگونہ کیجئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وال وسلم کے دربار کا یہ ادب سکھایا کہ یعنی نبی کے دربار میں اپنی آواز وں کو بلند نہ کرو۔
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی وفات اقدس کے بعد بھی ہر امتی پر آپ کی اتنی ہی تعظیم واجب ہے جتنی کہ آپ کی ظاہری حیات میں تھی۔ یہ سن کر خلیفہ لرزہ براندام ہوکر نرم پڑگیا۔ 
بہرحال سیرت مقدسہ کی کتابوں کو پڑھتے وقت ادب واحترام لازم ہے اور بہتر یہ ہے کہ جب پڑھنا شروع کرے تو درود شریف پڑھ کر کتاب شروع کرے اور جب تک دلجمعی باقی رہے پڑھتا رہے اورجب ذرا بھی اکتاہٹ محسوس کرے تو پڑھنا بند کردے اور بے توجہی کے ساتھ ہرگز نہ پڑھے۔
سیرت کیاہے ؟
قدمائے محدثین وفقہاء ''مغازی وسیر''کے عنوان کے تحت میں فقط غزوات اوراس کے متعلقات کو بیان کرتے تھے مگر سیرت نبویہ کے مصنفین نے اس عنوان کو اس قدرو سعت دے دی کہ حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے وفات اقدس تک کے تمام مراحل حیات ،آپ کی ذات وصفات، آپ کے دن رات اورتمام وہ چیزیں جن کو آپ کی ذات والا صفات سے تعلقات ہوں خواہ وہ انسانی زندگی کے معاملات ہوں یا نبو ت کے معجزات ہوں ان سب کو’’کتاب سیرت‘‘ ہی کے ابواب وفصول اورمسائل شمار کرنے لگے۔
چنانچہ اعلان نبوت سے پہلے اور بعد کے تمام واقعات کا شانہ نبوت سے جبل حراء کے غار تک اورجبل حراء کے غار سے جبل ثور کے غار تک اورحرم کعبہ سے طائف کے بازار تک اورمکہ کی چراگاہوں سے ملک شام کی تجارت گاہوں تک اور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے حجروں کی خلوت گاہوں سے لیکر اسلامی غزوات کی رزم گاہوں تک آپ کی حیات مقدسہ کے ہر ہرلمحہ میں آپ کی مقدس سیرت کاآفتاب عالم تاب جلوہ گر ہے۔
اسی طرح خلفاء راشدین ہوں یادوسرے صحابہ کرام ، ازواج مطہرات ہوں یا آپ کی اولاد عظام ، ان سب کی کتاب زندگی کے اوراق پر سیرت نبوت کے نقش ونگار پھولوں کی طرح مہکتے ، موتیوں کی طرح چمکتے اورستاروں کی طرح جگمگاتے ہیں اور یہ تمام مضامین سیرت نبویہ کے ’’شجرہ الخلد‘‘ہی کی شاخیں ، پتیاں ، پھول اورپھل ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
ملک عرب:یہ براعظم ایشیاء کے جنوب مغرب میں واقع ہے چونکہ اس ملک کے تین طرف سمندر نے اورچوتھی طرف سے دریائے فرات نے جزیرہ کی طرح گھیر رکھا ہے اسلئے اس ملک کو ''جزیرہ العرب''بھی کہتے ہیں۔ اس کے شمال میں شام وعراق ، مغرب میں بحر احمر(بحیرۂ قلزم)جو مکہ معظمہ سے بجانب مغرب تقریباً ستتر (77) کیلومیٹر کے فاصلہ پر ہے اورجنوب میں بحر ہند اورمشرق میں خلیج عمان وخلیج فارس ہیں۔اس ملک میں قابل زراعت زمینیں کم ہیں اور اس کا کثیر حصہ پہاڑوں اورریگستانی صحراؤں پر مشتمل ہے۔ 
علماء جغرافیہ نے زمینوں کی طبعی ساخت کے لحاظ سے اس ملک کو آٹھ حصوں میں تقسیم کیاہے۔
 (1)حجاز (2)یمن (3)حضرموت  (4)مہرہ (5)عمان(6)بحرین(7)نجد(7)احقاف
حجاز مقدس:یہ ملک کے مغربی حصہ میں بحر احمر(بحیرۂ قلزم)کے ساحل کے قریب واقع ہے۔ حجاز سے ملے ہوئے ساحل سمندر کو جو نشیب میں واقع ہے ’’تہامہ‘‘یا ’’غور‘‘ (پست زمین)کہتے اور حجاز سے مشرق کی جانب جو ملک کا حصہ ہے وہ’’نجد‘‘ (بلند زمین) کہلاتا ہے۔     (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں