07:40 am
’آزادی‘ یا ’بربادی‘ مارچ؟ 

’آزادی‘ یا ’بربادی‘ مارچ؟ 

07:40 am

جب تک یہ تحریر شائع ہوگی مولانا فضل الرحمن اور ان کے حامی اسلام آباد پہنچ چکے ہوں گے۔ خوش قسمتی سے حکومت نے بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا راستہ نہیں روکا اور امید ہے کہ جمع ہونے والے مظاہرین بھی اسی سمجھ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ اگرچہ یہ اجتماع  عمران خان کی سیاست کے خاتمے کا تند و تیز مطالبہ  کررہا ہے تاہم امید ہے کہ اس  کے باوجود یہ اسلام آباد کے امن و امان(اور صفائی ستھرائی) کو متاثر نہیں کرے گا۔ نام نہاد ’’آزادی مارچ‘‘ کا آغاز پشتون آبادی رکھنے والے کراچی کے نواحی علاقے سہراب گوٹھ سے ہوا۔ مذاکراتی ٹیم کی مسلسل کوششوں کے باوجود حکومت یہ مارچ روک نہیں  سکی۔ آزادی مارچ کے قائدین  یہ ثابت کرنے کے لیے  سڑکوں پر نہیں کہ تحریکِ انصاف کی حکومت ناکام ہورہی ہے، بلکہ انھیں اس بات کا خوف ہے کہ حکومت کامیاب ہورہی ہے۔ مولانا یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور اس لیے وہ عمران خان کے استعفی سے کم پر راضی نہیں۔ کیا وہ یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی حیثیت محض ربڑ اسٹیمپ سے زیادہ نہیں؟ ان کے نعرے’’آزادی‘‘ کا مفہوم بھی واضح نہیں۔ 
 
موجودہ حکومت کو ایک تباہ  شدہ معیشت ورثے میں ملی جسے سابقہ حکومتوں کی لوٹ مار نے برباد کیا، بدقسمتی یہ ہے کہ مولانا ایک ایسے وقت میں سڑکوں پر ہیں جب اقتصادی حالات میں بہتری کی علامات نمایاں ہورہی ہیں۔ اگرچہ یہ علامتیں ابھی تک عوام پر بہت واضح نہیں ہیں کیوں کہ انھیں مہنگائی اور دیگر مسائل کا تاحال سامنا ہے لیکن کسی حکومت سے صرف 15ماہ کے اقتدار میں دہائیوں کی خرابیاں ٹھیک کردینے کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں ہوگی۔ تبدیلی کا آغاز ہوچکا ہے، راستہ دشوار گزار ہے لیکن سرنگ کے دوسرے کنارے روشنی ہے۔ معیشت اور اقتصادی پالیسیوں کا کچھ  بھی علم رکھنے والے پاکستان کے خیرخواہوں کو یہ بہتری نظر آرہی ہے۔ 
لیکن فضل الرحمن اور ان کے ہمنواؤں کا مسئلہ یہ نہیں۔ وہ اپنا راستہ صاف کرنے کے لیے اپنی ڈنڈا بردار زرد پوش فوج کی ویڈیوز دکھا کر حکومت کو ڈراتے رہے۔ یہاں تک کہ جنرل باجوہ سے ملاقات میں انھیں پیغام دے دیا گیا کہ ہنگامہ خیزی مولانا کے کام نہیں آئے گی۔ مولانا کی یکسوئی کی ایک وجہ انہیں حاصل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی درون خانہ حمایت بھی ہے، جن کے لیڈر یا تو جیلوں میں بیٹھے ہیں یا کرپشن کے مقدمات بھگت رہے ہیں۔ ان دونوں جماعتوں کی حالت دگر گوں ہے اور یہ کسی عملی اقدام کے قابل نہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ مل کر مولانا نے وزیر اعظم پر ’’مودی کے موقف کی تائید‘‘ کا نیا ڈراما رچایا ہے حالاںکہ ان کے مارچ کی ٹائمنگ ایسی ہے کہ اس سے کشمیر سے توجہ ہٹی ہے اور  کشمیر پر پاکستانی کاوشوں کو بھی زد پہنچی ہے۔ گزشتہ حکومت میں جب مولانا کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے تو ان کے پورے دور میں اس مسئلے کو اجاگر کرنے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ جہاں تک بھارت کے ساتھ تعلقات کی بات ہے تو بھارت میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے ساتھ خوشگوار ماحول میں ان کی ایک تصویر شکوک کو جنم دیتی ہیے۔ مولانا پاکستان کو تباہ کرنے کے راستے پر ہیں، جو شخص  شیشے کے گھر میں بیٹھا ہو اسے دوسروں پر پتھر نہیں پھینکنے چاہیں۔
فضل الرحمن کی جماعت جے یو آئی(ف) پاکستان کے ایسی متعدد مذہبی جماعتوں میں سے ایک ہے جو پاکستان کی تاریخ میں کبھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکیں اور ان کی حیثیت پریشر گروپس سے زیادہ نہیں۔ فضل الرحمن ڈیرہ اسماعیل خان میں  اپنے آبائی حلقے سے بھی سیکیولر جماعتوں کی مدد سے نشست جیتنے میں کامیاب ہوتے تھے۔  1980میں 27سال کی عمر میں انہیں جمیعت علمائے اسلام اپنے والد مفتی محمود سے ورثے میں ملی جو موروثی سیاست کی ایک اور مثال ہے۔ اس جماعت کی بنیاد دیوبندی مکتب کے افکار پر ہے جو اسلامی ریاست کے قیام پر یقین رکھتی ہے اور اسی لیے جمہوریت اور انتخابات سے متعلق ان کا رویہ مخاصمانہ ہے۔ وہ اس مشکل کو آسان کرنے کے لیے سیکیولر جماعتوں کے ساتھ مل کر انتخابات میں حصے لیتے ہیں اور دوسری جانب طالبان کے بھی حامی ہیں جن میں سے کئی ایک ان کی جماعت کے زیر انتظام مدارس کے طلبا رہے ہیں۔ 
1981میں جے یو آئی نے آزادانہ انتخابات کے لیے ضیاالحق  پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایم آر ڈی میں شمولیت کی۔ 1990کے انتخابات میں جے یو آئی نے قومی اسمبلی کی چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی لیکن مولانا ڈی آئی خان سے اپنی نشست نہیں جیت سکے۔ 1993کے قومی انتخابات میں جے یو آئی اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ تھی اور مولانا سمیت اس کے چار اراکین کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے افغان طالبان سے روابط قائم کیے ، جن کی بڑی تعداد نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں قائم مدارس سے تعلیم حاصل کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ انھیں افغان طالبان کا سرپرست بھی کہا جاسکتا ہے۔ جے یو آئی(ف) کو خیبر پختون خوا، فاٹا اور بلوچستان میں مقبولیت حاصل رہی۔  اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ یہی پاکستان کی ایسی  واحد سیاسی جماعت سمجھی جاتی ہے جو سابقہ قبائلی علاقوں میں مضبوط تنظیمی ڈھانچہ رکھتی ہے۔ اس جماعت کو حاصل حمایت کا بڑا حصہ شمال مغربی پاکستان میں قائم مدارس کے نیٹ ورک سے منسلک مسلح گروہوں پر مشتمل ہے۔ 
2007میں  اس وقت تبدیلی آئی جب امریکا کے دفتر خارجہ کی افشا ہونے والی کیبلز میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ جے یو آئی کے قائد نے مبینہ طور پر امریکا اور طالبان کے مابین ثالثی کی پیش کش کی۔ اس انکشاف کے بعد افغان طالبان جنگ جوؤں اور القاعدہ کی قیادت نے جے یو آئی (ف) کے ساتھ مبینہ طور پر رابطے منقطع کرلیے۔ اس کے بعد ہی سے جے یو آئی (ف) کی قیادت اور مولانا پر حملوں کا آغاز ہوا۔ فضل الرحمن تین قاتلانہ حملوں میں محفوظ رہے۔ حال ہی میں کوئٹہ میں جے یو آئی (ف) کے منعقدہ کنوینشن میں خود کُش حملے میں متعدد افراد کی جانیں گئیں۔ گزشتہ برسوں میں جے یو آئی کے متعدد کارکنان اور قائدین کو خیبر پختون خوا اور فاٹا میں نامعلوم مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔ ایسا ہی واقعہ کچھ روز قبل باجوڑ کی تحصیل مومند میں پیش آیا جس میں جے یو آئی(ف) کے مقامی رہنما مفتی سلطان محمد قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے۔ 
یہاں ایک اور سوال اٹھتا ہے۔ جے یو آئی اور اس کے قائد کے اس پس منظر کے باوجود حکومت نے انہیں مارچ کی اجازت کیوں دی۔ اسے شاید ملک میں اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے لیکن مسلح گروہوں کے حامیوں کے ایسے مارچ سے ایسے ملک میں  کیا پیغام جائے گا جہاں لوگ ناخواندہ ہیں اور اپنی رائے کے لیے اپنے مولوی یا پیر کی جانب دیکھتے ہیں؟ خود وزیر اعظم یہ کہہ چکے ہیں کہ آزادی مارچ کے قائدین اپنے مقاصد میں واضح نہیں ، یہ کبھی کہتے ہیں کہ ملک پر یہودی لابی قابض ہورہی ہے، کبھی حکومت کو قادیانیوں سے جوڑتے ہیں اور کبھی مہنگائی کے لیے مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ ٹرکوں اور بسوں میں بھر کر جن لوگوں کو اسلام آباد لایا جارہا ہے انھیں خود بھی نہیں معلوم کہ  وہ یہ مشقت کیوں اٹھا رہے ہیں اور ممکن ہے ان میں سے بہت سے لوگوں کو کچھ روپے پیسے یا صرف مفت کھانے کی ترغیب ہی یہاں تک لے آئی ہو۔ جب دنیا ملّاؤں کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرتا دیکھے گی تو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج شدید متاثر ہوگا۔
 ایک ایسا ملک جہاں جاگیردار اشرافیہ اقتدار پر قابض ہو اور جمہوریت کی حقیقی روح انسانی مساوات کا ادراک ہی نہیں رکھتی ہو وہاں صرف ’جمہوریت‘ کا تاثر بہتر کرنے کے لیے ایسے تماشے کی اجازت دینا خطرے سے خالی نہیں۔ یاد کیجیے کچھ ہی عرصہ قبل جب مولوی بے آسرا لوگوں کو اپنے ساتھ کھینچ لائے تھے اور ان کے دھرنے کی وجہ سے ہفتوں دارالحکومت کے معمولات زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئے تھے۔ ’جمہوریت‘ کی علمبرداری کا یہ شوق مالی مسائل میں گھرے اس ملک کے لیے بہت مہنگا سودا نہیں؟ اور مولانا فضل الرحمن  کا ماضی پیش نظر رہے تو یہ سوال تو ذہن میں آتا ہے کہ ان کا مارچ پاکستان کی ’آزادی‘ کے لیے ہے یا ’’بربادی‘‘ کی خاطر؟(فاضل مصنف سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 
 

تازہ ترین خبریں