07:43 am
کبھی ایک ملک تھا، کشمیر!

کبھی ایک ملک تھا، کشمیر!

07:43 am

٭آزادی مارچ، جلسہ مولانا فضل الرحمان دو تین دن بعد ’تماشے‘ کی دھمکیاںO تیزگام ٹرین آتشزدگی، سنگین انکشافات! گاڑیوں میں آگ بجھانے کے آلات نہیں، سکینر خرابO مقبوضہ کشمیر کے تین حصے، دوگورنروں نے حلف اٹھایا، ریاست کشمیر ختم، چین کا سخت ردعملO اسلام آباد! کسی بھی وقت کچھ ہونے کا خطرہ، 5½ ہزار کنٹینرز، آنسو گیس کے دس ہزار گولے، فوج طلبO ایک سال میں ٹرینوں کے 80 حادثے۔
٭کشمیر جنت نظیر کا وجود ختم ہو گیا۔ لداخ، جموں اور وادی کے تین ٹکڑے! تینوں مرکزی حکومت کے ماتحت۔ لداخ اور جموں و وادی کشمیر کے گورنروں نے حلف اٹھا لئے۔ کوئی وزیراعلیٰ نہیں ہو گا۔ ان اقدامات کا ایک بہت اہم نتیجہ یہ ہے کہ شیخ عبداللہ کے ساتھ معاہدے کے تحت مقبوضہ کشمیر کو جو خصوصی آئینی پوزیشن حاصل تھی اس کے تحت کشمیر کے علاقے میں کوئی باہر کا شخص کوئی جائیداد نہیں خرید سکتا تھا، کوئی نجی کاروبار نہیں کر سکتا تھا، کسی بیرونی اخبار کا پریس نہیں لگایا جا سکتا تھا۔ باہر کے شخص کی کشمیری لڑکیوں سے شادی نہیں ہو سکتی تھی۔ اب یہ ساری پابندیاں ختم ہو گئی ہیں۔ اب بھارت کے کسی بھی علاقے کا کوئی باشندہ یہاں ہر قسم کی جائیداد خرید سکتا ہے اور کاروبار کر سکتا ہے، بلکہ یہ کہ بھارت کی دہلی اور چنائے کی دو بڑی کاروباری کمپنیوں نے پلگام وغیرہ کے علاقوں میں سینکڑوں ایکڑ اراضی خریدنے کی درخواستیں بھی دے دی ہیں۔ جموں میں تو پہلے ہی ہندوئوں کی اکثریت ہے، وادی میں مسلمان اور لداخ میں بدھ مت کے پیروکار اکثریت میں ہیں۔ مجموعی طور پر مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہے مگر بھارتی حکومت کے پلان کے مطابق اب باہر سے ہندوئوں کو لا کر مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے گا۔ بھارتی حکومت نے کانگریس اور اپوزیشن کی دوسری پارٹیوں کے سربراہوں کو مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی کو سری نگر کے ہوائی اڈے سے واپس بھیج دیا گیا مگر اب یورپی پارلیمنٹ کے دائیں بازو کے شدت پسند 23 بھارت دوست ارکان کو مقبوضہ کشمیر لا کر فوج کی نگرانی میں چند علاقوں میں گھمایا گیا اور ان سے بیان لے لیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں تبدیلیاں بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ سو کشمیر کا نام اور وجود کالعدم ہوگئے۔ 80 لاکھ کشمیری باشندے اب بھی کرفیو کے شکنجے میں ہیں۔ کرفیو بھارتی حکومت کے لئے ڈرائونا خواب بن گیا ہے۔ اسے کرفیو ہٹانے کی ہمت نہیں پڑ رہی۔ کرفیو ہٹاتے ہی 80 لاکھ غضب ناک عوام جس طرح باہر نکلیں گے، اس کا خوف بھارتی حکومت پر سوار ہو چکا ہے۔
٭ادھر پاکستان میں کیا نقشہ بن رہا ہے۔ آزادی مارچ کے نام پر جے یو آئی کا بہت بڑا جلوس اسلام آباد میں پشاور موڑ کے وسیع میدان میں جمع ہو چکا ہے۔ آزادی مارچ کراچی سے شروع ہوا تھا، راستے میں دوسرے قافلے شریک ہوتے گئے، یہ ریلی جمعرات کو صبح اسلام آباد پہنچنا تھی مگر ہزاروں گاڑیوں کے ہجوم اور جگہ جگہ تقریروں کے باعث صبح کی بجائے جمعرات کو نصف رات کے بعد اسلام آباد پہنچی۔ تمام شرکاء سڑک پر پانچ دنوں کے مسلسل سفر کے باعث شدید تھکن کا شکار تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے کراچی سے اسلام  آباد تک بے شمار تقریر کی تھیں۔ سخت تھکن سے ان کی حالت زیادہ نمایاں تھی۔ انہوں نے جلسہ سے چند لمحے خطاب کیا اور کسی جگہ آرام کے لئے چلے گئے۔ یہی صورت حال اپوزیشن کی دوسری پارٹیوں کی تھی۔ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری، اور ن لیگ کے خواجہ آصف بھی حکومت کے خلاف تقریروں کے بعد جلسہ گاہ سے چلے گئے، دھرنے میں شریک نہیں ہوئے۔ شہباز شریف نے جمعہ کی نماز کے بعد شریک ہونا تھا۔
٭یہ تو جلسہ کی صورت حال تھی۔ اب دوسرا رُخ! مولانا فصل الرحمن نے اپنی تقریر میں وزیراعظم سے  استعفا مانگنے کا مطالبہ تو کرنا ہی تھا، انہوں نے کھلے عام دھمکیاں بھی دے دیں کہ عمران نے استعفا نہ دیا تو لڑ کر (لڑائی!) لیا جائے گا۔ اگلے دو تین روز تک استعفا نہ آیا تو پھر دیکھنا ملک بھر میں کیا تماشا ہوتا ہے! ہم آ گئے ہیں، اب استعفا لے کر ہی جائیںگے۔ ادھر وفاقی انٹیلی جنس ایجنسیاں بار بار انتباہ کر رہی ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کی جان کو سخت خطرہ ہے۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ کوئی بارود بھری گاڑی مولانا کی گاڑی سے ٹکرا سکتی ہے۔ آزادی مارچ کی انتظامیہ نے اسے ’مارچ‘ والوں کو ہراساں کرنے کا مصنوعی پراپیگنڈا قرار دیا ہے۔ ایسے انتشار انگیز حالات کے پیش نظر اسلام آباد میں حفاظتی اقدامات انتہائی سخت کر دیئے گئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ساڑھے پانچ ہزار کنٹینر جگہ جگہ لگا دیئے گئے ہیں۔ پولیس کے پاس آنسو گیس کے 10 ہزار گولے پہنچا دیئے گئے ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ جلسے میں اشتعال پھیلنے پر اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں ہنگامے شروع ہو سکتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے سخت جوابی کارروائی کے اعلانات سے صورتِ حال سخت کشیدہ ہو رہی ہے۔ میرے ذاتی علم میں ہے کہ اسلام آباد میں مقیم بہت سے خاندان عارضی طور پر دوسرے مقامات پر چلے گئے ہیں جبکہ دوسرے شہروں میں کام کرنے والے بہت سے لوگ اپنے خاندانوں کے تحفظ کے لئے اسلام آباد آ گئے ہیں۔ خدانخواستہ مجھے اگلے چند دن خاصے پریشان کن دکھائی دے رہے ہیں۔ بعض مبصرین بار بار اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ آزادی مارچ، ہزاروں، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں اربوں کے اخراجات کا معاملہ ہے۔ جہانگیر ترین نے واضح سوال اٹھایا ہے کہ ایسے موقع پر جب کشمیر کے ٹکڑے کئے جا رہے ہیں، آزادی مارچ کا منصوبہ کہاں بنا اور اس کے فنڈز کہاں سے آئے ہیں؟ خدا خیر کرے!
٭تیزگام ٹرین کی آتش زدگی کے ہولناک سانحہ  کے ساتھ بعض نئی باتیں سامنے آئی ہیں اور متعدد اہم سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایک بات تو یہ کہ ٹرین کے ڈرائیوراور گارڈ نے ایک بوگی میں سلنڈر کے ساتھ ناشتہ بنتے دیکھا تو اسے روک دیا مگر ان دونوں کے جانے کے بعد پھر چولہا جلا دیا گیا۔ اس پر قیامت برپا ہو گئی۔ زیرغور اہم سوال یہ ہے کہ آگ تو ایک بوگی میں لگی تھی، دوسری دو بوگیاں کیسے زد میں آ گئیں؟ کیا یہ تین بوگیوں کو بیک وقت نذرآتش کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنایا گیا تھا۔ ایک سنگین کوتاہی یہ سامنے آئی ہے کہ نہ صرف تیزگام بلکہ تمام ٹرینوں میں آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہیں اور یہ کہ لاہور اور کراچی کے مسافروں کو چیک کرنے والے سکینر بھی ایک عرصے سے خراب پڑے ہیں۔ لاہور کا ایک سکینر76 لاکھ روپے سے لگایا گیا۔ جلد خراب ہو گیا، اب اسے ٹھیک کرنے کے لئے مزید 19 لاکھ روپے مانگے جا رہے ہیں۔ ٹھیکیداروں کے ساتھ مل کر افسروں کی نجی تجوریاں بھرنے کے نئے نئے طریقے! اس ملک کو کیسے لوٹا جا رہاہے!
٭ وزارت اطلاعات کو معاون خصوصی فردوس عاشق نے شریف خاندان کے افراد کی ضمانتوں پر وزیراعظم کو خوش کرنے کے لئے عدلیہ کے خلاف تیز بیانات دے ڈالے۔ یہ بی بی بہت اونچی ہوا میں تھی۔ عدالت سے توہین عدالت کا نوٹس ملا تو ہوش ٹھکانے آگئے،زمین پر اتر آئی۔ عدالت میں عیر مشروط معافی پیش کر دی۔ عدالت نے معافی دے دی، خوش ہو کر چلنے لگی تو فاضل عدالت نے کہا کہ معاملہ ابھی ختم نہیں، توہین عدالت کا ایک اور نوٹس بھی جاری ہو رہا ہے!
٭’’لنکا میں ہر کوئی باون گز کا‘‘ اتنے بڑے ملک کے وزیرداخلہ کی بے خبری! اعلان کر دیا کہ نوازشریف کے بیرون ملک جانے پر کوئی پابندی نہیں۔ موصوف کو بتایا گیا کہ نوازشریف کے باہر جانے پر ایک نہیں دو پابندیاں ہیں۔ ریکارڈ دیکھا تو موصوف نے نیا بیان جاری کر دیا کہ نوازشریف باہر نہیں جا سکتے! پرانی مثال ہے کہ ’’طنبورہ کچھ بجا رہا ہے بانسری کچھ اور سنا رہی ہے۔ انگریزی میں ایک لفظ ہے’’ فری فار آل!‘‘ یعنی جس کا جیسے چاہے، دھما چوکڑی منائے!خبر چھپتی ہے کہ ایک سال میں ٹرینوں کے 80 حادثے ہوئے ہیں اور لال حویلی کا فخریہ بیان آتا ہے کہ یہ تو بہت کم ہیں، میرے دور میں سب سے کم حادثے ہوئے ہیں! ہر ماہ سات حادثے!

تازہ ترین خبریں