07:43 am
                                       سیرۃ النبیﷺ

سیرۃ النبیﷺ

07:43 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
’’حجاز‘‘چونکہ ’’تہامہ ‘‘اور’’نجد‘‘کے درمیان حاجز اور حائل ہے ا سی لئے ملک کے اس حصہ کو ''حجاز ''کہنے لگے۔ حجاز کے مندرجہ ذیل مقاما ت تاریخ اسلام میں بہت زیادہ مشہور ہیں۔  
 مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ ، بدر ، احد ، خیبر، فدک، حنین، طائف ، تبوک ، غدیر خم، وغیرہ۔
 
حضرت شعیب علیہ السلام کا شہر ''مدین ''تبوک کے محاذ میں بحراحمر کے ساحل پر واقع ہے۔ مقام ''حجر ''میں جووادی القریٰ ہے وہاں اب تک عذاب سے قوم ثمود کی الٹ پلٹ کردی جانے والی بستیوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔ ''طائف '' حجاز میں سب سے زیادہ سرد اورسرسبز مقام ہے اوریہاں کے میوے بہت مشہور ہیں۔
مکہ مکرمہ: حجاز کا یہ مشہور شہر مشرق میں ''جبل ابوقبیس''اورمغرب میں ''جبل قعیقعان'' دوبڑے بڑے پہاڑوں کے درمیان واقع ہے اوراس کے چاروں طرف چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں اورر یتلے میدانوں کا سلسلہ دور دور تک چلا گیاہے۔ اسی شہر میں حضور شہنشاہ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔ اس شہر اور اس کے اطراف میں مندرجہ ذیل مشہور مقامات واقع ہیں۔ کعبہ معظمہ، صفامروہ ، منیٰ ، مزدلفہ ، عرفات ، غارِحرا،غارثور،جبل تنعیم ، جعرانہ وغیرہ۔ 
مکہ مکرمہ کی بندرگاہ اورہوائی اڈا ''جدہ ''ہے۔ جو تقریباً چون کیلومیٹر سے کچھ زائدکے فاصلہ پر بحیرۂ قلزم کے ساحل پر واقع ہے۔ مکہ مکرمہ میں ہر سال ذوالحجہ کے مہینے میں تمام دنیا کے لاکھوں مسلمان بحری، ہوائی اورخشکی کے راستوں سے حج کے لیے آتے ہیں۔
مدینہ منورہ: مکہ مکرمہ سے تقریباً تین سو بیس کیلومیٹر کے فاصلہ پر مدینہ منورہ ہے جہاں مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لائے اوردس برس تک مقیم رہ کر اسلام کی تبلیغ فرماتے رہے اور اسی شہر میں آپ کا مزار مقدس ہے جو مسجد نبوی کے اندر''گنبدخضرا''کے نام سے مشہورہے۔ مدینہ منورہ سے تقریبا ساڑھے چارکیلومیٹر جانب شمال کو''احد ''کا پہاڑ ہے جہاں حق وباطل کی مشہورلڑائی ''جنگ احد''لڑی گئی اسی پہاڑ کے دامن میں حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کے چچا حضرت سید الشہداء حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزار مبارک ہے جو جنگ احد میں شہید ہوئے۔
مدینہ منورہ سے تقریباپانچ کیلومیٹر کی دور ی پر ''مسجد قبا''ہے۔ یہی وہ مقدس مقام ہے جہاں ہجرت کے بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قیام فرمایا اوراپنے دست مبارک سے اس مسجد کو تعمیر فرمایااس کے بعد مدینہ منورہ میں تشریف لائے اورمسجد نبوی کی تعمیر فرمائی۔ مدینہ منورہ کی بندرگاہ ''ینبع ''ہے جو مدینہ منورہ سے ایک سو سترہ کیلومیٹر کے فاصلہ پر بحیرہ قلزم کے ساحل پر واقع ہے۔ خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عرب میں کیوں ؟ 
لیے سب سے زیادہ موزوں اورمناسب مقام ہے۔ خصوصاً حضورخاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ پر نظر کر کے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب افریقہ اوریورپ اور ایشیا کی تین بڑی بڑی سلطنتوں کا تعلق ملک عرب سے تھا توظاہر ہے کہ ملک عرب سے اٹھنے والی آواز کو ان براعظموں میں پہنچائے جانے کے ذرائع بخوبی موجود تھے۔ غالباً یہی وہ حکمت الہٰیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ملک عرب میں پیدا فرمایا اور ان کوا قوام عالم کی ہدایت کا کام سپرد فرمایا۔ (واللہ تعالیٰ اعلم)
عرب کی سیاسی پوزیشن
حضور نبی آخر الزمان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے وقت ملک عرب کی سیاسی حالت کا یہ حال تھا کہ جنوبی حصہ پر سلطنت حبشہ کا اورمشرقی حصہ پر سلطنت فارس کا قبضہ تھااورشمالی ٹکڑا سلطنت روم کی مشرقی شاخ سلطنت قسطنطنیہ کے زیر اثر تھا۔ اندرون ملک بزعم خود ملک عرب آزاد تھا لیکن اس پر قبضہ کرنے کے لئے ہر ایک سلطنت کوشش میں لگی ہوئی تھی اوردرحقیقت ان سلطنتوں کی باہمی رقابتوں ہی کے طفیل میں ملک عرب آزادی کی نعمت سے بہرہ ور تھا۔
عرب کی اخلاقی حالت
عرب کی اخلاقی حالت نہایت ہی ابتر بلکہ بد سے بدتر تھی جہالت نے ان میں بت پرستی کو جنم دیااوربت پرستی کی لعنت نے ان کے انسانی دل ودماغ پر قابض ہو کر ان کو توہم پرست بنادیا تھا وہ مظاہر فطرت کی ہر چیز پتھر ، درخت ، چاند ، سورج ، پہاڑ، دریا وغیرہ کو اپنا معبود سمجھنے لگ گئے تھے اورخود ساختہ مٹی اورپتھر کی مورتوں کی عبادت کرتے تھے۔ عقائد کی خرابی کے ساتھ ساتھ ان کے اعمال وافعال بیحد بگڑے ہوئے تھے، قتل ، رہزنی ، جوا، شراب نوشی ، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا ، عیاشی ، فحش گوئی ، غرض کون ساایسا گندا اورگھناؤنا عمل تھا جو ان کی سرشت میں نہ رہا ہو۔ چھوٹے بڑے سب کے سب گناہوں کے پتلے اورپاپ کے پہاڑ بنے ہوئے تھے۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں