07:44 am
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

07:44 am

میں اگر چند سال بلوچستان میں نہ گزارتا تو شاید آج بھی ہر  ا سکینڈل کو سچ جان کر ہمدردیاں دہشت گردوں کی جھولیوں میں ڈال رہا ہوتالیکن چونکہ خوش قسمتی سے مجھے بلوچستان میں رہ کر ہر مکتبہ ٔ  فکر کے لوگوں سے ملنے ،  ان کے حالات ِ زندگی دیکھنے ،  سمجھنے اور ان پر غور کرنے کے مواقع میسر ہوئے اور پھر خاص طور پر تعلیمی اداروں اور محکمہ ٔ  صحت پر کام کرنے کا موقع ملا۔ان میں سے دیہاتوں اور تحصیل سطح کے سکولوں کے بعد بڑی بڑی جامعات کے ایک سے زیادہ مرتبہ دورے کرنے کے مواقع بھی ملے۔اس لئے ان کے متعلق بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔کوئٹہ شہر میں بیوٹمز یونیورسٹی ،  سردار بہادر خان ویمن یو نیورسٹی ،  یونیورسٹی لاء کالج اور یونیورسٹی آف بلوچستان میں کافی دفعہ جانے کا موقع ملا۔ یہ یونیورسٹیاں ہر دور میں دہشت گردوں کے نشانے پر رہی ہیں ۔بیوٹمز یونیورسٹی اللہ کے خصوصی فضل و کرم سے محفوظ رہی۔ یونیورسٹی لاء کالج کے پرنسپل امان اللہ اچکزئی کو دن دیہاڑے ان کی کار میں گولیوں سے بھون دیا گیاحالانکہ وہ انتہائی شریف النفس شخص تھے۔ویمن یونیورسٹی کے اندر مین چوک میں لڑکیوں کے گروہ میں بم دھماکہ کیا گیاجس سے درجنوں لڑکیاں شہید اور زخمی ہو گئیں ۔
 
اس وقت دہشت گردوں کا مقصد صرف ان لڑکیوں کو شہید یا زخمی کرنا نہیں تھا بلکہ ان کا مقصد خواتین اور ان کے لواحقین کے دلوں میں دہشت گردی کا ڈر اور خوف و ہراس پیدا کر کے انہیں تعلیم سے روکنا تھا۔لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں طالبات کی تعداد کم ہونے کی بجائے کئی گنا زیادہ ہو گئی ۔اسی طرح بلکہ اس سے کہیں بڑی سازش کر کے زیادہ خوفناک دہشت گردی کی واردات یونیورسٹی آف بلوچستان میں کی گئی اور پھر ہمارے غیر ذمہ دار میڈیا نے اس پر پٹرول چھڑک کر وہ آگ لگائی کہ ہر شخص کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔واردات ویمن یونیورسٹی اور بلوچستان یونیورسٹی کی ایک جیسی تھی۔دونوں وارداتوں کا ماسٹر مائینڈ ایک ہی گروپ محسوس ہوتا ہےکیونکہ دونوں وارداتیں کرنے والے کامقصد ایک ہی ہے کہ کسی بھی طریقے سے بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے دور رکھا جائے اور خاص کر خواتین تو جامعات میں داخلے کا سوچیں بھی نہیں ۔بلوچستان یونیورسٹی میں خفیہ کیمروں کے استعمال اور خاص طور پر واش رومز میں خفیہ کیمرے پکڑے جانے پر صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں تھر تھلی مچ گئی اور لوگوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اس میں بلوچوں اور پختونوں کی جان پر نہیں بلکہ ان کی غیرت پر حملہ کیا گیا۔خفیہ کیمروں کی جھوٹی خبر یا جھوٹے پروپیگنڈے نے اتنی تیزی سے پورے بلو چستا ن میں گردش کی جس سے معلوم ہوا کہ جیسے پوری تیاری اور پورے منصوبے کے تحت ایک ہی دہشت گردی کے دونوں دھماکے اکٹھے ہوئےکیونکہ ادھر افواہ پھیلی اور ادھر بغیر تحقیق کے سوشل میڈیا پر نادان اور غیر ذمہ دار اینکروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔یہ حقیقت ہے کہ کچھ دیر کے لئے وہ تمام والدین جن کی بچیاں یونیورسٹی میں پڑھتی یا پڑھاتی ہیں وہ فکر مند ضرور ہوئے ہونگے لیکن میں ذاتی طور پر اس یونیورسٹی کا کئی دفعہ دورہ کر چکا ہوں اور اس کے سخت ترین نظم و ضبط سے اچھی طرح باخبر ہوں۔
خاص طور پر آرمی کے ادارے ایف سی کی موجودگی میں ایسی کسی بھی حرکت کا سوچنا بھی شاید گناہ کے زمرے میں آتا ہو کیونکہ ایک تو ان لوگوں کی وہاں مستقل ڈیوٹی نہیں ہوتی،  ہردو چار ماہ کے بعد عملہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔دوسرا وہ کسی کو ایسی حرکت کرنے بھی نہیں دیتے۔وہ ہر وقت چوکنا رہتے ہیں اور ایسی حرکتوں اور نقل وحمل سے آگاہ رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود چونکہ معاملے کی حقیقت پوری طرح سامنے نہیں آئی  اس لئے حتمی رائے نہیں دے سکتا۔اس گمراہ کن خبر کے ساتھ طلباء کے ایک گروپ نے یہ مطالبہ شروع کر دیا کہ ایف سی کو یونیورسٹی سے ہٹایا جائے اور یونینز کو بحال کیا جائے۔اس مطالبے کے حق میں صرف 10/12 لڑکے  بینر لگا کے بیٹھے ہوئے دکھائے بھی گئے۔ 15000کی تعداد میں دس بارہ بچوں کی یہ حرکت کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ 
ان کے دونوں مطالبات غلط اور نہ مانے جانے والے ہیں۔ایک تو اگر وہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تو انہیں ایف سی کے جوان چبھتے کیوں ہیں اِن کا اُن سے واسطہ کیا ہے؟ جبکہ وہ انہی کی جانوں کی حفاظت کے لئے ہر وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔دوسرا یونینز کی بحالی کے ساتھ ہی یونیورسٹی میں قتل وغارت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔اس یونیورسٹی میں بلوچ گروپ،  ہزارہ گروپ اور پشتون گروپ کے علاوہ غیر بلوچستانی گروپ بہت مضبوط ہیں اور ان میں دہشت گردتنظیموں کے طالبعلم بھی ہیں ۔جس دن یونینز کو بحال کیا گیا اس دن حالات انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے۔میرے ذاتی تجربے اور تجزیے کے مطابق یہ دونوں مطالبات تعلیم دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والے لوگوں کے ہیں ۔اس یونیورسٹی میں ایف سی کی موجودگی باعثِ رحمت ہے ۔ طلباء و طالبات بے فکر ہو کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
تعلیم دشمن اور امن دشمن لوگوں کے پروپیگنڈے کے اثر کو  زائل کرنے کے لئے میڈیا پر خبریں شائع کی جائیں تاکہ طالبات اور ان کے لواحقین کا خوف دور ہو سکے ۔ خاص طور پر ان طالبات کے تحفظات کا خیال رکھا جائے جنہوں نے آنے والے سالوں میں اس یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہے۔اگرکیمرہ اسکینڈل کے جرم میں کوئی بندہ شریک ہے تو اس کو سخت ترین سزا دی جائے۔ ان لوگوں کا بھی محا سبہ کیاجائے جنہوں نے یہ گھناؤنی سازش تیار کی ہے۔بم سے اڑانے والی خبر سے یہ بڑی اوربُری خبر تھی۔ ہمارے پڑوسی غیر مسلم ازلی دشمن نے اس خبر پر ہمارا کس قدر مذاق اڑایا،  کتنی بے عزتی کی گئی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہےلیکن اس بے عزتی اور سازش کا اثر زائل کرنے کے لئے وائس چانسلر کو بحال کر کے یونیورسٹی کو پہلے کی طرح اپنی سمت پر رواں دواں کر دینا چاہیئے۔پاکستان کا مایہ ٔ  ناز  تفتیشی  ادارہ ’’ایف آئی اے‘‘ سر توڑ کو شش کر کے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس معاملے میں مزید تیزی کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان خصوصاً بلوچستان کے عوام پریشان ہیں اور ہندوستان کا میڈیا اس معاملے پر بہت کیچڑاچھال رہا ہے۔اس معاملے میں دیر نہیں کرنی  چاہیے کیونکہ جتنی دیر کی توپھر یہی ہوگا۔’’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘۔

تازہ ترین خبریں