07:45 am
انمول ہیرا

انمول ہیرا

07:45 am

چلیے آج لمبی چوڑی کہانی کوچھوڑ دیتے ہیں،جوہوگا دیکھاجائے گا۔پچھلے دنوں میں نے جوکچھ پڑھااور سنا،آپ سے کہہ سن لیتا ہوں۔جرات بھی دل سوزی، شفقت اوررحم دلی کی طرح انسانی معراج کاایک زینہ ہے۔آج تک کوئی جرات اوربہادری کے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کرسکا۔جرات اس تین منزلہ مکان کانام ہے جس کے اندرانسان بستاہے۔ انسانی وجود کے تین حصے ہیں۔ پہلاجسمانی، دوسراذہنی اورتیسرا روحانی۔ ان تینوں حصوں یامنزلوں کاہونابہت ضروری ہے کہ اس کے بغیرانسان کی زندگی کا آگے بڑھنا،اس کانشوو نماپاناناممکن ہے۔جرات آپ سے تقاضہ کرتی ہے کہ آپ اپنے اوردوسروں کے حقوق کیلئے کھڑے ہوجائیں اورانہیں منوانے کیلئے سینہ سپرہوجائیں۔ جرات آپ کومجبورکرتی ہے کہ آپ اپنے آپ کو،اپنے معاشرے کو،اپنے ملک کوتعمیر کرنے کیلئے سختی اورشقاوت کی بجائے محبت اورشفقت سے کام لیں، تشکیک کی بجائے ایمان کے اندرزندہ رہیں۔مایوسی کے مقابلے میں امیدکے سہارے، مشکلات کے نیچے دبنے کی بجائے ان پرحاوی ہوکر خوداعتمادی کی جرات پیداکریں۔غلطیاں تسلیم کرنے کی جرات اورخودکو کامل نہ پاکررونے بسورنے سے احتراز کریں۔ یہ ہیں صحیح جرات کے مظاہر!
باوجوداس کے کہ آپ اپنے اندرایک جزیرہ ہیں لیکن یہ جزیرہ انسانوں کی دنیامیں آباداوران کے درمیان واقع ہے۔کسی نے کہاہے کہ ہم فکرمندنہیں ہوں گے توبھوکے مرجائیں گے اوراگرفکرکرتے رہیں گے توپاگل خانے میں جاکرفوت ہوجائیں گے۔زندگی ان دنوں اس قدرمشکل ہوگئی ہے کہ ہمیں ڈھنگ سے فکرکرنابھی نہیں آتا۔ہم بھارتی حملہ آوروں کی فکر کرتے رہیں گے اوراپنے پڑوسی کی کارکے نیچے آکر دب کرمرجائیں گے۔ہم ہوائی جہازکے کریش سے خوفزدہ رہیں گے اورسیڑھی سے گرکرفوت ہو جائیں گے۔ہم دوسروں سے ورزش نہ کرنے کی شکائت کرتے رہیں گے اورگھرکے سامنے لگے ہوئے لیٹر بکس میں خط ڈالنے کیلئے گیراج سے کارنکالیں گے۔ ہم فکرمندی کے فن سے بھی ناآشنا ہو گئے ہیں اورہم صحیح فکرکرنابھی بھول گئے ہیں۔فکرکرنا ایک اچھی بات ہے اوراس سے بہت سے کام سنورجاتے ہیں۔بچے پل جاتے ہیں،گھرچلتے ہیں،دفترکانظام قائم ہوتاہے، بزرگوں کی نگہداشت ہوتی ہے۔فکرمندی ایک صحت مندانہ قدام ہے،یہ کام کرنے پراکساتی ہے لیکن سب سے ضروری فکراپنی روح کی ہونی چاہئے اورسب سے اہم فیصلہ یہ ہوناچاہیے کہ ہم اپناابدکہاں گزاررہے ہیں اورکیساگزاررہے ہیں۔یہ سوچناچاہئے کہ اگرہمیں ساری دنیاکی دولت مل جائے اورہماری روح میں گھاٹاپڑجائے،توپھریہ کیساسوداہے؟
انسان ضرورت سے زیادہ فکرکیوں کرتاہے؟یہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان خود کو خدا سمجھنا شروع کردے اب ہرشئے کا بوجھ میرے کندھوں پر ہے۔ انسان خداکابوجھ بھی اپنے کندھے پر اٹھانا چاہتا ہے جووہ کبھی بھی نہیں اٹھاسکتا۔اس فکرمندی کے وجود میں آنیکی وجہ ایک چھوٹاسالفظ ’’اگر‘‘ہوتی ہے۔اگریہ ہوگیا،اگروہ ہوگیا،اگراس نے یہ کہہ دیا، اگرلوگوں نے باتیں بناناشروع کردیں!
ایک اعلی عہدے پرفائزاپنے اندیشوں اورفکر مندیوں کی ڈائری لکھاکرتے تھے جن سے وہ خو فز د ہ رہتے تھے۔سال بعدجب ڈائری دیکھتے توان ہزارہا اندیشوں اورفکروں میں سے کوئی ایک آدھ ہی ان کو چھوکرگزرے تھے۔اس کے مقابلے میں ایک دنیاوی طور پران پڑھ عورت،جوبھرپورجوانی میں بیوہ ہوگئی۔ چھ معصوم بچوں کابوجھ،کام نہ کاج‘ کہنے لگی کہ میں نے صرف دو روپے کے کاغذپراپنے اللہ سے شراکت نامہ کر لیا۔ایک بھوکے آدمی نے صدا لگائی،جیب میں دوہی روپے تھے،نکال کراس کے ہاتھ پررکھ دیئے، اس طرح میرے رب سے میری شراکت شروع ہوگئی اورکہاکہ کام میں کرتی جاؤں گی،فکرمیری جگہ تم کرنا۔ میراکریم ورحیم رب راضی ہوگیا،بس اسی دن سے ہماراشراکت کا کاروبار بڑی کامیابی سے چل رہاہے۔    
رات کوسونے سے پہلے میں یہ ضرور دعاکرتا ہوں!یااللہ!دن میں نے پورازورلگاکرتیری مرضی کے مطابق گزاردیا،اب میں سونے لگاہوں،رات کی شفٹ اب توسنبھال،بڑی مہربانی ہوگی۔جب ہم ایساکچھ کرتے ہیں توہمارااندربتاتاہے کہ یہ توگناہ ہے، توہم اپنی عزتِ نفس سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔پھراپنے ساتھ رہنابھی مشکل ہوجاتاہے پھرہم ندامت کامقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔زندگی مشکل ہوجاتی ہے،ضمیر ہروقت ملامت کرتارہتاہے۔اب ہم یاتواس کوبھول جائیں،یااسے دماغ سے نکال دیں لیکن یہ دونوں کام ہی مشکل ہو جاتے ہیں۔اس کے برعکس ایک فعلِ ندامت،پشیمانی اورتوبہ ہے۔جب ہم اپنے کریم رب کے سامنے اپنی تمام بے بسی ، ندامت کے احساس کے ساتھ سجدے میں گرکرتوبہ کی درخواست اپنے آنسوئوں کی تحریرکی شکل میں۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں