07:49 am
فضل الرحمٰن کا کھلا اعلان جنگ، فوج کا سخت جواب!

فضل الرحمٰن کا کھلا اعلان جنگ، فوج کا سخت جواب!

07:49 am

٭کھلا اعلان جنگ، فضل الرحمان کا وزیراعظم کو گرفتار کرنے کا اعلانOفوج کی طرف سے سخت جواب، ’’ملک کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘ فوجی ترجمانO چور اکٹھے ہو گئے ہیں، استعفا نہیں دوں گا، عمران خانO آزادی مارچ! بھارت میں والہانہ خوشی کا اظہارO سکھر ایکسپریس میں بھی آگ لگ گئی، جانی نقصان نہیں ہواO بحران کی صورت میں حکومت چلنے کی حمائت کریں گے: راجہ پرویز اشرفO پرویز مشرف کی جائیدادیں، اکائونٹس ضبطO نوازشریف، حالت پھر خراب ڈاکٹر پریشانO سویڈن کی سفیر نے رکشا کا لائسنس لے لیا، رکشا چلایاO آزادی مارچ جلسہ کا ناشتہ، چائے، حلوہ، خشک پھل، 10 ہزار لوٹے پہنچا دیئے گئے!
٭مولانا فضل الرحمن نے کھلا طبل جنگ بجا دیا۔ عمران خان کو گرفتار کرنے کے علاوہ پاکستان کی فوج پر بھی ’حملہ‘ کر دیا۔ فوج کو باقاعدہ چیلنج کر دیا کہ ہمیں روک کر دکھائو! فضل الرحمان نے عمران خان کو استعفے کے لئے دو دن کی مہلت دی اس کے بعد ڈی چوک پر بھی قبضہ کا اشارہ کر دیا۔ صرف دو گھنٹے بعد فوج کے ترجمان جنرل آصف غفور کا بیان آ گیا کہ ’’ہوش میں رہو، ملک کی سلامتی کا تحفظ فوج کی ذمہ داری ہے، ملک کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘ ادھر عمران خان، چل سو چل! گلگت جا کر فضل الرحمان کے بارے میںبار بار ڈیزل کا نام لے لیا اور ساتھ میں شہباز شریف اور بلاول زرداری کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ وزیر دفاع اور دوسرے وزراء کی کھلی دھمکی کہ پرامن رہنے کے معاہدہ کی ذرا بھی خلاف ورزی کی تو سختی سے نمٹا جائے گا۔ ’جنگی محاذ‘ کے دونوں طرف ہنگامی اجلاس شروع ہوگئے اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر کالعدم ہونے والی ریاست کشمیر کے 80 لاکھ قیدی باشندے پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ ہوش ربا منظر دیکھ رہے ہیں!
٭میں نے ہمیشہ اپنی تحریروں میں احتیاط اور اعتدال سے کام لیا ہے، ٹھنڈے دماغ سے حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے مگر جب میرا گھر ہی تباہ کئے جانے کی خوفناک سازشیں کی جا رہی ہوں تو کہاں کی احتیاط، کون سااعتدال؟ میں کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ جن لوگوں نے قیام پاکستان کی کھلی مخالفت کی، اسے عمر بھر تسلیم نہ کیا، وہ آج، 72 سال بعد، اس انداز میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے بھارت میں والہانہ جشن منایا جا رہا ہے۔ اپنی ود آبائی نشستوں پر الیکشن ہارنے کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ اسی ’دھاندلی‘ والے الیکشن میں بیٹا قومی اسمبلی کا رکن بن گیا اب تک وہاں موجود ہے، بھاری تنخواہیں، الائونس اور بھتے وصول کر رہا ہے۔ ’انتہائی دھاندلی‘ والی اسی اسمبلی سے فیض یاب ہونے والے بیٹے کو اسمبلی کا سپیکر بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ اسی دھاندلی والی تحریک انصاف کے دور اقتدار میں اسی ’دھاندلی زدہ‘ اسمبلی کی حمائت سے خود ملک کا صدر بننے کی بھاگ دوڑ کی۔ (ایک بار وزیراعظم بنائے جانے کا مطالبہ بھی کیا تھا)۔ اسی ناقابل قبول پاکستان میں محض چند نشستوںکے زور پر وزارتیں، سینٹ کے ڈپٹی سپیکر کا عہدہ، کشمیر کمیٹی کا 10 سال تک عہدہ (50 کروڑ کے فنڈز، کبھی حساب نہ دیا)، اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمینی! کیا کیا فائدے نہ اٹھائے؟ بھارت جا کر پاکستان دشمن وزیراعظم کی پُرتپاک، پُرخلوص، میزبانی کا لطف اٹھایا! کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر کبھی ایک بار بھی کنٹرول لائن پر جانے کی توفیق نہ ہوئی بلکہ پاکستان یا آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے کوئی جلسہ، جلوس، کوئی عوامی ریلی؟ اور اب پورے صوبہ پختونخوا کو افغانستان کا حصہ قرار دینے والے محمود اچکزئی اور پاکستان میں دفن نہ کئے جانے کی وصیت والے بھارت نواز سیاست دان کے پوتے کے ساتھ مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے براہ راست اعلانات اور فوج کو خطرناک مقابلے کی دھمکیاں!! کس کس بات کا ذکر کیا جائے؟
٭مجھے پہلے بھی بہت سی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ اب زیادہ ہو جائیں گی مگر میں نے 1947 میں 15 اگست کو شکر گڑھ کی سرحد پر اپنے نصف خاندان کو شہید ہوتے دیکھا، اپنے سگے چچا سید عبدالمجید کو گولی لگتے راوی دریا میں گرتے دیکھا۔ یہ منظر عمر بھر میری آنکھوں، میرے دماغ پر چھایا رہا ہے۔ اس وطن کے لئے میرے خاندان کے علاوہ لاکھوں دوسرے افراد نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ میں نے پاکستان کے کیمپوں میں لاکھوں مہاجرین کی حالت زار زخمیوں سے بھرے ہسپتال دیکھے! کیسے بھول جائوں ان قربانیوں کو؟
٭آج بولنا پڑا ہے تو میں نوازشریف، شہباز شریف، آصف زرداری، اور بلاول زرداری سے سیدھا سوال کر رہا ہوں کہ تم لوگوں نے قیام پاکستان کی خاطر کیا قربانیاں دیں! فضل الرحمان، محمود اچکزئی، اسفند یار ولی کے خاندانو ںنے تو کبھی تحریک پاکستان کی کھلی مخالفت سے انکار نہ کیا! الطاف حسین پاکستان میں پیدا ہوا اور مہاجر بن کر بھارت کی گود میں جا بیٹھا! یہ تمام لوگ مجھے بتائیںکہ جب یکم نومبر کو مقبوضہ ریاست کشمیر کے ٹکڑے کرنے کی اذیت ناک کارروائی کی جا رہی تھی، تم میں سے کسی نے اس پر ایک لفظ کا بھی احتجاج کیا! کشمیر ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا اور قیام پاکستان کا دعویٰ کرنے والی مسلم لیگ کا نام استعمال کرنے والی ن لیگ پستی کی اس حد تک پہنچ گئی کہ پاکستان کے مخالفین کی گود میں جا بیٹھی! کسی کو قائداعظم کی جانشینی، لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں اور کشمیر کی حالت زار یاد نہ رہی! اور نہ چاہنے کے باوجود ذکر کرنا پڑ رہا ہے ایک نوعمر لڑکے بلاول زرداری کا؟ لیاری اور لاڑکانہ سے اپنی خاندانی نشستوں پر بری طرح شکست کے بعد وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہا ہے! آج تک پتہ نہ چل سکا، تعلیم کیا ہے؟ اُردو اور سندھی نہ لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے! باپ ہسپتال میں تڑپ رہا ہے اور بیٹا تقریریں کرتا پھر رہا ہے!!
٭مگر دوسری طرف بھی کیا عالم ہے۔’’ایسے عالم میں کہ وزیراعظم نے مخالفین کو خود ہی اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت دی اور پھر خود ہی ان کے خلاف بے قابو ہو کر گالیاں دینی شروع کر دیں!‘‘ ایسے نازک موقع پر حکومتی ذمہ داروں پر بے حد بردباری، رواداری، نرم لہجے اور الفاظ کے چنائو میں نہائت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، مگر وزیراعظم نے گلگت جا کر جلسہ عام میں آزادی مارچ والوں کے بارے میں جو سخت کلامی کی، اس سے مخالفین کی آگ مزید بڑھک گئی! کس کس کو کیا سمجھایا جائے؟ ایسے میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی مدبرانہ، سنجیدہ آواز راستہ دکھا رہی ہے کہ ملک میں کوئی بحران پیدا ہوا تو ہم حکومت کو چلنے دیں گے، جو کچھ کرنا ہے، پارلیمنٹ میں کریں گے! یہی صحیح راستہ ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ ملک قائم رہتے ہیں۔ کل نوازشریف، آج عمران خان، کل پتہ نہیں کون؟ مجھے یقین ہے راجہ پرویز اشرف جیسے محب وطن عناصر ملک و قوم کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ خدا تعالیٰ اس عظیم وطن کی حفاظت کرے!
٭آج کچھ اور لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ عمر بھر بہت کچھ لکھا ہے، لکھا جاتا رہے گا۔ دل پر بوجھ ہے۔ تاہم کچھ دوسری باتیں! ایک دلچسپ بات یہ کہ آزادی مارچ کے جلسے میں 10 ہزار لوٹے پہنچا دیئے گئے ہیں۔ 80 ہزار لٹر پانی بھی آ گیا ہے۔ جے یو آئی اسلام آباد کے امیر عبدالمجید ہزاروی کے مطابق دھرنے میں 20 لاکھ افراد موجود ہیں! ان کے لئے 10 ہزار لوٹے! (200 آدمیوں کے لئے ایک لوٹا!)
٭سویڈن کی خاتون سفیر مس انگرڈ جوہاسن کو پاکستان میں چلنے والا رکشا بہت پسند آیا۔ لاہور میں چوہنگ کے علاقے میں پولیس کے ٹریننگ سنٹر میں جا پہنچیں، رکشا چلا کر دکھایا اور لائسنس کی درخواست دے دی۔ فوراً لائسنس مل گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ واپس جاتے ہوئے سویڈن میں ایک رکشا لے کر جائیں گی۔ شائد اسی میں اپنے دفتر جایا کریں گی! کچھ عرصے پہلے ایک امریکی سفارت کار کو پاکستان کا تانگہ گھوڑا بہت پسند آیا۔ خاص طور پر ایک خوبصورت تانگہ بنوایا، خوبصورت گھوڑا خریدا اور اسے امریکہ میں اپنی زمینوںپر سیر کے لئے لے گیا۔
٭نوازشریف کے پلیٹ لٹس 55 ہزار تک بڑھ گئے تھے، پھر38 ہزارپرگر گئے۔ ڈاکٹر بہت پریشان ہیں!

تازہ ترین خبریں