07:07 am
شہداء تیز گام حادثے کے ملبے تلے

شہداء تیز گام حادثے کے ملبے تلے

07:07 am

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بغیر تحقیقات کیے یہ تو کہہ دیا کہ تیز گام میں آگ ’’مسافروں‘‘ کی غلطی سے لگی،
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بغیر تحقیقات کیے یہ تو کہہ دیا کہ تیز گام میں آگ ’’مسافروں‘‘ کی غلطی سے لگی، ان کے بقول آگ سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے لگی جبکہ عینی شاہد مسافر دہائیاں دے رہے ہیں کہ آگ سلنڈر نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی، لیکن اگر شیخ رشید کے موقف کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو پھر بھی ریلوے حکام کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے پوچھا جاناچاہیے کہ سلنڈر ٹرین کے اندر کیسے پہنچا؟ کسی بھی مسافر کو ٹرین میں سلنڈر لے جانے کی اجازت کیوں دی گئی؟
75 پاکستانی زندگی کی بازی ہار گئے اور شیخ رشید نے ڈھٹائی کی تمام حدوں کو توڑتے ہوئے بغیر  کسی انکوائری کے ’’غلطی‘‘  بھی شہیدوں کے سر منڈھ کر ان کے لواحقین کے زخموں پر جس طرح سے نمک چھڑکاہے اسے کم سے کم لفظوں میں سگندلی اور شقاوت قلبی کی انتہا ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔
مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ وزیراعظم سمیت کسی بھی وفاقی وزیر کا رویہ عوام دوست نہیں ہے اور شیخ رشید کہ جو پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے جلسوں میں مار دو، آگ لگا دو  کے نعرے گلے پھاڑ پھاڑ کر لگایا کرتے تھے ان سے عوام دوست رویئے کی توقع رکھنا ہی عبث ہے … وہ حقائق کو بھی جگت بازیوں اور مداریوں کی طرح پیشن گوئیوں کے ذریعے مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ سانحہ تیز گام میں شہید ہونے والے مسافروں کی غلطیاں گنوانے کی بجائے پہلے ان کے لواحقین کے غم میں شریک ہوکر  فوری طور پر انکوائری کا اعلان کرتے اور انکوائری کے بعد جو رپورٹ سامنے آتی اسے  عوام کے سامنے رکھتے، لیکن ٹرین کی بوگیوں میں بھڑکتی آگ کے دوران ہی انہوں نے مسافروں کی ’’غلطی‘‘ قرار دیکر جس طرح سے اپنی وزارت بچانے کی کوشش کی اس نے پاکستان کے 22کروڑ انسانوں کے دلوں کو زخمی کر ڈالا، یہ خاکسار گزشتہ رات سے چترال میں ہے، یقین کریں کہ چترال میں جس سے بھی ملاقات ہو رہی ہے وہ سب سے پہلے شہداء تیز گام کے حوالے سے شیخ رشید کے بے حسی اور سگندلی کے رویئے اور پھر مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ پر گفتگو کرتاہے۔لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر پاکستان کی جان  ان سے کب اور کیسے چھوٹے گی؟ جنہیں آگ سے جلی ہوئی 75 پاکستانیوں کی لاشوں کا احترام نہیں ہے وہ زندہ انسانوں کو کیا دے سکتے ہیں؟آج شیخ رشید کی ریلوے ایک ایسا مست ہاتھی بن چکی ہے کہ جس کی خرمستیوں نے مسافروں کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ شیخ رشید کی پریس کانفرنسوں میں کئے جانے والے ترقی کے دعوئوں کے خواب آنکھوں میں سجائے جب کوئی مسافر ٹرین میں سفر کرتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ پریس کانفرنسوں میں کئے جانے والے ’’ترقی‘‘ کے دعوئوں اور عملی صورتحال میں کس قدر فرق ہوتا ہے۔
ٹھیک کہا جناب شیخ نے کہ غلطی مسافروں کی تھی … یہاں غلطی مرنے والوں کی ہی ہوتی ہے ، کہا جاتاہے کہ شیخ رشید کے ’’مبارک‘‘ دور وزارت میں ٹرینوں کے نوے حادثات ہوچکے ہیں، یقینا یہ سارے حادثے عوام کی غلطیوں کی وجہ سے ہی پیش آئے ہوں گے ؟ غالباً یہ2012 ء کا سال تھا کہ جب کراچی بلدیہ ٹائون کے علاقے میں ایک گارمنٹس فیکٹری میں لگنے والی آگ نے ڈھائی سو سے زائد مزدوروں کو زندہ جلا دیا تھا یقینا یہ غلطی بھی ان مزدوروں کی ہی ہوگی … ورنہ اگر غلطی دہشت گردوں کی ہوتی تو اب تک انہیں سزا نہ مل چکی ہوتی؟ ناقدین شیخ رشید سے مطالبے کررہے ہیں کہ وہ اپنی وزارت سے مستعفی ہو جائیں، کیوں بھائی؟ کیا وزارتیں مستعفی ہونے کے لئے لی جاتی ہیں؟ شیخ رشید اور استعفیٰ توبہ توبہ، عوام کو وزیرارعظم عمران خان پر بھی غصہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک شیخ رشید سے استعفیٰ کیوں نہیں طلب کیا؟ بھولے عوام کو کوئی بتائے کہ عمران خان کی ڈکشنری میں استعفیٰ دینا اور اپوزیشن کا کام  ہے حکومتی وزیروں کا نہیں، اس لئے جسے شیخ رشید کا استعفیٰ چاہے وہ خود ہی شیخ رشید کی طرف سے استعفیٰ لکھ کر جیب میں ڈال کر یہ سمجھ لے کہ جناب شیخ کا استعفیٰ آگیا، ورنہ ان تلوں میں تیل نہیں ہے،یہاں کوئی چپڑاسی گیری چھوڑنے کیلئے  تیار نہیں ہوتا ، وزارت تو پھر وزارت ہے اور وزارت بھی ریلوے کی، سبحان اللہ۔
میری جناب شیخ رشید سے درخواست ہے کہ بالکل بھی وزارت سے استعفیٰ مت دیں بلکہ ایلفی لگاکر وزارت سے چمٹے رہیں، جس طرح مچھلی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی بالکل اسی طرح شیخ رشید کا وزارت کے بغیر رہنا محال ہے۔ انسان تو مرتے، جیتے رہتے ہیں، ٹرینوں کے حادثات ہونا بھی کوئی انہونی بات نہیں ہے، ہاں البتہ اگر وزارت چلی گئی تو پھر جناب شیخ کیا کریںگے؟
ٹرین کے مسافر زنجیر کھینچ کر جلتی ہوئی ٹرین روکنے کی کوشش کرتے رہے مگر زنجیر بھی خراب تھی، ان بے چاروں کو کوئی بتاتا کہ ’’زنجیر‘‘ تو عوام کے پائوں اور ہاتھوں میں  ڈالنے کے لئے ہوتی ہے، ٹرینوں میں بھلا ’’زنجیر‘‘ کا کیا کام؟ بلاول زرداری نے انکوائری تک شیخ رشید کی برطرفی کا مطالبہ کرکے ہم جیسے طالبعلموں کو حیران کر دیا، بلاول  جناب شیخ کو اچھی طرح جانتے ہیں، خوب اچھی طرح  اس لئے انہیں چاہیے کہ وہ فوری طور پر یہ مطالبہ واپس لے لیں وگرنہ شیخ رشید کی جگتوں سے بچنا ان کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ 
جس پاکستان کے وفاقی وزراء کی جگتوں سے پیشہ ور جگت باز بھی پناہ مانگتے ہوں اس پاکستان میں ترقی کا کیا عالم ہوگا۔ کہیں حساس عمارتوں میں حریم شاہ کی سیلیفاں اور کہیں  وزارتوں پر بیٹھے ہوئے جگت باز، عوام اگر چیخیں اور چلائیں نہ تو پھر کیا کریں؟
حکومتوں کا کام سنجیدگی، متانت اور تدبر کے ساتھ معاملات کو حل کرنا ہوتا ہے، جہاں سنجیدگی ناپید ہو جائے وہاں معاملات بگڑا کرتے ہیں حل نہیں ہوا کرتے۔ حکومت کے وزیر اگر خود ہی غیر سنجیدگی کا شاہکار بن جائیں تو پھر جرم تو ان مسافروں کا ہی بنتا ہے ، انہیں کس نے مشورہ دیا تھا کہ وہ ٹرین کی مہنگی ٹکٹ خرید کر شیخ رشید کی ٹرین میں سوارہوں؟ ایک ہی شہر میں جنازوں کی قطاریں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتاہے، میرا ملک کن ’’بونوں‘‘ کے ہتھے چڑھ چکا ہے کہ جو یہ بھی نہیں جانتے کہ اگر حادثات ہو جائیں تو مرنے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کی جاتی ہے ناکہ مرنے والوں کی غلطیاں گنوا کر حادثے کا ملبہ ہی مردوں پر ڈال دیا جائے؟
 

تازہ ترین خبریں