07:09 am
مدتیں ہو گئیں خطا کرتے 

مدتیں ہو گئیں خطا کرتے 

07:09 am

پانچ سالوں میں دو آزادی مارچ اور دو دھرنے، کیسے ممکن ہے کہ تقابل نہ کیا جائے جبکہ کرسیاں بھی تبدیل ہو چکی ہوں۔
پانچ سالوں میں دو آزادی مارچ اور دو دھرنے، کیسے ممکن ہے کہ تقابل نہ کیا جائے جبکہ کرسیاں بھی تبدیل ہو چکی ہوں۔ عمران خان کے دھرنے میں بہت کچھ ہوا تھا اب مولانا فضل الرحمان کی باری ہے، ابھی تو دھرنے کو ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا۔ یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ اگر معاہدے کے باوجود تحریک انصاف ڈی چوک تک آ سکتی ہے تو جمیعت علمائے اسلام کیوں نہیں، اگر عمران خان کنٹینر پر کھڑے ہو کر وزیر اعظم، پارلیمان اور بیوروکریسی کو للکار سکتے ہیں تو مولانا کیوں نہیں، بہت کچھ ایسا ہے جسکا موازنہ کیا جا رہا ہے اور کیا جاتا رہیگا۔ سو پان کی دکان سے لیکر پرائم ٹائم ٹی وی پروگرامز تک صرف یہی موضوع زیر بحث ہے۔ لگتا کچھ یوں ہے کہ پاکستان میں سیاست کے سوا کوئی اور مسئلہ نہیں، سڑک چھاپ دانشوروں سے لیکر سیاسی و عسکری تجزیہ کار تک، ہر شخص سیاسی اختلاج کا شکار نظر آتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان اسلام آباد میں ڈیرہ ڈال چکے ہیں، دو دن کی ڈیڈ لائن بھی ہے، مگر ڈیڈلائن کے بعد کی صورتحال میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کہاں تک اور کتنا ساتھ دیتی ہے یہ سوال خاصا اہم ثابت ہو گا۔ اب تک جو صورتحال دیکھنے میں آئی ہے بلاول بھٹو اور شہباز شریف مہمان مقرر کے طور پر شریک رہے ہیں، آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا؟ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں یہ تاثر راسخ ہے کہ ہر قدم ٹھوک بجا کر اٹھاتے ہیں، ہر لفظ تول کر بولتے ہیں، اسلام آباد پہنچنے کے بعد ان کا لہجہ اور رویہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے پہل پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ مذھبی کارڈ کے استعمال میں شریک نہ ہونگے مگر اب مولانا سیاسی اور مذھبی کارڈ دھڑلے سے استعمال کر رہے ہیں اور تادم تحریر پیپلز پارٹی ساتھ ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ اپوزیشن ہی نہیں حکومت بھی تو مذہبی کارڈ کا استعمال کرتی رہی ہے، بار بار ریاست مدینہ کا حوالہ کیا مذہبی جذبات کا ابھارنے کا ہتھکنڈہ نہیں ہے، گوکہ تاثیر میں فرق ہے مگر بہرحال مذہب کو بطور سیاسی ہتھیار تو استعمال کرنے کی تاریخ خاصی پرانی ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہ بڑی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے مولانا فضل الرحمان کو ضرورت سے زیادہ غیر سنجیدہ لیا مگر اب خاصا پریشان نظر آتے ہیں، جو قائدین پہلے طنزیہ مسکراہٹ کیساتھ کنٹینر اور کھانے پینے کی سہولیات فراہم کرنے کے وعدے کرتے تھے، انہی کنٹینرز سے راستے بند کرنے کے اعلانات کرتے نظر آئے، جب عدالتی احکامات آئے تو کنٹینرز ہٹائے گئے، مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا، گویا حکومت حسب معمول اس معاملے پر بھی کنفیوژن کا شاہکار نظر آئی، کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کرنا ہے، کیوں کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے؟
خیر اس دوران دو، تین واقعات ایسے ہوئے ہیں جن پر بات نہ کرنا ناانصافی ہو گی، حافظ حمداللہ کی پاکستانی شہریت منسوخ کر دی گئی، حیراں ہو دل کو روئوں یا پیٹوں جگر کو میں، ایک ایسا شخص جو صوبائی وزیر رہا، سینیٹ کا رکن ہو اسکی شہریت منسوخی کا اعلان خود حکومت پر بڑا سوالیہ نشان اور انتظامیہ کی فکری تنزلی کا شاہکار ہے۔ مفتی کفایت اللہ کو بھی پراسرار وجوہات پر گرفتار کیا گیا بہرحال دونوں حضرات کو عدالت کے ذریعے ریلیف ملا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا موجودہ دور میں اس طرح کے فرسودہ ہتھکنڈے استعمال کرنیوالے انتظامی و سیاسی دانشوروں کی عقلی سطح پر کس طرح ماتم کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمان، حافظ حمداللہ، مفتی کفایت کی سیاست و نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، جمیعت علمائے اسلام کے کردار پر تنقید کی جا سکتی ہے مگر اس قسم کے غیر آئینی و قانونی اقدامات کی بھرپور مخالفت ہر پاکستانی کا حق ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں ہوا پیمرا کی جانب سے ایک عجیب و غریب قسم کا ہدایت نامہ جاری کیا جس میں اینکرز پر ایک دوسرے کے پروگراموں میں جانے پر پابندی اور موضوعات پر قابل ماہرین کو مدعو کرنے کے بارے اقوال زریں سے آگاہ کیا گیا۔ بخدا میری عقل کام نہیں کرتی ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے یا پھر انتظامیہ حکومت کو الو بنا رہی ہے، اس کے سوا اگر تیسری صورت ہے تو پھر یہ نہایت خطرناک امر ہے۔ یہ تاثر بہرطور موجود ہے کہ نیب کی بے دریغ کارروائیوں کے باعث بیوروکریسی نے ہاتھ اٹھا لیا ہے، کسی معاملے میں کچھ نہ کرنے کی پالیسی جاری ہے مگر اسطرح کی ہدایات کو تو تحریک انصاف حکومت کے خلاف سازش ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ماسوائے مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان سب وزرا اور حکومتی رہنمائوں نے پیمرا کے اس عمل کو ہدف تنقید بنایا مگر خیر سے حکومت ایک مذاق بن کر رہ گئی۔ اس سے پہلے ہم یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان پر غیر اعلانیہ پابندی تھی اور میڈیا انکو کوریج نہیں دے رہا تھا مگر جب وزیر اعظم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نہ صرف حیرانگی کا اظہار کیا بلکہ اسکی بھرپور تردید بھی کی۔ سوال یہ ہے کہ پھر کون ہے جس کی ہدایات پر سکوت چھا جاتا ہے اور حکومت تک  لا علم ہوتی ہے؟ ویسے آپس کی بات ہے کہ میڈیا کی آزادی کسی کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اگرچہ اس میں خاصا کچھ ہاتھ میڈیا کا بھی ہے مگر تحریک انصاف کے ماضی کو سامنے رکھا جائے تو یہ واضح ہے کہ تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔ اسی طرح کا معاملہ ن لیگ کا بھی ہے، جب میاں نواز شریف کی حکومت تھی تو میڈیا کے پر کاٹنے کی منصوبہ بندی متعدد بار کی گئی مگر اب بحیثیت اپوزیشن جماعت میڈیا کی آزادی کی مکمل حمایت کرتی ہے، تحریک انصاف جب اپوزیشن میں تھی تو اسکا موقف بھی قطعی مختلف تھا۔ پیپلز پارٹی کے بارے میں اس حوالے سے رائے کچھ مختلف ہے کیونکہ پی پی نے کبھی میڈیا پر براہ راست قدغن لگانے کی کوشش نہیں کی، ہاں یہ ضرور ہوا کہ ناپسندیدگی کی بنیاد پر کچھ چینلز پر رہنمائوں نے آنا بند کر دیا مگر پابندی کی بات نہیں کی گئی۔
خیر جناب جب یہ سطور آپ تک پہنچیں گی ڈیڈ لائن ختم ہونیوالی ہو گی، میرے خیال میں مولانا کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے براہ راست تصادم کا خطرہ ہو۔ اگرچہ تقریر میں انہوں نے عوام کے سمندر کو وزیر اعظم کی گرفتاری کا شوشہ ضرور چھوڑا ہے مگر اسے صرف سیاسی تقریر ہی جانا جا سکتا ہے۔ حکومت مولانا کی اس تقریر کو بغاوت قرار دیکر عدالت میں لے جانا چاہتی ہے، مجھے نہیں لگتا کہ یہ معاملہ اتنا سنجیدہ ہے اگر ایسا سمجھا بھی جائے تو پھر 126 دن کے دھرنے میں ایسے 504 مقدمات قائم ہو چکے ہوتے کیونکہ کپتان کنٹینر سے اس سے کہیں زیادہ سنگین ارشادات سے نوازتے تھے جس میں بلوہ، حملہ حتی کہ سول نافرمانی تک شامل تھے۔ سیاسی معاملات عدالتوں پر ڈالنے کے بجائے انہیں  سیاسی فورمز پر حل کرنا چاہیئے۔ اس دھرنے میں بھی فوج کا تذکرہ تھا اس دھرنے میں بھی ہے، اس دھرنے میں بھی معاہدہ تھا اس میں ہے، دونوں دھرنوں میں عدالتی احکامات بھی تھے، گرج چمک، حکومت گرانے کے عزائم، عوامی جذبات کی نمائندگی، قسمت بدلنے کی پیشگوئیاں، نجات دہندہ ہونے کا تاثر، وفاقی دارلحکومت محصور، شہریوں کی پریشانی، سیاسی انتشار، خاصا کچھ ایک ہی جیسا ہے، جب احتجاج کرنا آپکا جمہوری حق تھا تو اب اپوزیشن کا کیوں نہیں؟
مجھے لگتا ہے کہ سیاسی استحکام ہماری قسمت میں نہیں، جب جب جمہوری حکومت ہوتی ہے سیاسی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھٹتی ہے۔ حکومت گرانے کا جمہوری طریقہ صرف اور صرف یہ ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں تمام اسمبلیوں اور سینیٹ سے استعفیٰ دیدیں، یہ سیاسی خلا دوبارہ انتخابات کی راہ ہموار کر سکتا ہے اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ جمہوری نہیں بلکہ غیر جمہوری قوتوں کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا۔ مجھے لگتا ہے اپوزیشن اس حقیقت کو بخوبی جانتی ہے اور ایسی کوئی غلطی نہیں کریگی جس سے جمہوریت ایک مرتبہ پھر پٹری سے اتر جائے، ستر سال کا نصف ایسی غلطیوں سے بھرا ہوا ہے جس سے ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا، بقول حبیب جالب
مدتیں ہو گئیں خطا کرتے
شرم آتی ہے اب دعا کرتے 
 

تازہ ترین خبریں