07:39 am
آہستہ آہستہ واپسی!

آہستہ آہستہ واپسی!

07:39 am

٭معاملہ وہیں، دو دن گزر گئے، استعفا نہ ملاO’’ملک کو بند کر دیا جائے گا‘‘ فضل الرحمنO برطانیہ: اسحق ڈار کی گرفتاری سے انکارO مقبوضہ کشمیر کرفیو: 93 روز گزر گئےO شہباز شریف ’جمعہ جنج نال‘ ہے۔ اسے سرخاب کے پَر نہیں لگے ہوئےO کرتار پور راہداری: یاتریوں کے پاسپورٹ کی شرط ختم، وزارت داخلہ پریشانO وزیراعظم عمران خاں 11 نومبر کو فرانس جائیں گےO مصر: داعش کا نیا سربراہ، ابوابراہیم الہاشمی، القریشیO شاہد خاقان عباسی بھی ہسپتال میں، ہرنیا کا آپریشنO نوازشریف، شوگر، خون کے خلیے، گردے، دل، کچھ بھی کنٹرول نہیں ہو رہا۔
 
٭مولانا فضل الرحمن نے عمران خاں کو استعفا دینے کے لئے دو دن کی مہلت دی تھی، استعفا نہیں آیا، بات وہیں رہ گئی! قارئین کرام! ملک ایسے جنجال میں پھنس گیا ہے کہ کسی کو سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا ہونے والا ہے۔ مولانا فضل الرحمن خود بھی ایسے مقام پر آ گئے ہیں کہ انہیں آگیے جانے کا راستہ نہیں سوجھ رہا۔ ایک دن اعلان کیا کہ اسلام آباد کے ڈی چوک پرقبضہ کریں گے۔ اگلے روز بیان آیا کہ ڈی چوک بہت چھوٹا ہے، موجودہ کھلا میدان بہتر ہے۔ کئی روز سے اعلان ہو رہا تھا کہ اسلام آباد پر قبضہ کے لئے ڈی چوک ہی مرکز بنے گا۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں مسلح سول فورسز اور پولیس نے فلیگ مارچ کیا تو مولانا کا آزادی مارچ جہاں تھا وہیں رک گیا۔ ڈی چوک کی چار پائی چھوٹی نکل آئی، انگور کھٹے تو تھے، چھوٹے بھی نکل آئے، سو موجودہ کھلے میدان کا ہی بڑا پلنگ بہترقرار پایا! دوسری طرف بلاول زرداری اور شہباز شریف جس طرح مولانا کے سایہ عاطفت میں آئے، ساری وفاداریاں قدموں پر ڈھیر کر دیں اور پوچھا کہ ’’یا اخی! ہم کشتیاں تو نہیں جلا سکے، اپنی اپنی پارٹیوں کی تاریخ، کام، شہرت پیچھے چھوڑ آئے ہیں! ہمارے کانوں میں خبر ڈال کہ اب کیا کرنا ہے؟‘‘ راوی لکھتا ہے کہ مولانا ان غیر مترقبہ وفاداریوں پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ گھر جا کر اگلی ہدائت کا انتظار کرو! تب یوں ہوا کہ مولانا نے وزیراعظم کو استعفا دینے کے لئے ازراہ راہ مروت و عنائت دو دن کی مہلت دے دی۔ مخلوق گھڑیاں گننے لگی، صبح ہوئی، دوپہر اور شام ہوئی، پھر صبح دوپہر اور شام ہوئی، خلق خدا وزیراعظم کو اس سے گھر گھسیٹ کر گرفتار کرنے کی خبروں کے انتظار میں محو ہوئی۔ رات گزر گئی، کچھ بھی نہ ہوا تو ’کرفیو‘ کے صدر مقام سے اطلاع آئی کہ دو دن مزید بڑھ گئے ہیں،’ ’یَس سَر، یَس سر‘‘ پارٹیوں کے رہنمائوں کو پھر طلب کر لیا گیا ہے کہ غیر منتخب فضا میں منتخب عناصر کی حاضری بہت خوش کن دکھائی دیتی ہے۔ ویسے جو کچھ ہو رہا ہے کیا اس کے پیچھے فوج کے ترجمان جنرل آصف غفور کا ’’موڈ‘‘ دکھائی نہیں دے رہا ہے؟ تیز بھاگتے ہوئے اچانک کیوں لڑ کھڑا گئے؟ اور ستم کہ چھوٹے میاں بلاول نے اعلان کر دیا کہ دھرنے میں شرکت نہیں کریں گے! سنبھال مالی باغ اپنا، ہم تو اپنے گھر چلے!!
٭مگر پھر ادھر اونچی پہاڑیوں کے گھونسلوں کے مکین کوے اور چڑیاں! تین دن سے ’’ڈیزل‘‘ ’’چور‘‘ کے کسی راگ کی آواز نہیں آئی۔رستم شُدی یہ ہوئی کہ وزیراعظم نے وزارت اطلاعات کے کنارے پر بیٹھی خاتون فردوس عاشق اعوان کی کارکردگی کی تعریف کر دی۔ راوی بیان کرتا ہے کہ اس پر سابق وزیراطلاعات فواد چودھری نے بہت بے چین دن گزارا!
٭قارئین کرام، ذرا سانس لینے کا وقفہ! چودھری شجاعت حسین نے دو پُرلطف باتیں کہہ دیں کہ شہباز شریف آزادی مارچ میں ’’جمعہ جنج نال‘‘ بنا ہوا ہے۔ اسے سرخاب کے پَر تو نہیں لگے ہوئے۔ میں عرصے سے یہ دونوں نام سنتا آیا ہوں۔ سرخاب کا تو کچھ اندازہ تھا کہ کیا ہوتا ہے، مگر جمعہ جنج نال کے معانی کا کچھ اندازہ نہیں تھا۔ یہ الفاظ دلچسپ لگتے ہیں۔ گزشتہ روز چودھری شجاعت حسین نے شہباز شریف کے لئے ایک ہی جملے میں دونوں نام استعمال کئے تو دونوں کے اصل معانی کی تلاش شروع ہوئی۔ گھر میں تین اُردو کی اور تین انگریزی کی ڈکشنریاں ہیں۔ حیرت کہ کسی سے میں ان الفاظ کا ذکر نہیں تھا۔ مگر فیس بُک پر دونوں مل گئے۔ دلچسپ باتیں ہیں۔ ’’جمعہ جنج نال‘‘ ایسے غیررشتہ دار شخص کو کہتے ہیں جو شادی کی ہر بارات میں جا کر آگے آگے چلتا ہے، ہر کسی کے معاملہ میں دخل دیتا ہے اور بارات والوں کو اپنے پرانے تعلقات بتاتا ہے، قارئین خود سوچ بچار کر لیں کہ چودھری شجاعت حسین نے شہباز شریف کو یہ تاریخی نام کیوں دیا ہے؟
اب سرخاب کی بات! ایک بہت اہم بات آخر میں آئے گی پہلے پرندے کا تعارف۔ یہ مختلف خوبصورت چمک دار رنگوں والا پرندہ ہے۔ صرف نہ ایشیا اور جنوبی یورپ کے گرم مرطوب علاقوں میںرہتا ہے۔ آواز بہت سُریلی ہے۔ تقریباً دو فٹ تک لمبا ایک کلو گرام وزنی! جسم اورنج (سنگترہ) رنگ کا، دم سیاہ چمکیلی، زرد رنگ کا سَر، پر بھی کالے، ٹانگیں بُھوری، مادہ گھونسلہ بناتی ہے وہی بچے پالتی ہے۔ (نَر نکھٹو!)، ایک وقت میں 15 تک انڈے دیتی ہے۔ اس پرندے کو سرخاب کہتے ہیں مگر اس میں سُرخ رنگ نہیں ہوتا۔ ایک دلچسپ بات کہ کبھی کوئی دشمن گھونسلے کے نزدیک آئے تو مادہ سرخاب اس کا مقابلہ کرتی ہے۔ کمزور پڑنے لگے تو نَر سرخاب کے گرد چکر کاٹنے لگتی ہے۔ وہ کبھی مادہ کے ساتھ آ کر دشمن سے لڑتا ہے مگر زیادہ تر سویا رہتا ہے۔ اب وہ خاص بات کہ پرندوں کی یہ واحدقسم ہے کہ نَر اور مادہ سارا دن اکٹھے گزارتے ہیں مگر رات کے وقت علیحدہ ہو جاتے ہیں! میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ چودھری شجاعت نے شائد اسی پہلو سے بھی شہباز کے لئے سرخاب کا حوالہ دیا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن کو اپنی باتوں سے خوش کر کے رات کو گھر چلے جاتے ہیں۔
٭قارئین کرام! بڑی جرأت کر کے اور بہت بڑا رسک لے کر ایک عجیب سی حقیقت بیان کر رہا ہوں کہ مستند حقائق کے مطابق مرد عورت سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے! دلیل اس بات کی پرندوں وغیرہ سے لی گئی ہے کہ نَر مَور، مُرغا، ببر شیر، سُرخاب، بھینسا وغیرہ اپنی مادہ سے زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں! یہی بات مردوں کے بارے میں بھی جواز بنتی ہے۔ (خدا خیر کرے!)محترم قارئین! میںنے عورتوں کے مقابلہ میں مردوں کو خوبصورت قرار دے کر بِھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ پتہ نہیں خواتین میرے ساتھ کیا سلوک کرتی ہیں؟ میرے لئے دُعا کریں!
٭دیر سے ملنے والی ایک خبر: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے تھر پارکر کے شہر اسلام کوٹ میں جلسہ سے خطاب کیا۔ جلسہ شروع ہونے سے کچھ پہلے اس پرٹڈی دَل نے ہلہ بول دیا۔ لاکھوں کروڑوں ٹڈیاں گھنے بادل کی طرح آئیں اور جلسہ گاہ کی خالی کرسیوں اور سٹیج پر چھا گئیں۔ ٹڈیاں فصلوں کے لئے نہائت خطرناک ہوتی ہیں۔ صحرائوں کی ریتلی زمین پر پیدا ہوتی ہیں۔ مادہ ٹڈیاں اپنی دم کی نوک سے ریتلی زمین میں سوراخ کر کے اس میں انڈے دیتی ہیں۔ ان انڈوں سے نکلنے والی ٹڈیاں بڑے بڑے گروہوں کی شکل میں فصلوں پر حملہ کر دیتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے دور دور تک فصلیں چٹ کر جاتی ہیں۔ اِن کا پیٹ نہیں بھرتا۔ مسلسل کھاتی چلی جاتی اور پیٹ سے نکالتی جاتی ہیں۔ ٹڈیوں کے گروہ میں تقریباً آٹھ کروڑ تک ٹڈیاں ہوتی ہیں۔ ایک دلچسپ تحقیق یہ ہے کہ ٹڈی میں مختلف جانوروں کی دس خصوصیات پائی جاتی ہیں ان میں گھوڑے کا منہ، ہاتھی کی آنکھ، بارہ سنگھے کا سینگ، بیل کی گردن، اونٹ کی ران، شتر مرغ کی ٹانگ، گِدھ کے پَر، سانپ کی دُم، شیر کا سینہ اور بچھو کا پیٹ شامل ہیں۔ ٹڈی دل دنیا بھر کے لئے مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ ٹڈیاں ریگستانوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ تھرپارکر اور راجستھان کے صحرا ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ ان میں کثرت سے ٹڈیاں پیدا ہوتی ہیں جو سرحد کے دونوں طرف آتی جاتی رہتی ہیں۔ انہیں صحرا میں کچھ کھانے کو نہیںملتا تو زرخیز علاقوں میں فصلوں پر حملہ کر دیتی ہیں۔ ہر ملک میں صرف ٹڈیوں کو تلف کرنے کے خاص محکمے سال بھر صحرائوں میں سپرے کرتے رہتے ہیں۔ بھارت نے اس سال دلچسپ الزام لگایا ہے کہ پاکستان ٹڈیاں پیدا کر کے انہیں بھارت بھیج دیتا ہے۔

 

تازہ ترین خبریں