07:43 am
 احتجاج۔ جلسے۔ جلوس اورہائبرڈ وار 

 احتجاج۔ جلسے۔ جلوس اورہائبرڈ وار 

07:43 am

احتجاج ۔ جلسے ۔ ریلیاں۔ جلوس اور دھرنے اگرچہ جمہوریت میں ایک پاپولر گیم ہے لیکن احتجاج کسی عوامی ایشو پر ہو تویقینی طور پر اسے جمہوری احتجاج کہاجائیگا لیکن اگر احتجاج حکومت گرانے اور وزیراعظم سے استعفیٰ طلب  کرنے  کے لیے ہو تو اس کے مقاصد یقینی طورپر مختلف ہوتے ہیں۔ اور پھر احتجاج کی ٹائمنگ بھی خاص طورپر اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے جب احتجاج کا اعلان کیا گیا تو دو بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے بالخصوص نومبرمیں احتجاج کرنے کو کہا اورجناب فضل الرحمن سے بھی کہا کہ 27 اکتوبر کی بجائے نومبر کے وسط تک ملتوی کریں مگر انہوں نے اسی تاریخ پر اصرار کیا۔ اور 27 اکتوبر سے کراچی سے جلسہ شروع کرتے ہوئے آزادی مارچ لے کر روانہ ہوئے اور 31اکتوبر کی رات اسلام آباد میں نواز لیگ سے جناب شہباز شریف اورپیپلزپارٹی سے جناب بلاول بھٹو نے رات گئے خطاب بھی کیا ۔
اُدھر ہمارے پڑوس میں بھارت نے 31 اکتوبر کو ہی جموں کشمیر اورلداخ کے سلسلے میں کی جانے والی آئینی ترمیم  کوعملی جامہ پہناتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو یونین ٹیرٹیری ڈکلیئر کرتے ہوئے وہاں کی صوبائی اسمبلی کے تمام اختیارات سلب کرلئے لیفٹیننٹ گورنر مقرر کردیا اور دیگر بھارتی باشندوں کیلئے مقبوضہ جموںو کشمیر میں بزنس اور جائیداد خریدنے کے دروازے کھول دئیے ۔ مقبوضہ کشمیر کا جھنڈا بین کرکے صرف ترنگا لہرانے کا حکم نافذ کردیا ۔ اور اس کا آئندہ قدم آزادجموں وکشمیر  کومتنازعہ بنانا ہو گا۔ یہ سب کچھ ہو گیا مگر کشمیر کی حمایت میں تقریر یں کرنے والوں میں سے کسی نے اس پر نہ احتجاج کیا نہ یوم سیاہ بنایا گیا نہ کوئی ریلیاں نکلیں کیونکہ ہم تو سب جناب فضل الرحمان کے دھرنے میں مصروف تھے۔ابتدا میں جناب فضل الرحمن نے محض ایک جلسے کا عندیہ دیا تھا مگر اب شاید وہ دھرنے کے موڈ میں ہیں اور ابھی جو اتوار کے روز انہوں نے تقریر کی وہ خاصی قابل غور ہے۔ کیا یہ دھرنہ یا احتجاج پھر کوئی مذہبی یا دینی احتجاجی جلوس کی شکل اختیار کرنے کو ہے طے شدہ امور کو نئے سرے سے کھول کر آخر ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ملک کی اکانومی پہلے ہی وینٹی لیٹر پر ہے کیا ہماری معیشت یہ سب Stand Still برداشت کرپائے گی ۔ کیا ہمارے سیاسی رہنما غیر محسوس انداز میں ہائبرڈ وار کا حصہ بن رہے ہیں کیونکہ تقریروں میں جس طرح اداروں کو نشانہ تنقید بنایا جا رہاہے وہ کسی طرح بھی قومی اور ملکی مفاد میں نہیں ۔ہائبرڈ وار کا بنیادی وار ہی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے ہوتا ہے اور ساتھ ہی ایسے اداروں کو متنازعہ اورکمزور کرنا جو ملکی اتحاد اور ملکی تحفظ کے ضامن ہوتے ہین ۔ ملک میں کاروبار اب سنبھلنا شروع ہوا ہے ۔ معیشت بہتر ہونے کے آثار پیدا ہو رہے ہیں انوسٹمنٹ کیلئے صورت حال بہتر ہونے لگی تھی لیکن کراچی سے اسلام آباد اور کے پی کے تک اس جلوس نے پھر خاموشی طاری کردی ہے ۔ میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا  ما  سوائے دھرنے کے اور کوئی موضوع نہیں۔ بیان۔ جوابی بیان الزام ۔ جوابی الزام کی سیاست ہی کا فرما ہے ۔ کسی کو شاید یہ ادراک ہی نہیں ہو پا رہا کہ وہ غیر محسوس انداز میں ہائبرڈ وار کے لیے گرے زون بنا رہے ہیں۔ بلوچستان میں معدنیات نکالنے کے لیے ہم انٹرنیشنل فرموں سے معاہدے کرنے جا رہے تھے۔ سی پیک پر کام کی رفتار کو فاسٹ تحریک پر لانے کا پلان تھا لیکن یہی ہمارے بدخواہوں کو گوارا نہیں ہوا اور انہوں نے ایک کائونٹر پلان شروع کروا دیا ۔ اور ہمیں خود پتہ نہیں ہم کس گیم پلان کا حصہ بن رہے ہیں کیا یہ ممکن ہے کہ حکومت ادارے اوراپوزیشن مل کر اس پر بیٹھیں غور کریں اور ایک بہتر لائحہ عمل تلاش کرکے اس پر عمل پیرا ہوں وطن عزیز اب مزید افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ خارجہ ا مور صرف وزارت خارجہ کی domain نہیں اس پر سب سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے اسی طرح معیشت پر بھی سب کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنے میں ہی بہتری ہے ۔ رواداری اور برداشت سے ہی معاملات سلجھیں گے وگرنہ عدم برداشت تو گرے زون ہموار کرتی رہے گی۔ نیلسن منڈیلا نے 27 سال قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن آزاد ہو کر صدر بنا تو درگذر اور معافی کے لیے ایک کمیشن بنایا اور ایک بگڑی ہوئی قوم کو راہ راست پر لے آیا۔ اس نے ملک کو سنوار دیا۔
 

تازہ ترین خبریں