08:53 am
 چناب اور جموں سے مسلم آبادی کا صفایا کیاگیا

چناب اور جموں سے مسلم آبادی کا صفایا کیاگیا

08:53 am

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جبری پابندیوں، لاک ڈائون اور بدترین مظالم کے 94ویں روز آج چناب، پیر پنچال اور جموں خطوں کے ان شہداء کو خراج عقیدت آج پیش کیا جا رہا ہے جنھیں 1947میں آج ہی کے دن شروع ہونے والے قتل عام کے دوران تہہ تیغ کیا گیا۔آج مقبوضہ ریاست  میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال ، ریاستی دہشت گردی کے دوران قربانیوں کی نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ کشمیری دنیا کی ایک نڈر ،بہادر اور باوقار قوم کے طور پر منظر عام پر آئے ہیں۔جو بھارت کی طاقت کے سامنے سرینڈر کرنے کو ہر گز تیار نہیں۔ قربانیوں کا تسلسل ہے۔ ایسے میںشہدائے جموں کی یاد نومبر کی آمد کے ساتھ ہی تڑپا کر رکھ رہی ہے۔ زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔کئی حریت پسندشخصیات ان واقعات کی چشم دید گواہ ہیں۔ان کی آنکھوں میںخون کے آنسو  بہتے دیکھے ہیں ۔ آزادکشمیر لبریشن سیل کے سابق سیکریٹری عبدالرشید ملک مرحوم کے سامنے ان کی اہلیہ اور دیگر عزیز و اقارب کوشہید کیا گیا ۔ راولپنڈی پریس کلب کے سابق سیکرٹری اور صحافی قیوم قریشی مرحوم کے خاندان کے کئی افراداورلبریشن فرنٹ کے سابق چیئر مین ڈاکٹر فاروق حیدر مرحوم کے بھائی بھی شہدائے جموں میں شامل ہیں۔چند افراد آج بھی زندہ ہیں جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے پیاروں کے گلے کاٹے گئے۔
92سالہ بزرگ صحافی اور دانشور قیوم قریشی مرحوم نے چشم دید واقعہ یوں بیان کیا، ’’ اس زخم کی کہانی کا آغاز جمعرات6 نومبر 1947 ء کو صبح تقریباً دس بجے جموں شہر کے چار ہزار سے زیادہ مسلمانوں سے بھرے ہوئی بسوں اور ٹرکوں کی پولیس لائنز جموں سے روانگی کے ساتھ ہوا ان لوگوں کو یہ جھانسہ دیا گیا تھا کہ انہیں ٹرکوں اور بسوں کے ذریعے سوچیت گڑھ پہنچا دیا جائے گا، جو سیالکوٹ اور جموں کے درمیان سرحدی قصبہ ہے۔ یہ اس طرح کا دوسرا قافلہ تھا جو جموں سے روانہ ہوا تھا اس سے ایک دن پہلے یعنی بدھ 5 نومبر 1947 ء کو بھی سیالکوٹ پہنچانے کے جھانسے کے ساتھ روانہ کیا گیا تھا، اس قافلے کا کیا حشر ہوا تھا وہ ایک الگ داستان ہے۔ پہلے قافلے میں تو میں شامل نہیں ہوسکا تھا لیکن دوسرے دن میں نے کسی نہ کسی طرح ایک بس کی چھت پر جگہ حاصل کرلی اور پھر وہ پورا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا جو قافلے کے مسافروں کے قتل عام کی صورت میں ڈوگرہ اور بھارتی فوجیوں اور ہندوؤں اور سکھوں نے رچایا تھا اور جموں میںبشناہ جانے والی سڑک پر نہر کے کنارے صبح گیارہ بجے سے تین بجے سہ پہر تک جاری رکھا تھا۔‘‘
5اگست کے بھارتی اقدامات کے بعد کشمیرآج بھاری جارحیت ، خطے کی جابرانہ تقسیم، ریاست کو ڈی گریڈ کرنے ، پابندیوں، مواصلاتی کریک ڈائون کے دوران  مزاحمت کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔نئے جارحانہ قوانین 31اکتوبر کو نافذالعمل ہو چکے ہیں۔ ریاستی دہشتگردی اور رہائشی گھروں کو بارود سے اڑانے کے واقعات اور کیمیکل زہریلے اسلحہ کے استعمال کے باوجود عوام گلی کوچوں، سڑکوں اور چوراہوں میں بھارتی فورسز کے ساتھ بر سر پیکار ہیں۔ایسے میں نومبر کا مہینہ وارد ہو گیا۔ نومبر کے مہینہ کوکشمیر کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ 1947کو اسی مہینے جموں ڈویژن کے لاکھوں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی اور اس مسلم اکثریتی خطے کے مسلمانوں کواقلیت میں بدل ڈالا گیا۔چشم فلک نے پھرایسا وقت بھی دیکھا جب جموں کے غیر مسلموں نے شدید مظالم سے دوچار وادی کے عوام کی ناکہ بندی کی اور وادی میں روتے بچوں کو دودھ اور تڑپتے مریضوںکو ادویات سے محروم کر دیا۔گزشتہ73سال سے کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے۔جس خطے کی فضائیں اللہ اکبر کی صدائوں سے معطر ہوتی تھیں وہ آج مندروں کا شہر کہلاتا ہے، بھجن اور گھنٹیوں کی چیخ و پکارپر زمین بھی رو رہی ہے۔ قیام پاکستان کی بڑی سزاکشمیر بالخصوص جموںکے مسلمانوں کو ملی۔چند دنوں میں3لاکھ انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا گیا۔سٹیٹس مین ا خبار کے ایڈیٹر آئن سٹیفن کی کتاب’’ ہارنڈ مون‘‘Horned Moon،کشمیر ٹائمز کے مدراسی ایڈیٹرجی کے ریڈی اور لنڈن ٹائمز نے تصدیق کی کہ اکتوبراور نومبر1947ء کو جموں اور اس کے نواح میں اڑھائی لاکھ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔مغربی  مصنف آلسٹر لیمب نے اپنی کتاب ’’ان کمپلیٹ پارٹیشن‘‘ Incomplete Partitionمیںلکھا کہ ہندو شرپسندوں کی لوٹ مار کے دوران بستیوں، بازاروںاور350 مساجد کو آگ لگا دی گئی۔ جموں ضلع میں 1941 ء میںمسلمان کل آبادی کا 60 فیصد تھے اور 1961ء میں وہ صرف 10 فیصد رہ گئے۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں