08:55 am
آج اسلام آباد کا موسم!تیز سردہوائیں، بارش!

آج اسلام آباد کا موسم!تیز سردہوائیں، بارش!

08:55 am

٭کور کمانڈرز کا اجلاس۔ انتباہ، امن خراب نہیں ہونے دیں گے: جنرل باجوہ!O شدید سردی، کھلا آسمان آزادی مارچ کے شرکا، نزلہ، زکام، بخارO مریم نواز، ضمانت، پاسپورٹ9 کروڑ روپے جمعO جے یو آئی 15 ارکان اسمبلی کے استعفےO مولانا کی کل پارٹیز کانفرنس، شہباز، بلاول نہیں آئے۔O آصف زرداری، طبیعت زیادہ خراب، ہاتھ پائوں سُنO خورشید شاہ وہیل چیئرپر۔
 
٭بہت سی باتیں جمع ہو گئی ہیں۔ پاک فوج کے کور کمانڈرز کے اجلاس میں آرمی چیف نے دوٹوک الفاظ میں انتباہ کیا ہے کہ پاک فورسز اور قومی اداروں (پولیس وغیرہ) نے بہت سی قربانیوںکے بعد ملک میں جو امن قائم کیا ہے، اسے ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس انتباہ کی ضرورت کیوں پڑی؟؟۔ اس لئے کہ اسلام آباد میں دھرنا دیتے وقت مولانا فضل الرحمان نے واضح الفاظ میں اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کیا تھا کہ وہ آزادی مارچ کے جم غفیر کو روک کر دکھائے۔ قارئین جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے مراد صرف فوج کو لیا جا رہا ہے۔ سیاسی لوگ جب بھی یہ لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا واضح مطلب فوج ہوتا ہے۔ حکومت کے ساتھ معاہدہ میں طے پایا تھا کہ دھرنے میں کوئی ڈنڈا یا اسلحہ نہیں جائے گا۔ یہ بات خود مولانا کی طرف سے دھرنے کے شرکاء کو جاری ہونے والی ہدایات میں بھی شامل تھی، مگر اب اس مجمع میں تقریباً 30 ہزار (خود مولانا کے بقول)) لاٹھیاں لہرائی جا رہی ہیں اور انقلاب فرانس کی طرح ہلہ بول کر وزیراعظم کو بنی گالہ کے گھر سے گھسیٹ کر گرفتار کرنے کے اعلانات شروع ہو گئے تو فوج نے سنگینی کا سخت نوٹس لیا، پہلے اسلام آباد میں فلیگ مارچ ہوا، اب آرمی چیف کا انتباہ!
٭اب صورت حال یہ بنائی جا رہی ہے کہ کوئی سیاست دان یا وڈیرہ انتخابات میں ہار جائے تو وہ اپنی پارٹی کے کارکنوں یا مزارعین کا لشکر جمع کر کے اسلام آباد پر حملہ کر دے اور حکومت پر قبضہ کر لے۔ یہ عمل ماضی میں بار بار دہرایا گیا اور ہر بار ناکام ہوا۔ 1990ء کے عشرہ میں قاضی حسین احمد نے وزیراعظم نوازشریف سے مطالبہ کیا کہ حکومت ہمارے حوالے کر دو۔ مطالبہ نہ مانا گیا تو راولپنڈی میں لیاقت باغ سے ’’حریت پسندوں‘‘ کا لشکر لے کر اسلام آباد کی طرف بڑھے مگر وہیں پر پولیس سے ٹکرائو ہوا اور تین افراد جاں بحق ہو گئے تو اسلام آباد پر حملہ وہیں ختم ہو گیا۔ 1999ء میں بھارت کا وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی ’’جنگ نہ ہونے دیں گے‘‘ کے نعرے لگاتا لاہور کے گورنر ہائوس میں آیا تو جماعت اسلامی کے لشکر نے ایک بار پھر گورنر ہائوس پر ہلہ بول دیا، پھر ایک کارکن کی جان کی قربانی دے کر لشکر واپس چلا گیا۔ عمران خاں کا 126 روز کا اور اس کی بغل میںڈاکٹر طاہر القادری کے بے مقصد نمائشی دھرنے! ان کے باعث چین کے صدر کا دورہ منسوخ ہو گیا، ملکی معیشت ٹھپ ہو گئی، آج تک بحال نہیں ہو سکی۔ ان دھرنوں کے دوران پارلیمنٹ، وزیراعظم ہائوس، ٹیلی ویژن سٹیشن اور تھانوں پر باقاعدہ حملے اور توڑ پھوڑ ہوئی۔ پولیس افسروں کی پٹائی کی گئی۔ اسلام آباد میں شدید سردی تھی۔ بارش اور اولے بھی برسے۔ دھرنوں کے تقریباً تمام شرکاء سخت سردی سے مختلف بیماریوں کے شکار ہو گئے (جیسے اب ہو رہے ہیں) اس دوران عمران خاں روزانہ شام کو تھوڑی دیر کے لئے آتے، ’’اوئے نوازشریف! اور ہماری باری آنے دو!‘‘ قسم کے نعرے لگاتے اور پھر بنی گالہ میں جا کر گرم کمبلوں اور لحافوں میں آرام کرتے۔ ڈاکٹر طاہر القادری اپنے دھرنا شرکا کی حالت زار پر دکھ کا اظہار کرتے کرتے اپنے نہائت آرام دہ پرتعیش گرم کنٹینر میں آرام کرتے اور پھرایک دن اچانک اپنے لشکر کو وہیں چھوڑ کر لاہور اور وہاں سے اپنے نئے مستقل وطن کینیڈا چلے گئے۔ عمران خاں نے ایک روز اچانک سول نافرمانی کا اعلان کر دیا اور حکم جاری کیا کہ کوئی شخص بجلی کے بل جمع نہیں کرائے گا۔ انہوںنے کنٹینر پر کھڑے ہو کر اپنے بنی گالہ والے گھر کے بجلی کے بلوں کی فوٹو سٹیٹ کاپیاں جلائیں۔ اگلے روز ان کی پارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین نے اپنی ساری فیکٹریوں کے بل جمع کرا دیئے اور تیسرے روز ااخری تاریخ پر عمران خاں کے گھر کے بل بھی جمع ہوگئے۔ یہ داستان لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ عمران خاں نے دھرنوں کے جو بیج بوئے تھے، اس کی فصل اب جے یو آئی والے کاٹ رہے ہیں۔ وہی انداز، وہی اوئے توئے، وہی دھمکیاں، وہی نعرے! وہی اچھل کود! تحریک انصاف والے کنٹینر پر گاتے بجاتے (وزیراعلیٰ کا رقص!)، جے یو آئی کھلے میدان میں ایک ٹانگ پر ددوڑنے اور چھون چھپائی قسم کے کھیل کھیلتے ہیں۔
٭سردی بڑھ رہی ہے اسلام آباد میں گزشتہ روز 90 افراد ہسپتال پہنچے، خدانخواستہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق منگل کے روز مغربی سرد ہوائیں پاکستان میں داخل ہو چکی ہیں، محکمہ کی پیش گوئی کے مطابق آج اسلام آباد میں تیز سرد ہوائیں چلیں گی اور بارش کا امکان ہے، قریبی پہاڑوں پر برف باری بھی ہو گی، اس سے اسلام آباد اور نواح میں سردی مزید بڑھ جائے گی۔ میں ہر قسم کی سیاست اور دانش وری کو ایک طرف رکھ کر پورے خلوص کے ساتھ فکر مند ہو رہا ہوں کہ اسلام آباد میں دھرنا دینے والے اس جم غفیر کا کیا بنے گا جو کسی قسم کے گرم کپڑوں کے بغیر دور تک کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔ گرم کپڑے ہوں بھی تو لحاف اور چھت کا کام تو نہیں دے سکتے۔ عمران خاں کی طرح مولانا اور ان کے ساتھیوں کے لئے تو آرام دہ گرم کنٹینر موجود ہے مگر عام سادہ لوح عقیدت مندوں کا کیا بنے گا؟ جو انٹرویو دیتے وقت کہہ رہے ہیں کہ دھرنے کے مقاصد مولانا جانتے ہیں، ہمیں کچھ پتہ، نہیں ہم تو مولانا کے ساتھ عقیدت اور ان کے حکم پر آئے ہیں اور یہیں بیٹھے رہیں گے!
٭سارا کالم تو دھرنے کی نذر ہو گیا۔ اب کچھ مختصر باتیں: خبر ہے کہ قومی اسمبلی کے جے یو آئی کے 15 ارکان نے اپنے استعفے اپنی قیادت کے پاس جمع کرا دیئے ہیں۔ استعفے دینے کا تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے بھی ایک طریقہ اختیار کیا تھا۔ آئین کے مطابق کوئی رکن مستعفی ہونا چاہے تو اپنے ہاتھ کی تحریر سے استعفا لکھ کر خود سپیکر (یا چیئرمین سینٹ) کو پیش کرتا ہے۔ سپیکر کی منظوری ضروری نہیں، وہ صرف استعفے کی جانچ پڑتال کر کے اس کی تصدیق کرتا ہے اور استعفا خود بخود منظور ہو جاتا ہے۔ تحریک انصاف والوں نے ڈراما کیا۔ ایک  روز گروپ کی شکل میں اسمبلی میں آئے، سپیکر کو استعفوں کی تھیلی پکڑائی اور فرداً فرداً تصدیق کے بغیر چلے گئے۔ سپیکر نے استعفے رکھ چھوڑے۔ تحریک والوں نے اعلان کیا کہ ہم مستعفی ہو چکے ہیں۔ پھر ایک روز آ کر اسمبلی میں بیٹھ گئے اور سات ماہ کی غیر حاضری کی تنخواہیں بھی وصول کر لیں!! دیانت داری! یا قومی خزانے کی لوٹ مار؟ کسی نے کبھی چیلنج نہ کیا!
٭عدالت کہہ رہی ہے کہ مریم نواز کو بیمار والد کی عیادت کے لئے انسانی ہمدردی کی بنا پر ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔ ن لیگ والے کہہ رہے ہیں کہ فیصلہ میرٹ پر ہوا ہے۔ میرٹ کا مطلب ہے کہ کوئی جرم نہیں ہوا، ملزم کو بے قصور قرار دیا گیا ہے، اس پر تو مکمل رہائی ہونی چاہئے، سزا اور ضمانت کیسی؟  مریم نواز کو مکمل صحت مند قرار دیا گیا ہے، انسانی ہمدردی اس کی بیماری کے لئے نہیں، باپ کی بیماری پر ظاہر کی گئی ہے۔ میں اس کی اخلاقی حمائت کرتا ہوں اس توقع کے ساتھ کہ اب ان ہزاروں قیدیوں کو بھی اسی انسانی ہمدردی کے تحت ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا جن کے بوڑھے ضعیف بورھے والدین سخت بیمار ہیں اور ان کی خبر گیری کے لئے کوئی فرد موجود نہیں۔ ویسے نوازشریف کی دوسری بیٹی بھی ہے، اسے کیوں نہیں باپ کی تیمارداری کے لئے بلایا جاتا؟ عدل و انصاف کے تمام اصول ہر شخص کے لئے یکساں ہوتے ہیں۔ اصول کے ذکر پر ایک پرانا لطیفہ یاد آ گیا ہے۔ دو نواب ’الف‘ اور’ ب‘ ہمسائے تھے۔ الف کی بکری نے ب کے گھر سامنے مینگنیاں کر دیں۔ ب نے عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر دیا۔ وہ مقدمہ ہار گیا۔ محلہ والوں نے کہا کہ ہم نے تو پہلے کہا تھا کہ ہار جائو گے، مقدمہ واپس لو! نواب بولا کہ مُورکھو! تم سمجھ نہیں رہے۔ آج ایک بہت بڑا اصول طے ہو گیا کہ آئندہ ہماری بکری نواب الف کے گھرکے سامنے مینگنیاں کرے گی تو وہ عدالت میں نہیں جا سکے گا!

تازہ ترین خبریں